09:21 am
27 کروڑ روپے کے دہی بھلّے!

27 کروڑ روپے کے دہی بھلّے!

09:21 am

٭ایوان صدر:5 سال میں27 کروڑ روپے کے دہی بھلّےO چین: کشمیر پر امریکی ثالثی کا خیرمقدمO امریکہ: پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کے پرزے وغیرہ 12½ کروڑ روپے جاریO لاہور جلسہ: اپوزیشن کے 1958، رہنمائوں اور ارکان کے خلاف مقدمے O شہباز شریف: لندن کے اخبار ڈیلی میل کو قانونی نوٹس، اخبار کا رپورٹر اَڑ گیاO مریم نواز: نوازشریف کے خلاف عالمی بنک کی رپورٹ جاری کر دی!!O وفاقی وزیر کے بیٹے کے خلاف ریفرنس، ایک وزیر کے خلاف تحقیقات شروع! کچھ باتیں ساون رُت کی۔
 
٭خبر تو یہ بہت اہم ہے کہ چین نے کشمیر کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے اس سے بھارت میں مچنے والا کہرام مزید تیز ہو گیا ہے۔ مگر اس خبر سے زیادہ مجھے وزارت اطلاعات کی خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان کا یہ انکشاف حیرت میں ڈال گیا ہے کہ ن لیگ کے مقرر کردہ سابق صدر سید ممنون حسین کے پانچ سال کے دور میں ایوان صدر میں 27 کروڑ روپے کے دہی بھلّے کھائے گئے۔ مجھے حیرت ہوئی، یقین نہیں آیا۔ ایک اخبار دوسرا اخبار، سارے ٹیلی ویژن بالکل یہی خبر دے رہے تھے۔ میں نے حساب لگایا۔ پانچ برسوں میں 1825 دِن ہوتے ہیں۔27 کروڑ روپے کے دہی بھلّے! ایک دن میں 5478 روپے کے بنتے ہیں۔ ان دنوں دہی بھلّے تقریباً 60 روپے فی پلیٹ ملتے تھے۔ یہ 913 پلیٹیں بنتی ہیں۔ دماغ چکرا رہا ہے کہ کیا سید ممنون حسین اور ان کے اہل خانہ روزانہ دہی بھلے کی 913 پلیٹیں کھا جاتے تھے؟ سارا دن دہی بھلے ہی کھاتے رہتے تھے؟ ایک پلیٹ میں نصف کلو دہی بھلے بھی ہوں ۔ یہ روزانہ مقدار 456 کلو (تقریباً 120 من) بنتی ہے۔ یہ بات ایٹمی طاقت والے ایک بڑے ملک کے وزیراعظم کی خصوصی معاون خاتون نے ایسے ہی تو نہیں کہہ دی ہو گی۔ وہ آج کل بہت بڑی بڑی باتیں کر رہی ہیں مثلاً یہ کہ نوازشریف کے دور میں پی آئی اے کے طیارے بچوں کی نیپیاں منگوانے اور انہیں سیر کرانے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ بیرونی دوروں میں بڑے طیارے کئی ان تک ساتھ رکھے جاتے تھے۔ 45 پروازیں صرف ذاتی استعمال میں لائی گئیں ان سے 95 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایسی اور بھی باتیں ہیں۔ ایک واقعہ تو ان دنوں چھپا بھی تھا کہ کچھ چوبدار قسم کے خاص افراد ہر وقت وزیراعظم ہائوس میں موجود رہتے تھے۔ ایک روز ایک ’کارِ خاص‘ نے کہا کہ میاں صاحب! لاہور کی گوال منڈی کے سری پائے کھائے بہت عرصہ ہو گیا ہے! وزیراعظم نے فوراً حکم دیا کہ لاہور سے سری پائے منگوائے جائیں۔ ایک ہیلی کاپٹر فوراً لاہور روانہ ہو گیا۔ اس کے پہنچنے سے پہلے سری پائے بھاری مقدار میں ہوائی اڈے پر پہنچ چکے تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد وزیراعظم ہائوس میں سری پائے کی پک نک ہو رہی تھی۔ یہ واقعہ ایک زیادہ بار چھپ چکا ہے، کبھی تردید نہیں ہوئی اور یہ کہ یہ صرف ایک مثال ہے!
٭نیب شائد اپوزیشن کے شکار سے تھک گیا ہے۔ اس نے اب تحریک انصاف کی طرف بھی رُخ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور پنجاب کے وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کے اثاثوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اسمبلیوں اور وزارتوں میں آتے ہی اثاثے کئی گنا کیسے ہو گئے؟ اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر (سابق سپیکر) فہمیدہ مرزا کے بیٹے حسنین مرزا اور 16 دوسرے ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ان لوگوں نے والد (ذوالفقار مرزا) اور والدہ کے سابق دور اقتدار میں غیر قانونی الاٹ منٹوں سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا ہے! اصولی طور پر تو خسرو بختیار، ہاشم جواں بخت اور فہمیدہ مرزا کو ان الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے تک استعفے دے دینے چاہئیں یا اس وقت تک سرکاری کام چھوڑ دینا چاہئے مگر کون کرے گا؟ ان کا ایک سابق وزیر اعظم سواتی کہتا ہے کہ دفعہ 144 صرف اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے، حکومت پر لاگو نہیں ہوتی!
٭مریم نواز نے عالمی بنک کی ایک رپورٹ جاری کردی۔ یہ نوازشریف کے دور کے بارے میں تھی اس میں واضح طور پر نواز حکومت کو نالائق اور نااہل حکومت قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ جاری ہوتے ہی ن لیگ میں بدحواسی پھیل گئی۔ مریم نواز کو اس فاش غلطی کا اندازہ ہوا تو چار گھنٹے بعد یہ رپورٹ واپس لے لی۔ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے؟یہ سرٹیفکیٹ تو عالمی بنک نے دیا تھا۔
٭ایک محترم دیرینہ واقف کار نے ایک خاص ناراضی والا پیغام بھیجا ہے کہ میں بے کار قسم کی سیاست پر کالم لکھ کر وقت ضائع کر رہا ہوں، ساون کی سہانی رُت گزرتی جا رہی ہے، اس پر کچھ نہیں لکھا۔ اس محترم بھائی کی ناراضی بالکل بجا ہے۔ میں بہت پہلے ابتدا میں ادبی کالم لکھا کرتا تھا۔ کیسی مزے کی باتیں ہوتی تھیں، سیاہ زلفوں، غزالی آنکھوں، گلاب رنگ چہروں کی باتیں، شعروشاعری اور علم و ادب کے مذاکرے! کیسے کیسے ادبی ایڈیشن شائع کئے، مشاعرے پڑھے، مگر ایک روز اخبار کے لئے سیاسی رپورٹنگ کی ڈیوٹی مل گئی اور میں سیاسی ہو گیا ناگن زلفیں،سحرانگیز آنکھیں، گل رنگ چہرے ایک طرف رہ گئے اور سیاسی کالم شروع ہو گئے۔ بے شمار ساون بھادوں آئے اور چلے گئے اور میں سیاست کی اونچ نیچ میں الجھ کر رہ گیا۔ اپنے ناراض بھائی کی ناراضی دور کرنے کے لئے آج کچھ دیر کے لئے ’ادبی‘ ہو رہا ہوں۔ ابھی ساون کے کچھ دن (16 اگست تک) باقی ہیں سو آج کے کالم میں ساون کی کچھ باتیں، مختلف شاعروں کی زبان میں پڑھئے۔ مزے کی باتیں ہیں۔ پہلے ایک بات کہ ہمارے ہاں بارہ ماہ کے پورے موسم میں ساون بھادوں کے دو مہینے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان دنوں میں برسات کی رِم جِھم، باغوں میں جھولے، مزیدار پکوان، قسم قسم کے پھل اور ہر طرف سبزہ پھیل جاتا ہے۔ بعض اداس رنگ شاعر آنسو بھری آنکھوں کو ساون بھادوں کا نام دیتے ہیں۔ گنگا جمنی کا نام بھی دیا جاتا تھا مگر یہ تشبیہ اُدھر بھارت میں ہی رہ گئی ہے۔ ایک خاص بات کہ ساون اور بھادوں کے مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ساون رُت بعض اوقات مسلسل جھڑی کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو دو تین بلکہ زیادہ دنوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ 1995ء میں لاہور میں تین روز تک مسلسل بارش ہوئی اور پورا شہر کئی فٹ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ بھادوں کا رنگ دوسرا ہے ایک ڈیرھ گھنٹے تک کھل کر برسنے کے بعد آسمان کھل جاتا ہے۔ ہمارے ہر شاعر نے برسات کے بارے میں کوئی نہ کوئی شعر ضرور کہا ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی برسات پر نظمیں زیادہ مشہور ہیں۔ برسات کے بارے میں دو دلچسپ اشعار: ایک شاعر نے کہا کہ ’’مزا برسات کا چاہو تو اِن آنکھوں میں آ بیٹھو، سفیدی ہے، سیاہی ہے، اَبر ہے، بادوباراں ہے‘‘۔ دوسرے نے دوسرا مصرع تبدیل کر کے کہا کہ ’’مزا برسات کا چاہو تو اِن آنکھوںمیں آ بیٹھو، وہ برسوں میں کبھی برسے، یہ برسوں سے برستی ہیں‘‘! اب ساون رُت کے بارے میں کچھ گیتوں کے بول: 1944 میں مشہور موسیقار نوشاد نے فلم ’’پریم نگر‘‘ میں دوگانا ترتیب دیا ’’ساون کے بادلو! ان سے یہ جا کہو، تقدیر میں یہی تھا، ساجن میرے نہ رو!‘‘ ایک دلچسپ فلمی گیت کا خوبصورت بول ’’ہائے ہائے یہ مجبوری، یہ موسم اور یہ دُوری، پَل پَل ہے تڑپائے، تیری دو ٹکیوں کی نوکری، میرا لاکھوں کا ساون جائے‘‘ ناصر کاظمی نے کیا خوبصورت بات کہی ’’پھر ساون رت کی پَوَن چلی تم یاد آئے، پھر پتوں کی پازیب بجی، تم یاد آئے!‘‘ گلوکار اخلاق احمد کا مشہور گیت، ’’ساون آئے، ساون جائے، تم کو پکاریں گیت ہمارے! ‘‘  اور یہ کہ ’’آنکھ برسی ہے تیرے نام پہ ساون کی طرح‘‘ اور آخر میں میری ایک غزل کا ایک شعر کہ ’’ہر موسم میں ساون بھادوں جَل تھَل جَل تھَل آنکھیں، ہر دیوار، دیوارِ گِریہ، گلی گلی کُہرام!‘‘ یہ آخری شعر پھر سیاست کی طرف لے گیا ہے۔کالم یہیں پر ختم!