08:02 am
مکہ مکرمہ کے فضائل

مکہ مکرمہ کے فضائل

08:02 am

الحمدللہ مکہ المکرمہ نہایت بابرکیت اور صاحب عظمت شہر ہے، ہر مسلمان اسکی حاضری کی تمنا و حسرت رکھتا ہے اور اگر ثواب کی نیت ہو تو یقینا دیدارِ مکۃ المکرمہ کی آرزو بھی عبادت ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مکہ مکرمہ کا بیان کیا گیا ہے، پارہ اوّل سورۃ البقرہ آیت نمبر 126 میں ارشادِ ربانی ہے: ’’اور جب عرض کی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ اے رب (عزوجل) میرے اس شہر کو امان والا کر دے‘‘۔ (ترجمہ کنزالایمان) 
 
پارہ 30 سورۃ البلد کی پہلی آیت میں ارشاد فرمایا:  ’’مجھے اس شہر کی قسم‘‘۔ (یعنی مکہ مکرمہ کی)۔ (خزائن العرفان ص 1104) 
مکۃ المکرمہ کے بہت سے نام کتابوں میں درج ہیں ان میں سے 10 یہ ہیں: ’’اَلْبَلَد، اَلْبَلَدُ، الْاَمین، اَلْبَلَدہ، اَلْقَرْیَۃ، اَلْقَادِسِیَّہ، اَلْبَیْتُ، الْعَتِیق، مَعَاد، بَکّہ، اَلرَّاْسُ، اُمُّ الْقریٰ‘‘۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ معظم ہے: ’’مکے میں رمضان گزارنا غیرمکہ میں ہزار رمضان گزارنے سے افضل ہے‘‘۔ (جمع الجوامع، ج4، ص472، حدیث 12589)۔ حضرت علامہ عبدالرئوف مناوی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: ’’مکۃ المکرمہ میں رہ کر رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھنا غیرمکہ کے ہزار رمضان المبارک کے روزوں سے افضل ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اس مکے کو اپنے گھر کیلئے منتخب فرمایا، اپنے بندوں کیلئے اس میں حج کے مقامات بنائے، اس کو امن والا حرم بنایا اور اس کو بہت سی خصوصیات سے نوازا۔‘‘۔ (فیض القدیر ج4، ص 51، تحت الحدیث 4478) 
پاک گھر کے طواف والوں پر
بارِش اللہ کے کرم کی ہے
حضرت سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام حزورہ کے پاس اپنی اونٹنی پر بیٹھے فرما رہے تھے: ’’اللہ کی قسم! تو اللہ کی ساری زمین میں بہترین زمین ہے اور اللہ کی تمام زمین میں مجھے زیادہ پیاری ہے۔ اللہ عزوجل کی قسم! اگر مجھے اس جگہ سے نہ نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا‘‘۔ (ابن ماجہ ج3، ص518، حدیث 3108)
شارِح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث پاک کے تحت ’’نزہۃ القاری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ ارشاد ہجرت کے وقت کا ہے، اس وقت تک مدینہ طیبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف نہیں ہوا تھا، اس وقت تک مکہ پوری سرزمین سے افضل تھا مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہ شرف اسے حاصل ہوگیا۔ (نزہتہ القاری ج2 ج711) 
مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ کے صفحہ 236  پر ہے: عرض حضور! مدینہ طیبہ میں ایک نماز پچاس ہزار کا ثواب رکھتی ہے اور مکہ معظمہ میں ایک لاکھ کا، اس سے مکہ معظمہ کا افضل ہونا سمجھا جاتا ہے؟ ارشاد: جمہور حنفیہ (یعنی اکثر حنفی علماء) کا یہی مسلک ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مدینہ افضل اور یہی مذہب امیرالمومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ایک صحابی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: مکہ معظمہ افضل ہے۔ (سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے! انہوں نے کہا: واللہ! بیت اللہ و حرم اللہ۔ فرمایا: میں بیت اللہ اور حرم اللہ میں کچھ نہیں کہتا، کیا تم کہتے ہو کہ مکہ، مدینے سے افضل ہے؟ انہوں نے کہا: بخدا خانۂ خدا و حرمِ خدا۔ فرمایا: میں خانۂ خدا و حرمِ خدا میں کچھ نہیں کہتا، کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینے سے افضل ہے؟ (الموطا ج2 ص 396 حدیث 1700)۔ وہ (صحابی) وہی کہتے رہے اور امیر المومنین (رضی اللہ عنہ) یہی فرماتے رہے اور یہی میرا (یعنی اعلیٰ حضرت کا) مسلک ہے۔ 
مالک بحروبر، قاسم کوثر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا یَدْخُلُ الدَّجَّالُ مَکَّۃَ وَلَا الْمَدِیْنَۃَ‘‘ یعنی مکے اور مدینے میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔ (مسند احمد بن حنبل، ج10، ص85، حدیث 26106) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص دن کے کچھ وقت مکے کی گرمی پر صبر کرے جہنم کی آگ اُس سے دُور ہو جاتی ہے‘‘۔
مکۃ المکرمہ میں ہر دَم رحمتوں کی چھماچھم بارشیں برستی ہیں، لطف و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا، مانگنے والا کبھی محروم نہیں لوٹتا، حرم مکہ مکرمہ میں ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ وہاں کا ایک گناہ بھی لاکھ گنا ہے۔ افسوس صد کروڑ افسوس! یہ جاننے کے باوجود بھی بلاتکلف گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے، مثلاً 45 ڈگری کے زاویے کے اندر اندر قبلہ رُخ یا قبلے کو پیٹھ کئے استنجا کرنا حرام ہے نیز بدنگاہی، داڑھی منڈانا، غیبت، چغلی، جھوٹ، وعدہ خلافی، بلاوجہ شرعی مسلمان کی دِل آزاری، غصے کا گناہ بھرا نفاذ، ایذا دِہ تلخ کلامی وغیرہا جرائم کرتے وقت اکثر لوگوں کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔ 


 

تازہ ترین خبریں