07:32 am
عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

07:32 am

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو اب تک کا کامیاب ترین دورہ سمجھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو اب تک کا کامیاب ترین دورہ سمجھا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاید پہلی بار امریکہ نے’’ ڈو مور ‘‘کا مطالبہ پیش نہیں کیا۔ یہ بھی کہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی شرائط پر بات ہوئی۔ جب کہ کسی یک طرفہ لچک کا شائبہ ظاہر کرنا بالکل مناسب نہ ہو گا۔گو کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن آرٹگس کی پریس بریفنگ میں وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات کو فی الحال ابتداء  قرار دیا گیا ہے ۔
 وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی ملاقات میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل ہو سکے تو میں بخوشی ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوں۔ترجمان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی بات پر قائم ہیں۔ اس میں کوئی تردید یا تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مبصرین سوال کر رہے ہوں کہ عمران خان نے ٹرمپ  کے ساتھ کون سے وعدے کئے جن پر فوری عمل در آمد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے ہی ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ کب افغان جنگ کو ختم کیا جائے۔ جب سے صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم شروع کی ہے۔ وہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک وعدہ  یہ کیا ہے کہ وہ طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے زور دیں گے۔گو کہ  اس وقت افغانستان کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے مفادات میں بظاہر مفاہمت اور تعلقات میں بہتری نظر آتی ہے لیکن اگر کسی مرحلے پر دونوں ممالک کے مفادات میں ٹکرا ئوپیدا ہوا، پھر ان کی تعلقات میں بھی اختلافات نظر آئیں گے۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں طالبان نمائندوں کے درمیان بات چیت کے سات دور ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ دوحہ میں بات چیت کا آٹھوں دور شروع ہو گا جسے مبصرین اہم قرار دے رہے جس میں محفوظ افغانستان اور غیر ملکی فورسز کے انخلا ء کے معاملے پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔  ٹرمپ انتظامیہ طالبان پر جنگ بندی ارو دیگر افغان دھڑوں بشمول کابل حکومت سے بات چیت پر زور دے رہی ہے ۔واشنگٹن کے خیال سے اس حوالے سے پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔ عمران خان وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ وطن واپس جا کر طالبان سے ملاقات کریں گے اور انہیں کابل حکومت سے بات چیت پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ طالبان نے بھی عمران خان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم  شاید طالبان کو اس بات پر قائل کرنا  اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی حتمی معاہدے سے قبل جنگ بندی اور کابل حکومت  سے بات چیت پر ابھی تیار نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ کے کشمیر پر دیئے گئے بیان کو اگر کوئی ٹریپ نہ بھی سمجھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پر بھارت کی نظریں ضرور تھیں لیکن جو کچھ صدر ٹرمپ نے کہاکہ بھارتیوں کو اس کی توقع ہرگز نہیں تھی۔صدر ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے جاپان میں 2 ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات میں ان سے کشمیر کے تنازع پر ثالثی کی درخواست کی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش دسمبر 2016ء میں بھی کی گئی تھی لیکن اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت ثالثی کی خواہش رکھتی ہے۔امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی ڈیل میکنگ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ حل کروا سکتے ہیں۔ اس بار صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی بات کرنا اور اس کے لیے بھارتی وزیرِاعظم کی خواہش کا انکشاف بھارتی میڈیا اور پارلیمان میں ایک زبردست دھماکے کا سبب بن گیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ ایک بیان وزیرِاعظم عمران خان کے دورہ کا حاصل اور ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ بھارت طویل سفارتی کوششوں اور تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پاک‘بھارت تنازعات کو کسی اور فریم میں فٹ کرچکا تھا۔
(جاری ہے)

 

تازہ ترین خبریں