08:07 am
 ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمید 

 ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمید 

08:07 am

امریکی دورے کی کامیابی کا بھو ت حکمراں جماعت کے حامیوں پر بری طاری طرح سوار ہے! مبالغہ آرائی میں یدِ طولیٰ رکھنے والے خوش آمدیوں نے ایسا سماں باندھا ہے گویا وزیراعظم امریکہ فتح کرنے کی مہم کا میابی سے سر کر کے وطن لوٹے ہیں۔ خود وزیراعظم نے ائیرپورٹ پہ استقبالی مجمعے سے خطابِ نیم شبی میں ارشاد فرمایا کہ انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ ورلڈ کپ جیت کے لوٹے ہیں! امریکی دورے میں سابقہ پاکستانی حکمرانوں کے مقابل عمران خان کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی ۔ پراعتماد بدن بولی ، قومی مفادات کا موثر اظہار، منطقی گفتگو اور واسکٹ کے ساتھ شلوار قمیض پہننا قوم کو اچھا لگا ۔ ورنہ امریکیوں سے مرعوبیت کا عالم یہ رہا ہے کہ اکثر کوئی سفیر بھی پاکستان میں ملاقات کے لیے گھر آتا تو دیسی بابو جی سوٹ ٹائی پہن کے ملاقات فرماتے تھے۔
 
 دورے میں کفایت شعاری کی روش اور امریکہ سے امداد کی بھیک نہ مانگنے کا عزم بھی قابل داد ہے۔ امریکی صدر نے ثالثی کی پیشکش کر کے یہ تسلیم کیا کہ جنوبی ایشیا میںکشمیر ایک بہت بڑا تنازعہ ہے۔ پاکستان سمیت مقبوضہ کشمیر میں مسرت کی لہر دوڑی جبکہ بھارت میں شدید بھونچال اٹھا ہے۔ بھارتی دفتر خارجہ نے یہ کہہ کے تردید کی ہے کہ بھارت نے کبھی امریکہ بہادر سے ثالثی کی کوئی درخواست نہیں کی ۔ بھارتی اپوزیشن البتہ اس معاملے پر نریندر مودی کے خلاف تنقید کی تلواریں سونت کے میدان میں کود پڑی ہے ۔ پارلیمان سمیت ہر فورم پر بی جے پی اور مودی کو کشمیر پر خفیہ سودے بازی کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔ حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی مضبوط سیاسی جماعت بی جے پی اور ہندوتوا جیسے انتہائی متعصبانہ نعرے سے عوامی حمایت حاصل کرنے والے مودی جیسے تگڑے وزیر اعظم کو کشمیر پر امریکی ثالثی کی غیر رسمی پیشکش سے پیدا ہونے والی مخالفانہ لہر کا مقابلہ کرنے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے۔ غور کیجیے کہ اگر ایسی کوئی بات کانگریس یا کسی اور کمزور سیاسی جماعت کے دورِ حکومت میں سامنے آتی تو مودی جی اور بی جے پی کا ہندوتوا بریگیڈ کیا قیامت ڈھاتا ؟ یہی وجہ ہے کہ بھارتی انتخابات سے قبل پاکستانی وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مودی جیسے تگڑے بھارتی لیڈر کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔ بھارت کشمیر کے حوالے سے کبھی دو طرفہ بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہوتا تو تیسرے فریق کی ثالثی پر رضامندی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہی سمجھنا چاہیے۔ بیک چینل ڈپلومیسی یا پس پردہ سفارت کاری کی بدولت ہی بامعنی پیش رفت ممکن ہوگی اور یقیناً یہ سب کچھ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی کم وقت میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آپائے گا۔ امریکہ فتح کرنے کے جشن سے فرصت ملنے کے بعد حساس موضوعات پر عرق ریزی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا اور طے کرنا ہوگا کہ امریکی ثالثی کی پیشکش صدر ٹرمپ کی روایتی غیر محتاط گفتگو تھی یا ریاست امریکہ کی ایسی سوچی سمجھی رائے ہے جس کے پیچھے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پس پردہ خواہش بھی کار فرما ہے۔ امریکہ نے دورے سے چند روزقبل بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دینے کا حیران کُن اور غیر متوقع قدم بھی اُٹھایا ۔ امریکی جانتے تھے کہ اس قدم کے بعدکشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا امریکی صدر کی زبان سے اعلان پاکستان پر سحر طاری کر دے گا ۔ ماضی میں پیدا ہونے والی تلخی کو شیرینی میں بدلنے کے لیے وزیر اعظم کی تعریف و توصیف میں بھی حد سے زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ ان امریکی ترکیبوں نے خاطر خواہ اثر دکھایا ہے ۔ حکمراں جماعت اور اس کے خوش آمدیوں کا گروہ تاحال امریکہ فتح کرنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کر دینے والی فاتحانہ کیفیت سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ اصل سفارتی چیلنج جوں کا توں موجود اور فیصلہ سازوں کی توجہ کا طالب ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ثالثی کی پیشکش اور بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دے کر امریکہ نے سفارتی دانہ تو نہیں پھینکا ؟ اس دانے کو چگتے ہوئے کہیں پاکستان سرحد پار افغانستان میں بچھائے ہوئے امریکی جال میں تو نہیں جا پھنسے گا ؟ کشمیر پر ثالثی سے پہلے ایک سے زائد ممکنہ حل کیا ہوسکتے ہیں ؟ کشمیری نمائندہ قیادت کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ ایل او سی کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ اور اس سے بھی پہلے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد فوری طور پر رکوانے کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ عارضی تھپکی لگا کے افغانستان میں وہی تعاون طلب کر رہا ہے جس کے دینے میں پاکستان کو تحفظات رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کامیاب دورے کے جوش میں افغان طالبان سے ملاقات کا عندیہ دے ڈالا ۔ جواباً فریق ثانی نے بھی فوری آمادگی کا اظہار کر دیا ۔ کوئی بھی حکومتی ترجمان یا دفتر خارجہ کا جغادری یہ نہیں بتا سکتا کہ ہم امریکہ کے لیے طالبان سے کیا رعایت حاصل کر سکتے ہیں اور طالبان کے لیے امریکہ کے دل میں کس قدر نرم گوشہ پیدا کر سکتے ہیں ؟ افغانستان اور کشمیر جیسے بحران حل کرنے کے لیے یکسوئی ، قومی اتفاق رائے ، بردبار قیادت اور مربوط ادارہ جاتی کارکردگی درکار ہے۔
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا 
تیری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
 جب معاملہ امریکہ سے ہو تو پاکستان کو ماضی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ جن افغان مجاہدین کو روس کے خلاف کامیاب جہاد کرنے پر امریکی صدر رونالڈ ریگن نے وائٹ ہائوس میں ذاتی ملاقات میں اس درجہ تکریم بخشی کہ انہیں نظریاتی اعتبار سے جدید امریکہ کی بنیاد رکھنے والے بانیان کے ہمہ پلہ قرار دے ڈالا۔ بعد ازاں انہیں مجاہدین کو امریکہ بہادر نے دہشت گرد قرار دے کے افغانستان پر چڑھائی کئے رکھی اور آج انہیں افغان طالبان سے براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے دور چل رہے ہیں ۔ کبھی پاکستان تزویراتی اتحادی کی حیثیت سے آنکھ کا تارہ قرار پایا اور کبھی دہشت گردی کا سرپرست ۔ صدر ضیاء الحق ، نواز شریف، بے نظیر بھٹو، صدر مشرف اور صدر زرداری نے بھی ماضی میں بڑے کامیاب دورے کئے ۔ ان سب کے باوجود امریکہ نے اپنا الو سیدھا ہونے کے بعد پاکستان کو کئی مرتبہ مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ امریکہ کو ایک دورے میں فتح کرنے کا جشن ختم ہو اور دکھاوے کی آئو بھگت کا خمار اترے تو مستقبل کے لیے سنجیدگی سے غور و خوض بھی کر لیا جائے۔ صدر مشرف نے افغانستان میں امریکی فوج کشی کے بعد دست تعاون بڑھانے سے پہلے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے کل جماعتی کانفرنس منعقد کی ۔ جب صدر مشرف نے امریکہ سے تعاون کے فوائد اور لچھے دار امریکی وعدوں کا بڑے پر امید انداز میں تذکرہ کیا تو حزب اختلاف کی جانب سے جواباً حضرت علامہ شاہ احمد نورانی ؒ نے غالب کے جس شعر کے ذریعے امریکہ کی بد فطرتی اور حکمرانوں کی بد عقلی پر خبردار کیا وہی شعر آج حکومت کی خدمت میں پیش ہے۔
ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
 

تازہ ترین خبریں