07:38 am
فائلر نان فائلر کے بجائے اسلام کا نظامِ زکوٰۃ نافذ کیا جائے

فائلر نان فائلر کے بجائے اسلام کا نظامِ زکوٰۃ نافذ کیا جائے

07:38 am

یہ حقیقت تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاست معیشت کے بغیر اپاہج ہوتی ہے
یہ حقیقت تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاست معیشت کے بغیر اپاہج ہوتی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں کی طرف ایک اُچکتی نگاہ ڈالیںتو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی ترقی کا راز معیشت کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ معیشت کا پہیہ جتنی تیزی سے گھومے گا ترقی کے راستے اُسی سبک رفتاری سے ہموار ہوتے چلے جائیں گے، ماضی کے اوراق پر اگر ایک عمیق نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خطّہ ارض پر بسنے والی وہ تمام قومیں جو معاشی بدحالی کا شکار تھیں اُنہوں نے افلاس کے پنجوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے یہ بھید معلوم کر لیا کہ معیشت کا پہیہ جس قدر گھومے گا اُسی قدر افلاس کے پنجوں سے نجات ملے گی۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی آج شدید نوعیت کے افلاس سے گزر رہا ہے۔ افلاس کا یہ مرض پاکستان کو نیا نہیں لگا۔ اِس مرض کی عمر 72 برس ہوئی چاہتی ہے۔ اِن 72 برسوں میں ایک برس پاکستان تحریک انصاف کا بھی ہے۔ الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے اِس وطن کی معیشت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پائوں سے پامال کیا۔ اقرباء پروری اور رشوت ستانی اپنے عروج پر رہی۔ اِس وطن کی رگوں سے نچوڑا ہوا خون بیرونی ممالک کی معیشت کی رگوں میں ٹرانسفیوژ کیا گیا۔ وطن پر قرض کا بوجھ ہمالیہ کے پہاڑ کے برابر لاد دیا گیا۔ یہاںتک کہ پاکستان کے وہ بچے جو ابھی اِس دنیا میں بھی نہیں آئے وہ بھی مقروض ہیں۔ پڑدادا، دادا، باپ، بیٹا، پوتا اورہونے والا پڑپوتا یہ سبھی کے سبھی مقروض ٹھہرا دیئے گئے۔ ایسے میں معیشت کا پہیہ کیسے چل سکتاہے؟ کہا جاتا ہے کہ معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے ٹیکسز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ ٹیکسز بھی عجیب بلا ہیں۔ اگر نہ لگائے جائیں تو امورِ سلطنت نہیں چلتے، لگا دیئے جائیں تو بڑے بڑوںکی کمرخمیدہ ہو جاتی ہے۔ جو ٹیکس دینے کے اہل ہیں وہ ٹیکس چوری کرنے کے نت نئے طریقے نکال ڈھونڈنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اور جن پر ٹیکس عائد ہی نہیں ہوتا وہ بالواسطہ ٹیکس دیتے دیتے حسرتوں کے کفن میں لپٹ کر اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ 72 برسوں کی تاریخ لکھنے والے مورخین تو یہی لکھنے پر مجبور رہے کہ پاکستان میں صرف دو طرح کے لوگ زندگی باآسانی بسر کر سکتے ہیں ایک وہ جن پر زکوٰۃ دینا فرض ہے اور دوسرے وہ جو زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں۔ تیسرے طبقے کے لئے زندگی کی سانسیں لینا بہت مشکل امر ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو متوسط طبقہ کہلاتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ریاست کا اصل سرمایہ ہے یہ طبقہ محنت کرتا ہے اور زندگی کی دوڑ میں مستعد دِکھائی دیتا ہے۔ اِس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ دینے کی اہلیت نہیں رکھتا اور اِس طبقے کا اِس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ لینا بھی گناہ کبیرہ سمجھتا ہے، یہ کرے تو کیا کرے؟ جئے یا مرے؟ بنیادی طور پر یہی وہ طبقہ ہے جو بے روزگار بھی ہے اور لاچار و بے بس بھی۔ کسی پھیلے ہوئے ہاتھ پر سکہ نہیں اچھال سکتا اور نہ ہی کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔ یہ سفید پوش طبقہ پاکستان کا غیرت مند طبقہ ہے۔ یہ سسکتا ہے۔ کڑھتا ہے اور اندر ہی اندر جلتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو مسیحا کا منتظر رہتا ہے۔ اب کہ جب عمران خان نے مسندِ اقتدار سنبھالی تو سب سے زیادہ خوشی اِسی طبقے کو ہوئی تھی، مگر برس بیت گیا اِس طبقے کے مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ وہی مہنگائی کا عفریت، وہی روپے کی لاش پر ڈالر کارقص، اشیائے خورونوش کی آسمان کو چھوتی قیمتیں، بجلی، پانی، گیس کے لمبے لمبے بل اِس طبقے کی حسرتو ںکو بہا کر لے گئے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ فائلر اور نان فائلر کی اصطلاح نے رہی سہی کسر نکال دی۔ جن کے پاس سرمایہ تھا وہ سرمایہ دبا کر بیٹھ گے اور جن کے پاس تین وقت کی روٹی کھانے کے پیسے بھی بمشکل ہوتے ہیں وہ فائلر بننے سے خوف کھانے لگے۔ یہ نان فائلر اپنے آپ کو ایک عجیب مخلوق سمجھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ فائلر بنیں یا نان فائلر کون سا اُن کی عزت میں کمی یا اضافہ ہو جانا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم فائلر بنیںیا نان فائلر اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اُن کا موقف ہے کہ کیا فائلر کو انصاف دہلیز پر ملتا ہے؟ کیا پولیس فائلر کو کرسی پر بٹھاتی ہے؟ کیا ایکسائز میں کام ہو تو فائلر سے رشوت نہیں لی جاتی؟ کیا فائلر کو جان، مال اور عزت کی تحفظ کے ضمانت دی جاتی ہے؟ نہیں… بالکل نہیں… آپ فائلر بنیں یا نان فائلر آپ کے ساتھ ریاستی ادارے سلوک وہی کریں گے جو سلوک گزشتہ 72 برسوں سے آپ کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ نان فائلر کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ ایک بوڑھا شخص جو کسی دور دراز علاقے میں کسی پہاڑی پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا ہے۔ وہ جو کسی صحرا میں بیٹھا گرم دِن میں پنکھا چلا لیتا ہے اور رات کو بلب جلا لیتا ہے۔ وہ شہری جو ایک گاڑی چلاتا ہے تواُس کے خریدنے پر ٹیکس دیتا ہے۔ اُس کی رجسٹریشن پر ٹیکس دیتا ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے پر ٹیکس دیتا ہے۔ کسی اچھی سڑک پر گاڑی لے جائے تو ٹال ٹیکس دیتا ہے۔ لائن، لین یا کسی اشارے کی خلاف ورزی کرے تو ٹیکس دیتا ہے۔ چلیں گاڑی والے کو چھوڑیں ایک شخص مہینہ بھر محنت مزدوری کر کے تنخواہ لیتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے۔ ٹی وی دیکھے یا نہ دیکھے اُس پر ٹیکس دیتا ہے۔ گھر میں پانی کا نلکا کھولتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے۔ چولہا جلاتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے اپنے پیاروں سے بات کرنے کے لئے فون کرتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے۔ بازار سے بنیان، کُرتا، شلوار اور چپل خریدتا ہے تو ٹیکس دیتا ہے۔ بچے کی سالگرہ کرتے ہوئے خوش تو ہوتا ہے مگر کیک اور غباروں پر ٹیکس دیتا ہے۔ بیٹی یا بیٹے کی شادی کرتا ہے تو اپنی ایک ایک مسکراہٹ پر ٹیکس دیتا ہے، کوئی مر جائے تو کفن پر ٹیکس دیتا ہے۔ یہ کیا عجیب ریاست ہے جس میں پیدائش پر ٹیکس، مرنے پر ٹیکس، رونے پر ٹیکس، ہنسنے پر ٹیکس، مسکرانے پر ٹیکس، قہقہے پر ٹیکس، جاگنے پر ٹیکس سونے پر ٹیکس، لمبی تان کر سونے پر بھی ٹیکس۔ یہ سارے ٹیکس وہی نان فائلر دیتا ہے۔ جو آج اپنے ہی وطن میں خود کو چور سمجھ کر تذبذب کا شکار ہے۔ اور وہ جو چور ہیں وہ بڑے بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ٹیکس چوری کر رہے ہیں۔ اِسلام کا نظام زکوٰۃ ایک ایسا اقتصادی نظام ہے جس پر عمل کر کے کوئی ریاست معاشی حوالے سے بام عروج کو چھو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ یہاں اسلامی نظام معیشت رائج ہی نہیں کیا گیا۔ یا پھر رائج ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے ارباب اختیار کو چاہئے کو فائلر اور نان فائلر کے چکر سے باہر نکلیں اور اسلام کے نظام زکوٰۃ کو پوری طاقت کے ساتھ رائج کریں پھر دیکھیں اُنہیں کیسے عظیم ترین ثمرات ملتے ہیں۔ یہی ملک دنیا بھر میں سب سے عظیم ریاست مانا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ یہ وطن اللہ اور اُس کے رسولؐ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اِس وطن کو چلانے کے لئے ہر شخص، ہر صاحبِ نصاب شخص زکوٰۃ دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ زکوٰۃ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے حکم پر دی جاتی ہے  اور ٹیکس حکمرانوں کے حکم پر دیناپڑتا ہے۔ ٹیکس دیتے وقت لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اُنہیں ثواب ہو گا۔ مگرزکوٰۃ دیتے ہوئے ہر کسی کو یہ احساس ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُنہیں جزا دے گا۔ بس یہی فرق ہے ٹیکس میں اورزکوٰۃ میں۔ ہر مسلمان زکوٰۃ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ مگر ٹیکس اُسے بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ پس اے ریاستِ مدینہ کا تذکرہ کرنے والو! آئو! اپنی قوم کے سامنے ٹیکس کے بجائے زکوٰۃ کی استدعا کرو۔ آپ دیکھو گے کہ محمد عربیؐ کے یہ غلام اِس وطن کی معیشت اِس حد تک لے جائیں گے کہ قومیں اور ریاستیں ہماری مثالیں دینے پرمجبور ہوں گی۔