09:21 am
عقیدہ ختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت

09:21 am

’’وحی‘‘ اور ’’نبوت‘‘ کی عظمتوں اور وسعتوں نے حضورﷺ کو شخصی اور اجتماعی لحاظ سے تمام زمانوں میں ممتاز ترین فرد بنا دیا جب ہی تو آپﷺ ہر زمانے کے لوگوں کے لئے کامل اور اکمل ترین نمونہ بن گئے۔ کامیاب ترین زندگی گزارنے کے لئے اکمل ترین دستاویز حضورﷺ کے قول و بول ہیں۔ ان کی اس رحمتہ للعالمینی کے بعد کس کو زیب دتیا ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے۔ آپ ہی ہیں جو خالق اور مخلوق میں محبوبیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ کے ہر دشمن پر لعنت اور ہر اس غلیظ سوچ پر تف جو کسی گلی کوچے میں پڑے ہوئے کوڑے کو نبوت کے مقام سے جوڑتے ہوئے معاذاللہ معاذ اللہ معاذ اللہ نبی مانے۔ جھوٹوں پر لعنت!
اکملیت ایک دلیل ہے‘ اقبال نے کائنات کی بوقلمونیوں میں غوروفکر کے بعد برملا اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ’’یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دمام دم صدائے کن فیکون ‘‘۔حکیم الامت کے وجوو کے اندر خودی کی کرامت بے تاب ہوئی اور وہ کہہ بیٹھے۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
پیغام کی وسعت نبوت کااختتام:رسول اکرم ﷺ کی ’’ختم نبوت‘‘ کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صرف اور صرف حضورﷺ ہیں‘ جنہیں اللہ تعالیٰ نے جمیع انسانیت کا امام قرار دیا ارشاد فرمایا:ترجمہ : ’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ (158/7)
ایک دوسرے مقام پر آپ کو جمیع انسانیت کے لئے رسول قرار دیا گیا۔ارشاد فرمایا:ترجمہ :’’اور اے حبیب! ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر۔(34/28)
قرآن مجید نے حضورﷺ کی امامت کے بارے  صاف طور پر ارشاد فرمایا کہ وہ ہر زمانے کے لوگوں کے لئے پیشوا  ہیں۔
ارشاد ہوا:ترجمہ : ’’اور ان کی نبوت کا فیض ان میں سے دوسروں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے۔‘‘( 3/62)
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے پیغامات کی وسعت ان الفاظ میں بیان فرمایا: ترجمہ :  ’’ اور یہ قرآن جو میری طرف وحی کیا گیا تاکہ میں اس سے تمہیں اور جہاں تک یہ پہنچے تباہ کن احوال سے ڈرائوں۔‘‘
جعل رسالت نعمت ہے: منصب نبوت پر جو بھی فائز ہو وہ مقاصد حیات کی تکمیل کے لئے ہوتا ہے اس لئے نبی خود اپنے دعوے سے نہیں بنتے بلکہ ان کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ انتخاب رسالت کے لئے خاص خاص محل ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: اللہ اپنی رسالت رکھنے کی جگہ کو خوب جاننے والا ہے۔ (124/6)
رسول بننے کے لئے خواہش اور آرزو وسیلہ نہیں اللہ کی عطا اور بخشش کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب رسولوں کو علم‘ فضل سے نوازا لیکن کسی کے پیغام میں وہ وسعت نہیں رکھی جو محمدﷺ کے  پیغام نبوت کا خاصہ ٹھہرایا گیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر‘‘(107/21)
تو شب آفریدی چراغ آفریدم
تو سفال آفریدی ایاغ آفریدم
اس میں شک نہیں کہ کائنات  کا ایک ایک ذرہ ندرت تخلیق کی دلیل اور بربان ہونے کے باوجود کسی ابہام اور تجسس کی کہانی بنے ہوئے ہے۔ خوش رنگ پھول ہیں لیکن ان کی طرف بڑھنے والوں کی انگلیاں فگار کرنے کے لئے کانٹے بھی موجود ہیں۔ بیجوں سے اگنے والے پودوں کی سحر آفرینیاں دعوت نظارہ دیتی ہے  لیکن موسموں کے تھپیڑے  جس طرح فصلوں کو پائمال کر دیتے ہیں عقل دانتوں میں انگلی دبائے کھڑے ہو کر رہ جاتی ہے۔ چاند اپنی جاذبیت کے ساتھ نگاہوں میں شوخی پیدا کرتا ہے لیکن ساتھ ہی دامن فکر پر یہ داغ ابھر جاتا ہے کہ یہ روشنی میں وجود  غیر کا محتاج ہے۔ سورج اپنی روشن کرنوں کا غازہ جب کائنات کے چہرے پر ملتا ہے تو دنیا سجی ہوئی دلہن محسوس ہوتی ہے لیکن یہی سورج جب اپنی تمازت اور حرارت کا تنور گرم کرتا ہے‘ دنیا دوزخ معلوم ہونے لگ جاتی ہے۔ عالم معنی و مفہوم میں ادیب ادب بکھیرتے نظر آتے ہیں لیکن جب انہیں گلستان اخلاق میں دیکھیں تو جیسے شرارتیں ان کے وجود میں  رقصاں ہوں۔ خطیب خطبوں کے رنگ بکھیرتے ہیں لیکن جب میدان سجیں تو ان کے ماتھے پر پسینہ نظر آتا ہے۔ ماہرین ریاست جب اقتدار کا لبادہ اوڑھیں تو لگتا ہے ان کا وجود قاسم الگبینں ہوگا لیکن غور سے دیکھو تو وہ اپنا تخت سکندری انسانی گرونوں پر لادے ہوتے ہیں۔ دنیا کا اصل پیشوا وہی ہوگا جس میں خوبیوں کا ہر رنگ ہو اور جب کمالات کا ہر بسیرا اس کی زندگی میں دمکتا محسوس ہو تو سمجھو کائنات کا اصل محسن وہی ہے۔
تمام انبیاء اور مرسلین کو سلام اور ہر خیر اور ہر نیکی کا اعتراف لیکن اسود کاملہ کا سورج کہاں چمکا‘ سیرت طیبہ کی خوشبو کہاں مہکی‘ خلق عظیم کا رنگ ابھرا‘ کرامت شخصی کا عرش کہاں اٹھا‘ حکمت اجتماع کی اذاں کہاں گونجی‘ دبدبہ کردار کی برق کہاں چمکی‘ قلوب باطل کس کی للکار سے لرزے‘ عزت و شرافت کا قانون کس نے دیا‘ عملیت کی حقیقتیں کس نے بانٹی حضور صرف حضور محض حضور حضور ہی حضورﷺ
ہمارے محمدﷺ کا نام زندہ ہے‘ آپ کا کام زندہ ہے‘ آپ کا پیام زندہ ہے‘ نور حقیقت کی قسم! آج خاک کا ہر پتلا‘ نور کا ہر پیکر‘ آتش تخلیق کی ہر لو‘ جن وانس اور حور و ملک ان کے گنج نور سے فیضاب ہوسکتے ہیں یہ اعلان صرف اور صرف انہی کتاب نے کیا۔
ترجمہ: ’’ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔‘‘ (3/5)
یہ اعلان اس بات کے تسلیم و اعتراف کے لئے مضبوط منطق اور برھان ہے کہ اگر صرف وہی یقینا صرف  وہی دنیا کے لئے نمونہ کامل ہیں جب وہی کامل و اکمل ہیں تو ان کے بعد صرف ان کا غلام بننے کا حق ہر کسی کے لئے ہے جو بھی  ان کے مقابلے میں آئے‘ جوبھی  ان کے ایسا بننے کی کوشش کرے وہ غلیظ جھوٹا ہے۔ اس کے وجود میں غلاظت بھری ہے وہ شیطانی گند ہے خواہ  وہ قادیان میں پیدا ہو یا وہ مسیلمہ کذاب کی صورت میں ہو۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ ختم نبوت کے دشمنوں کے خلاف جہاد کریں۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں