07:37 am
عقیدہ ختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت

07:37 am

صدیقی للکار بن کر، فاروقی غیرت و حمیت بن کر، عثمانی تابوت و حیان بن کر  نبوت کا منکر ہونہیں سکتا
(گزشتہ سے پیوستہ)
 صدیقی للکار بن کر، فاروقی غیرت و حمیت بن کر، عثمانی تابوت و حیان بن کر  نبوت کا منکر ہونہیں سکتا۔
حضورﷺ کے سینہ پر نازل ہونے والی کتاب معجزہ نور ہے۔ اس کا محفوظ ہونا، موجود ہونا اور سب تہذیبوں اور مذاہب پر اس کا چھا جانا ختم نبوت کی ظاہر بابر دلیل ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا:
فاش گویم آنچہ در دل مضمراست
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
صد جہاں تازہ اور آیات اوست
عصرھا، پیچیدہ اور آفات اوست
یا پھر حضور ختمی مرتبتﷺ کی ختم نبوت کے بارے میں سید امجد حیدر آبادی نے کیا خوب لکھا ہے۔
رخ مہر ہے، قد خط شعاعی کی طرح
وہ گلہ امت میں ہے راعی کی طرح
اس خاتم انبیاء کا آخر میں ظہور
ہے مصرع آخر رباعی کی طرح
قیامت تک کے لئے جماعت کی تیاری، رسول کریم ﷺ پر نبوت کا اختتام ہوگیا۔ آپﷺ نے قیامت تک کے انسانوں کی  ہدایت اور دعوت کانظام مربوط کیا۔ تلبیسات ذہنی اور بدعات عملی سے بچنے کے لئے قرآن کے ساتھ اہل بیت اطہار کو جوڑ دیا تاکہ ہر زمانے میں دینی معمولات کو تازہ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ صحابہ نے عشق و عمل سے ایک ایسی تحریک قائم کی جس میں اجتماعیت کو منظم کرنے کے لئے ٹھوس بنیادیں  رکھیں۔ آپﷺ کے بعد آپ کی ختم نبوت کے مفہوم کو قائم رکھتے ہوئے فعال اور صحت مند ادارے قائم کیے۔ سمع و اطاعت کا مزاج امت کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگا۔ دین مبین کے نفوذ اور ارتقاء کے لئے کام کرنے والی جماعت نے باہمی خیر خواہی، محبت، اخوت، ایثار اور قربانی کو اپنا منشور قرار دیا۔ ہر دور میں انفرادی رائے پر اجتماعی مفاد کو ترجیح  دینے کی پالیسی نشان راہ قرار دی گئی۔ دوسروں کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرکے ان کی خوبیوں سے استفادہ کے اصول اپنائے گئے۔ بغض اور منافرت کے خلاف موثر دعوت  سے کام لیا گیا۔ جماعت میں قیادت کے لئے پہلے لوگوں کے جذبوں اور احساسات کو رہنما قرار دیا گیا اور رجال امت کی صالحیت اور تقویٰ کی بنیاد پر تکریم و توقیر کے اعترافات عام کیے گئے۔ وہ لوگ جو شیطانی راہ چلے دینی جماعت کے صحت مند مجاہدین نے ان کی سرکوبی کی۔ حضورﷺ کے اعلان ختم نبوت کے بعد اسلامی دعوت کا یہ امتیاز قائم رہا کہ انہوں نے کسی دعویٰ نبوت کرنے والے کی طرح قوم کو متوجہ نہ ہونے دیا اگر کسی نے گندگی کے ڈھیر سے سر اٹھایا تو اس دجال کے سر پر اتنی تیر زنی کی گئی کہ دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوسکی۔ ان حقائق کے مطالعہ کے لئے قرآن حکیم کی یہ آیت پڑھی جاسکتی ہے۔ (ترجمہ) ’’اور تمہارے اپنوں میں سے ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو بلاتے رہیں بھلائی کی طرف اور حکم دیتے رہیں اچھے کاموں کا اور منع کرتے رہیں برائی سے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘(104/3)
حرفوں کے مورچہ نشین اجڑ گئے، ختم نبوت کے منکرین لوگوں کو ہمیشہ یہی  تاثر دیتے ہیں کہ خاتم النبین تو حضورﷺ کی ذات ہے وہ بدکار صرف متابعت سے اس مقام پر پہنچے ہیں ایسے بدکاروں کو اپنی بدبختی کی مار پڑی۔ نبوت اللہ کی موہیت، نزول وحی اور ظہور معجزہ سے ثابت ہوتی ہے۔ کسی انسان کو کسب و ہنر اور محنت و کاوش یا اتباع و اطاعت سے یہ منصب نہیں مل سکتا۔ ایک سیاہ کار نے مثلیت کا دعویٰ کیا ، دروازہ تو ان لوگوں نے کھولا جنہوں نے کہا کہ اللہ چاہے  تو کروڑ محمد پیدا کرسکتا ہے ۔ امتناع نظیر کا مسئلہ فضل حق خیر آبادی سمجھ پائے۔
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد دلچسپ ہے: آپ کا نعت گو یہی کہے گا ان کی مثل نہ پہلوں میں اور نہ بعد والوں میں دیکھی۔
یہ دعویٰ وہی کرسکتا ہے جس نے پہلوں کو اور بعد والوں کو آئینہ بصیرت میں دیکھ لیا ہو۔
وہ لوگ جنہوں نے کہا نبوت حضورﷺ پر ختم ہے لیکن معاذ اللہ ان کی نبوت ظلی ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کا سایہ ہی نہیں رکھا جس کا ظل نہیں اس سے ظلی نسبت چہ دارد؟ نبوت کا نہ کوئی بروز  ہے اور نہ ہی کوئی اورتار۔ رہا یہ دعویٰ کہ خاتم کا معنی مہر لگانے والا ہے۔ اگر یہی معنی مراد لیا جائے تو وہ بھی مہر نبیوں کے لئے ہیں جو نبی ہے ہی نہیں اسے اس چمن میں کیڑا بن کر داخل نہیں ہونا چاہیے۔ انبیاء جتنے بھی گزرے ہیں وہ حضورﷺ سے پہلے گزرے ہیں۔
محمدﷺ ہی احمد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ’’اور یادکرو جب عیسیٰ ابن مریم نے فرمایا اے اولاد یعقوب! میں تمہارے لئے اللہ کا رسول ہوں مصدق تورات کا جو مجھ سے پہلے نازل ہوئی اور نوید مسرت سنانے والا ہوں۔ ایک عظیم الشان رسول کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہوگا پس غور کیجئے کہ جب وہ عظیم رسول روشن دلیلیں لے کر تشریف فرما ہوئے تو لوگ کہنے لگ گئے کہ یہ تو  کھلا جادو ہے۔‘‘ (6.61)
قرآن حکیم کے نظم، الفاظ اور اصطلاحات کے پس منظر میں معانی اور مطالب کے شکار یوں نے من زاد مفہومات متعین کرنے کی کوشش کی اور کہا جس احمد کی قرآن نے پیشن گوئی کی محمد ﷺ اور ہیں اور احمد اور ہیں۔
سمجھنے والی  بات یہ ہے کہ جس احمد کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی وہ حضورﷺ کے زمانے سے تھے یعنی وہ خود احمد مختار کی ذات تھی اس لئے کہ آیت میں جاء ھم ماضی کا صیغہ ہے اس کا معنی ہوتا ہے رسول آگیا۔ اس سے مراد حضورﷺ کے بعد کسی کو لینا قرآن میں تحریف  ہے، بددیانتی ہے اور ایسے بھی نہیں ہوسکتا کہ قیامت تک جس جس کا نام احمد ہو معاذ اللہ اسی کو رسول مان لیاجائے۔ آیت میں بشارت دینے والی آیت ختم نبوت کے دشمنوں کی شدید گوشمالی کرتی ہے۔
(ترجمہ) ’’اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا  جس نے اللہ پر جھوٹ کا افترا کیا حالانکہ اسے اسلام کی طرف دعوت دی گئی اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والی قوم کو منزل پر نہیں پہنچایا کرتا۔‘‘ (7/61)  
رحمت سب کے لئے ہے: حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ان کی کوئی نظیر نہیں، ان کا کوئی مثیل نہیں۔ انہیں اپنایا جاتاہے لیکن وہ کسی میں اترتے نہیں، اوتار اور حلول مجوسیوں اصطلاحتیں ہیں۔ حضورﷺ رحمت ہیں آپ خاتم النبین ہیں اس لئے کہ آپ کی رحمت سب کے لئے ہے۔ آپ سب افسانوں کے لئے ہیں، آپ سب جہانوں یک لئے ہیں۔ ماضی ، حال اور مستقبل کے رسول آپ ہی ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے نکالا اور آپ ہی ہیں جو سرمحشر گناہ گناروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ انبیاء، صالحین، شہدا ءاور صدیقین سب انہی کی رحمتوں کا جلوہ ہیں۔ ان کی گلی میں جو وفادار بن کر آئے صدیق وفاروق کہلائے اور عثمان و علی ان کا نام ہے۔انکی نعتیں جس نے گنگنائیں وہ اقبال، عطار، رومی، رازی اور جامی ٹھہرے۔ ان کی رحمتوں کا اعتراف بس یہی ہے کہ اللہ اور تمام فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں تم بھی درود پڑھو ہم بھی ان پر درود پڑھتے ہیں۔
بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلو علیہ وآلہ