07:33 am
جھوٹے لکھاری اور جھوٹی این جی اوز

جھوٹے لکھاری اور جھوٹی این جی اوز

07:33 am

یوسف بینجمن کی تحریر ’’پاکستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال‘‘ اور  ارمغان احمد دائود کی تحریر
یوسف بینجمن کی تحریر ’’پاکستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال‘‘ اور  ارمغان احمد دائود کی تحریر ’’احمدی جواب دیتے ہیں‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ کچھ دانش فروش عالمی سطح پر پاکستان کا چہرہ مسخ کرکے پیش کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں‘ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال بھارت سے زیادہ خراب ہے‘ ہرگز نہیں‘ دنیا جانتی  ہے کہ بھارت کی سرزمین وہاں آباد اقلیتوں کے لئے دہکتا ہوا  انگارہ بنا دی گئی ہے‘ نوجوان مردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی صرف مسلمان ہونے کی پاداش میں بھارت کے چوکوں اور چوراہوں پر  نریندر مودی کے ہندو انتہا پسند لاٹھیوں اور سرئیوں سے تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں جس کی متعدد وڈیوز سوشل میڈیا پر وائیرل ہوچکی ہیں۔
صرف گائے کو ذبح کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں درجنوں مسلمانوں کو شہید کیا جا چکاہے‘ مسجدوں کی اذانوں پر پابندی لگائی جارہی ہے‘ کمزور مسلمانوں کو زبردستی ہندو بننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ’’ہندو توا کے نام سے ایک پوری تحریک اس حوالے سے سرگرم عمل ہے‘ مقبوضہ کشمیر کو اگر ایک طرف بھی رکھ دیں تب بھی مودی کا بھارت مسلمان اقلیت ہو‘ یا عیسائی اقلیت حتیٰ کہ ’’دلتوں‘‘ کے لئے بھی جہنم زار بنا دیا گیا ہے۔
دوپٹہ اوڑھ کر سڑکوں پر سے گزرنے والی بچیوں کے ساتھ جو خوفناک حرکتیں کی جاتی ہیں اسے لکھتے ہوئے قلم بھی تھرا جاتا ہے‘ لیکن امریکی یا قادیانی پٹاری کے کسی داش فروش‘ کسی قلم فروش نے آج تک بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑی ہوئی صورتحال اور اقلیتوں پہ  ڈھائے جانے والے   بے پناہ مظالم کے خلاف تو ایک لفظ تک لکھنا گوارا نہیں کیا تو کیوں؟ کیا اس لئے کہ انہیں ڈالر ملتے ہی پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کے ہیں؟
سکھ کمیونٹی ہو یا عیسائی برادری ان کے بڑِے خود تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے‘ پاکستان میں انہیں اکثریتی آبادی نے کبھی بھی مذہبی تعصب کا نشانہ نہیں بنایا‘ اگر کبھی کسی ایک گروہ نے زیادتی کی کوشش کی تو حکومت‘ میڈیا اور پاکستان بھر کے مسلمان اس گروہ کے مدمقابل اقلیتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے‘ ویسے تو آئین اور قانون پر یقین رکھنے والی تمام اقلیتیں ہی مگر بالخصوص عیسائی برادری تو مسلمانوں کے بیچوں بیچ اور شانہ بشانہ رہتی ہے۔
عیسائی آبادیاں‘ مسلمانوں کی آبادیوں کے بالکل ساتھ ساتھ‘ عیسائیوں کے گرجا گھر مسلمان آبادیوںمیںاکثر شہروں میں اگر بازار میں پچاس دوکاندار مسلمان ہیں تو ساتھ ایک عیسائی کی دوکان بھی موجود ہے‘ حتیٰ کہ ایک دو دوکانیں قادیانیوں کی بھی پائی جاتی ہوں گی‘ لیکن الحمدللہ کبھی بھی مسلمانوں نے عیسائی یا قادیانی دوکانداروں کو مذہبی تعصب کا نشانہ نہیں بنایا۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے پلیٹ فارم پر مولویوں کے شانہ بشانہ عیسائی پادری‘ سکھ‘ پارسی‘ ہندو اور دیگر اقلیتوں کے رہنما ایک ہی اسٹیج پر اکثر موجود رہتے ہیں۔
گورنمنٹ کے سکولز‘ کالجز‘ یونیورسٹیاں ہوں یا پرائیویٹ تعلیمی ادارے کبھی کسی طالب علم کو مسلمان طلباء یا اساتذہ نے اس کے عیسائی‘ ہندو‘ سکھ یا قادیانی ہونے کی بناء پر مذہبی تعصب کا نشانہ نہیں بنایا‘ اگر قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 71سالوں میں کہیں کوئی اکا‘ دکا واقعات ہوئے بھی تو اکثریتی مسلمان آبادی کے زعماء اور علماء نے حکومت کے ساتھ مل کر اس کا فوراً ازالہ کیا‘ لیکن یوسف بینجمن  جیسے دانش فروش محض اپنے ڈالر کھرے کرنے کے لئے پاکستان میں عیسائیوں پر مظالم کی خود ساختہ داستانیں گھڑ کر وطن عزیز اور پاکستانی قوم کو عالمی سطح پر اگر بدنام کر رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا سختی سے نوٹس لے۔
یہ بینجمن نام کا دانش فروش کس قدر جھوٹا اور دروغ گو ہے ‘ لکھتا ہے کہ ’’ایک طرف دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے فلسفہ کو فروغ دیا جارہا ہے تو دوسری جانب پاکستان میں مذہبی آزادی انتہائی تنزلی کا شکار ہے‘ نتیجتاً وطن عزیز میں مذہبی اقلیتوں کا جینا دوبھر ہے‘‘ توبہ‘ توبہ‘ توبہ بے شرمی اور کمینگی  کی بھی کوئی حد ہوتی ہے؟ ایسا جھوٹ لکھنے اور پھر اسے شائع کرنے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے‘ اسی کالم میں یہ صاحب  آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’’اوپن ڈور‘‘ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے‘ جو دنیا بھر میں مسیحیوں پر ظلم و ستم کا جائزہ لیتی اور امدادی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتی ہے‘ رواں سال اس تنظیم کے مسیحیوں پر ایذا رسانیوں کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا تھا‘ جنوری سے جون کے چھ ماہ میں اٹھائیس لڑکیاں جن کا تعلق مسیحی عقیدے سے تھا وہ یا تو اغوا کی گئیں‘ جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں‘ ان پر تشدد کیا گیا یا پھر جبری  طور پر ان کا مذہب تبدیل کرکے ان کی مرضي کے خلاف شادیاں رچائی گئیں‘ اگر اس فہرست میں ہندو مت کی پیروکار لڑکیوں‘  کچھ ’’نامعلوم‘‘ خواتین‘ نیز دیگر کمزور طبقات کی خواتین کو بھی شامل کرلیا جائے تو مذہبی آزادی کا ڈھول پیٹنے والے اہل وطن کی آنکھیں کھل جائیں۔‘‘
اگر پاکستان میں عدل و انصاف کا نظام ہوتا تو ملک کو بدنام کرتی ایسی جھوٹی رپورٹیں تیار کرنے والی این جی اوز اور ان کے فتنہ پرورخرکاروں کو ضرور سزائیں ملتیں۔
یہ بات میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں کبھی بھی زور زبردستی یا جبراً کسی کو تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا گیا اور یہ بات عدالتوں میں بھی ثابت ہوچکی ہے‘ پاکستان میں آج تک کسی عیسائی‘ ہندو یا قادیانی لڑکی کے ساتھ زبردستی ان کی مرضی کے برخلاف شادی نہیں رچائی گئی‘ یہ بات بھی حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں ثابت ہوچکی ہے‘ جو رپورٹ ہی جھوٹ کا پلندہ ہو اس میں 28لڑکیوں کی تعداد کیسے درست مانی جاسکتی ہے؟