08:08 am
عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

08:08 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بھی دہشت گردی سے جوڑ کر پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے بے انتہا سفارتی اور سیاسی سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلے کے طور پر تسلیم کیا بلکہ بھارتی وزیرِاعظم کو بھی بیک فٹ پر لے گئے۔بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوان ان سیشن تھے اور بھارت کے وزیرِ خارجہ اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی خود ایوان میں آکر وضاحت دیں۔ مودی کے لیے امریکی صدر کو جھوٹا قرار دینا بہت بڑی سفارتی آزمائش تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات انتہائی گرم جوشی کے بعد تجارتی تنازع کا شکار ہیں اور مودی کو ستمبر میں واشنگٹن بھی جانا ہے۔قوم پرستی کی لہر کا شکار بھارتی میڈیا تو جیسے یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ مودی نے صدر ٹرمپ سے ایسی کوئی درخواست کی ہوگی۔رواں سال فروری میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد انتہائی کشیدہ صورت حال میں بہتری صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ہی آئی تھی جو انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے انتہائی اہم ملاقات کی مصروفیت سے وقت نکال کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے ویتنام کے دارالحکومت میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ چند گھنٹوں بعد پاک‘بھارت تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر آنے والی ہے۔ صدر ٹرمپ سے کس نے درخواست کی یہ الگ موضوع ہے لیکن اس موقع پر ٹرمپ نے ڈیل میکنگ کی مہارت دکھا دی تھی۔ اسی ڈیل میکنگ کی مہارت کی بنیاد پر شاید مودی نے ٹرمپ سے کوئی درخواست کی ہو اور ڈیل میکنگ کے ماہر صدر نے شاید اس درخواست کو نئے مفہوم پہنا کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا ہو، غرض یہاں کسی سے کچھ بھی بعید نہیں۔
 
وزیراعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن کا سب سے اہم فائدہ یہ ہو گا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی جانب رخ کریں گے۔جیسے کہ امریکی صدر نے ملاقات میں دوطرفہ تجارت کو 20گنا تک بڑھانے کی بات کی ہے۔ زراعت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ زراعت کو سرِفہرست لانے کا مقصد چین جیسی بڑی منڈی سے ہاتھ دھونے والے امریکی کسانوں کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی تنازع میں امریکہ کی سویا بین کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔توانائی کے شعبے میں جنرل الیکٹرک پہلے ہی پاکستان میں بڑے توانائی منصوبوں کے لیے ٹربائنز فراہم کرچکی ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے نئے منصوبوں میں بھی امریکی کمپنی کو مزید حصہ ملے گا۔ امریکہ ایل این جی اور قدرتی گیس کے شعبوں میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ امریکی کمپنیوں کے آنے سے تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔ خدشہ یہ ہو گا کہ کہیں یہ تجارت تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سبب نہ بن جائے۔ پاکستان کو برآمدات کے لیے امریکہ سے تجارتی رعایتیں درکار ہوں گی جن کا اعلان نہیں ہوا۔ امریکی مالی امداد جنوری 2018ء میں ایک ٹوئیٹر پیغام کے بعد امریکی صدر نے بند کردی تھی، اس کے فوری بحال ہونے کے کوئی آثار نہیں۔امریکہ انخلا پر رضامندی کے باوجود افغانستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔عمران خان سے کہا جا رہا کہ وہ طالبان کو رضامندکریں۔مگر طالبان اس پر تیار نہ ہوں گے۔ امریکہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے لیے راہداری بھی کھلوانا چاہتا ہے۔امریکی حکام سی پیک پر بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سی پیک منصوبوں پر سرمایہ کاری اور قرضوں کو پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کر رہے ہیں۔غرض عمران خان کے دورہ اور اس میں ہونے والی پیش رفت یا منفی اثرات کے بارے میں حقائق اس وقت ظاہر ہو سکتے ہیں جب امریکہ پاکستان سے عمران خان کے وعدوں پر عمل کرنے کی یاددہانی کرائے گا۔ عمران خان حکومت اس دورہ کو اپنی نوعیت کا کامیاب ترین دورہ قرار دیتی ہے۔ تا ہم امریکہ اپنے فوائد اور اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لئے ہی پاکستان کے ساتھ چلا ہے۔ آئیندہ بھی کوئی امکان نہیں کہ کوئی بھی ملک اپنے مفادات کو پاکستان پر قربان کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ اس لئے پاکستان کو بھی اپنے مفادات پر کسی بھی قیمت پر کوئی بھی قلیل یا طویل المعیاد سمجھوتہ کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیئے۔ 


 

تازہ ترین خبریں