08:06 am
بدبوکا جوہڑ

بدبوکا جوہڑ

08:06 am

باباجی کے دونوں اعتراض درست تھے،میں خود بڑے عرصے سے محسوس کررہاہوں،میری تحریر میں ایک بیزاری،ایک لاتعلقی سی آچکی ہے۔وہ تلخی،وہ آگ اوروہ سلگتاہوادردختم ہوتاجارہاہے جواس تحریر کی پہچان تھا۔ایساکیوں ہورہاہے؟میں اکثرخود سے سوال کرتا ہوں۔ ہربارمیںخودکویہی جواب دیتا ہوں،کوئی نیا مو ضو ع ، کوئی نیاایشونہیں۔میں نے بابا جی کوبھی یہی جوازپیش کیا۔میں نے انہیں بتایا ’’باباجی! مہنگائی پرکتنے کالم لکھے جاسکتے ہیں؟ بیروزگاری، جہالت اور بیماری پرکوئی کہاں تک لکھ سکتاہے؟ بدامنی،حکومتی رٹ،حکومتی بے حسی، لوٹ کھسوٹ، کرپشن،دفتری تاخیر،سرخ فیتہ اورسیاسی مکروفریب پرکتنے ٹن مضامین چھاپے جاسکتے ہیں؟ آخر انسانی دماغ کی بھی ایک حدہوتی ہے،آپ سیاپابھی ایک حدتک کرسکتے ہیں،بچہ ماں کوکتناپیارا ہوتاہے،بچہ مرجائے توماں بین کرتی ہے،روتی ہے چلاتی ہے لیکن کتنی دیر؟ایک گھنٹہ،ایک دن یاایک ہفتہ،آخربین چیخوں،چیخیں سسکیوں اور سسکیاں آہوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں،دلِ مضطرب کوچین آجاتاہے۔ایک ہلکی سی کسک،دردکی ایک تھوڑی سی آہٹ باقی رہ جاتی ہے۔
 
کالم نویسوں کے کالم بھی ایک بین،ایک چیخ ہوتے ہیں۔یہ چیخ یہ بین بتاتے ہیں کہ لوگو!تمہارے ساتھ ظلم ہو گیا،تم لٹ گئے،تم بربادہوگئے۔اس چیخ ،اس بین پرلوگ متوجہ ہو جائیں اور ظالم ٹھٹک کررک جائے توکالم اورکالم نویس کافرض پوراہوگیالیکن اگرظالم ان چیخوں،ان بینوں کے باوجودظلم کرتارہے،ایک لمحے کیلئے اس کاہاتھ نہ رکے،اس کے ماتھے پرشرمندگی کاپسینہ تک نہ آئے،تووہ چیخ،وہ بین ایک فضائی آلودگی کے سواکچھ نہیں ہوتی۔لوگ بھی اگراس چیخ اوراس بین کو معمولی سمجھیں اورایک روٹین کادرجہ دے دیں تو بھی یہ چیخیں یہ بین آوازوں کے جنگل میں ایک جھاڑی، سوکھی سڑی اورایک کچلی گھاس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ چوکیدار کے ’’جاگتے رہو‘‘کے اعلان سے اگر چور گھبرائیں اور نہ ہی اہلِ محلہ کی آنکھ کھلے توچوکیدارکیا کرے گا؟اس کی پتلیوں میں بھی نیند ہچکولے لے گی،اس کاضمیربھی جما ئیا ں  لینے لگے گا۔
یقین کیجئے میں جب لکھنے بیٹھتاہوں توخودسے سوال کرتاہوں،کس کیلئے لکھ رہاہوں؟ان لوگوں کیلئے جوغلامی سہنے کی عادت،زیادتیاں برداشت کرنے کی خو جن کی نس نس میں بس چکی ہے،جواپنے اوپرہونے و ا لے ظلم کی داستان کوبھی ایک افسانہ سمجھ کرپڑھتے ہیں، جو اپنے قتل کے گواہ پرہنستے ہیں یااس حکومت کیلئے جوخداترسی کی اپیل کوپاگل اورقنوطیوں کا ’’واویلا‘‘ سمجھتی ہے۔میں اس نتیجے پرپہنچ چکاہوں آپ بیل کولیکچر کے ذریعے چیتانہیں بناسکتے ۔ بھیڑیئے کے دل میں بھیڑ کیلئے  ہمدردی بھی نہیں جگاسکتے، لہنداصاحبو! سچی بات  ہے سیاپے کی یہ نائین(پیغام دینے والی مائی)تھک چکی ہے۔آخرقبرستانوں میں اذان دینے کی ایک حدہوتی ہے! رہا دوسرااعتراض تومیں نے پچھلی چاردہائیوں میں سیاستدانوں کے وہ رنگ دیکھے کہ لفظ سیاست سے مجھے بدبوآتی ہے۔مجھے محسوس ہوتاہے کہ میں کسی کچراگھرکی دیوارپربیٹھا ہوں، ایسی دیوارجس میں اصول، انصاف، وفاداری،ایمانداری اورضمیرنام کی ہروہ خوبی،ہروہ و صف گل سڑرہاہے،جس کی وجہ ایک درندہ اشرف المخلوقات بنتا،مجھے ان اوصاف ، ان خوبیوں کے لاشوں میں کیڑے رینگتے نظرآتے ہیں۔میں نے ان پچھلی چار د ہا ئیوں میں ان لوگوں کواپنے محسنوں کو گالیاں دیتے دیکھا۔میں نے فوجی حکمرانوں پرتنقیدکرنے والوں کوان کے تلوے چاٹتے دیکھا۔آپ کویادہوگاکہ جنرل ضیاالحق نے جب کہاتھا کہ میں ان سیاستدانوں کواشارہ کروں تویہ دم ہلاتے میرے پاس آجائیں۔میں اس وقت سے اب تک کھلی آنکھوں سے اشارے کے بغیردمیں ہلتیں اورزبانیں نکلتی دیکھ رہاہوں۔
آپ کسی غیرت مندکوگالی دے سکتے ہیں لیکن جس کی آنکھوں کی شرم ہی مرچکی ہو،جسے پارٹی بدلتے، وفاداری تبدیل کرتے،نظریہ اورمنشور بھلاتے اتنے دیر بھی نہ لگتی ہوجتنی بنیان بدلنے یا جرابیں تبدیل کرنے میں لگتی ہے توآپ اس کوکتنابرابھلا کہیں گے۔یارو!ان سے تووہ شخص بہترتھا جس نے یہ کہاتھا کہ میں انکار میں اتنا آگے جاچکا ہوں کہ میرے لئے واپسی ممکن نہیں۔ بابا جی!آپ خودسوچیں!بدبوکے اس جوہڑپر کیا لکھاجائے؟ ان غلاظت اورسڑاندبھرے کچراگھروں سے کون سا سورج  طلوع ہوگا،یہ لوگ کس مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔اپنے مفادات کی کوکھ میں پروان چڑھنے والے لوگ اپنی انا،اپنا ضمیراوراپنی زبان گروی رکھ کرجنم لیاکرتے ہیں۔وہ جمہوریت جومفادپرستی کے پیٹ میں ہلکورے لے رہی ہواس سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے؟
جولوگ اپنے نظریئے پرقائم نہیں رہ سکے، جو اپنے لیڈروں کے نہیں ہوسکے وہ میرے یاآپ کے کیاہوں گے۔وہ میرے نظریات ،میرے احساسات اور میرے جذبات کی کیا ترجمانی کریں گے۔وہ میرے لئے تبدیلیوں کے کون سے سورج تراشیں گے،وہ ا نقلا ب کے کن سویروں کی پنیریاں لگائیں گے۔
ہمارے یہ سیاستدان کشمیرکے مظلوم اور بے کس لوگوں کوکیاپیغام بھیج رہے ہیں جوپچھلے دوہفتوں سے بھارتی فوج کی سفاکی اورظلم وستم کے باوجود اپنے حق کے حصول کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اوراس تحریک کوہرحال میں اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپناسب کچھ داپرلگاچکے ہیں۔بھارتی فوج 94سالہ بوڑھے مریض مردِ حریت جناب سید علی گیلانی سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ان کو اوران کے دوسرے کئی ساتھیوں کو جیل کی اذیت ناک کوٹھڑیوں میں بندکر رکھاہے۔ کیاجیل کی سلاخیں کشمیرکی آزادی کاراستہ روک سکتی ہیں ؟ کیاکشمیریوں کے محبوب لیڈرسیدعلی گیلانی کوعوام کے دلوں سے الگ کیاجاسکتا ہے؟کیا مجاہدہ سیدہ آسیہ اندرابی کے عزم کوکمزورکیا جاسکتاہے؟تاریخ گواہ ہے کہ ایسانہ کبھی ہوا ہے اورنہ ہی اب ممکن ہے!لیکن ہمارے اس سیاستدان کوکل کلاں تاریخ کس نام سے یادکرے گی؟
 خدا کی قسم!میں اپنے وجودپرشرمندہ ہوں، مجھے شرم آتی ہے،میں کس دور،کس عہدمیں جی رہا ہوں۔ میں اپنے بچوں،اپنی آئندہ نسل کوکس عہد،کس دورمیں چھوڑ کرجاؤں گا۔میں توہواکے اس جھونکے سے بھی ہلکاہوگیا ہوں جواگرچلتی ہے تودنیاسے بدبوکاایک تولہ،سڑاند کاایک آدھ ماشہ کم ہوجاتاہے اورباباجی کہتے ہیں کہ میں ان سیاستدانوں پرلکھوں، شیطان کوبد دعائیں دوں،یہ جانتے ہوئے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاپوں، بینوں اورچیخوں سے مردے جاگا کرتے ہیں اورنہ ہی بد دعاؤں سے شیطان مرا کرتے ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں