08:07 am
اکتوبر میں کیاہونے والا ہے؟

اکتوبر میں کیاہونے والا ہے؟

08:07 am

٭راولپنڈی: نواحی گائوں پر فوجی تربیتی طیارہ کا حادثہ 19 افراد جاں بحقO مولانا فضل الرحمان، اسلام آبادپر اکتوبر میں لشکر کشی کا اعلانO عرفان صدیقی گرفتاری، رہائی، سخت ردعملO سرکاری اجلاس، وزیر زراعت موجود، صدارت جہانگیر ترین O ایوان صدر، 27 کروڑ کے دہی بھلّے کا سکینڈل، کھائے نہیں، بل ادا کیا گیاO قومی و پنجاب اسمبلیوں میں تصادم ہوتے ہوئے رہ گیاO تھرپارکر، نگرپارکر: چار سال بعد بارش، تالاب بھر گئےO سندھ، کراچی، موسلا دھار، طوفانی بارشیں!
 
٭فوجی گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات کے اگلے روز ایک گائوں پر فوج کا تربیتی طیارہ گر گیا۔ پانچ فوجیوں سمیت 19 افراد جاں بحق، چار مکان جل گئے۔ تفصیل خبروں والے صفحہ پر! اِنّا للہ و انا الیہ راجعون! پاک فوج! دنیا کی سب سے بڑی طاقت فوجوں میں شمار، تنخواہیں سب سے کم، قربانیاں سب سے زیادہ!۔ بریگیڈیئر (ر) محمد یوسف ملٹری انٹیلی جنس صوبہ پنجاب کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک پیغام میں ایک بڑے اخبار اور ٹیلی ویژن کے کالم نگار و اینکر پرسن کے بارے میں بہت سخت الفاظ میں ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پیغام کے مطابق اس شخص نے بلندبرف پوش پہاڑی علاقے میں ایک مورچے میں بیٹھے فوجی سے پوچھا کہ ’’تم کتنا کما لیتے ہو؟‘‘ اس فوجی نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا کہ جناب! میرا دادا، میرا باپ اس وطن کی حفاظت کے لئے شہید ہوئے، اب میری باری ہے، میرے بعد میرے بیٹے کی باری آئے گی! صاحب ہم کوئی دھندا کرنے نہیں، وطن کی خاطر سر کٹانے کے لئے آئے ہیں، دھندا کرنے والے تو تخت پر بیٹھتے ہیں اور ہم مورچوں میں! اور ہاں صاحب! ذرا نیچے ہو کر بیٹھیں، کہیں میرے نام کی آنے والی کوئی گولی آپ کو نہ لگ جائے!‘‘
٭مولانا فضل الرحمن نے عمران خا ن کی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ وہ اگست کے مہینے میں استعفا دے دے، ورنہ اکتوبر کے مہینے میں ان کا دس لاکھ کا لشکر اسلام آباد پر چڑھائی کر کے حکومت کا تختہ الٹ دے گا! مولانا کی لشکر کشی میں جمات اسلامی نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ن لیگ بھی حکومت کو گرانے کی مخالفت کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اسلام آباد کی طرف مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا نے اکتوبر میں اسلام آباد پر قبضے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے ایک قریبی ذریعے کے مطابق 14 اکتوبر کو مولانا کے والد مفتی محمود کی 37 ویں برسی ہے۔ اس روز اسلام آباد پر لشکر کشی کا زیادہ امکان ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پچھلے برس پاکستان کا یوم آزادی منانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ 14 اگست کو پاکستان کو غلامی سے آزاد کرنے کی جدوجہد شروع کی جائے گی۔ ایک قاری نے نکتہ نکالا ہے کہ مولانا نے چند شہروں میں ہزاروں افراد پر مشتمل ملین (10 لاکھ) مارچ کئے ہیں۔ وہ ان ریلیوں کو دس لاکھ کی ریلیاں اس لئے قرار دیتے ہیں کہ وہ ایک بار خود کہہ چکے ہیں کہ ان کے دینی مدارس میں دس لاکھ طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ویسے اکتوبر کے مہینے کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں ایوب خا ن (8، اکتوبر)، اور پرویز مشرف نے (12 اکتوبر) کو مارشل لا لگا کر ملک میں جمہوریت کو کالعدم کیا تھا۔ ایک قاری نے کہا ہے کہ مولانا کی اقتدار کی ہوس ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔ وہ 2019ء کے انتخابات میں ہار گئے مگر ملک کے 4 ستمبر 2018ء والے صدارتی الیکشن میں امیدوار بن گئے۔ اس الیکشن میں تحریک انصاف کے عارف علوی کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن مضبوط امیدوار تھے۔ پیپلزپارٹی نے مولانا سے بہت اپیلیں کیں کہ اپوزیشن کے ووٹ بٹ جائیں گے وہ الیکشن ہار چکے ہیں، ان کے باعث اپوزیشن کے ووٹ بٹ جائیں گے ۔ مگر مولانا نے ایک نہ سنی! نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا اپنے ساتھ اعتزاز احسن کو بھی لے بیٹھے! ٭اس کالم میں ذکر ہوا ہے کہ سابق صدر سید ممنون حسین کے پانچ سال کے دور میں 27 کروڑ روپے (روزانہ ایک لاکھ 9 ہزار روپے کے) کے دہی بھلّے کھائے گئے۔ اب وضاحت ہوئی ہے کہ دہی بھلّے تو چند سو یا چند ہزارروپے کے آئے ہوں گے مگر 27 کروڑ کا بل ادا ہوا!! استغفار! کیا صدر مملکت نے بِل چیک نہ کیا؟ کیا دوسری بات درست ہے کہ…؟ مجھے ایک سابق گورنر جنرل (صدر) غلام محمد کا دور یاد آ گیا۔ اس کی سیاست اپنی جگہ مگر سخت دیانت دار آدمی تھا۔ رات کو جانے سے پہلے صدارتی دفتر کا روزانہ حساب چیک کرتا تھا۔ ایک روز دفتر والوں نے روشنائی کی اکٹھی دو دواتیں منگوا لیں۔ غلام محمد سخت ناراض ہوا کہ ایک دوات سے کام چل سکتا تھا تو دو کیوں منگوائیں؟ وہ گورنر جنرل ہائوس کے لئے منظور شدہ روزانہ کا پورابجٹ بھی استعمال نہیں کرتا تھا، اس میں سے کچھ رقم بچا لیتا۔ پھر یہ جمعہ کے دن شہر کے کسی یتیم خانے کے بچوں کو گورنر جنرل ہائوس بلاتا۔ چھ دنوں کی بچی ہوئی رقم سے انہیں کھانا کھلاتا اور ہر بچے کو نیا لباس دیتا تھا۔ اس گورنر جنرل کا اپنا ذاتی عالم یہ کہ کراچی میں کوئی ذاتی گھر نہیں تھا۔ صدارت سے فارغ ہوا تو شہر کے ایک حصے میں اپنی بیٹی کے چھوٹے سے گھر میں جا کر ایک کمرے میں چار پائی پر لیٹ گیا۔! پاکستان ایسے ہی نہیں چلا! اور اب 27 کروڑ کے دہی بھلّے!
٭بے حد خوش ہوں۔ خدا کا شکر کہ چار سال کی مسلسل خشک سالی کے بعد بالآخر تھر پارکر اور نگر پارکر کی پیاسی زمین پر باران رحمت کھل کر برسی! موسلا دھار بارش سے اس ریگ زار کے تالاب، کنوئیں اور ٹوبے بھر گئے۔ پٹیانی اور گروھر و ندیوں میں پانی بہنے لگا اور ’’کورون جھر‘ کے پانچ ہزار فٹ سلسلہ کوہ کے چہرے پر چار سال سے جمی گرد صاف ہو گئی۔ میں نگر پارکر کے ایک تالاب میں جمع پانی میں بہت سے بچوں کو پانی میں نہاتے اور خوش ہوتے دیکھ کر بے حد مسرور ہو رہا ہوں۔ رب کریم! ہم سب آپ کے بے حد شکر گزار ہیں!
٭افسوس! قومی اسمبلی میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا اور مخلوق خدا ہاتھا پائی، مُکّوں، ایک ددوسرے کے حسب نسب کے بارے میں تازہ معلومات کے افشا سے محروم رہ گئی! حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ ایک کے مُکّے اور دوسرے کی ناک کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ گیا تھا، اچھا خاصا شو شروع ہونے والا تھا مگر ایک رکن کو نہ جانے کیا ہوا، اچانک کورم ختم ہونے کی آواز بلند کر دی اور اجلاس اسی حالت میں ختم ہو گیا۔ ویسے افسوس کی کوئی بات نہیں، یہ دلچسپ نظارہ تو روز چلتا رہتا ہے! اگلے اجلاس کا انتظار کیجئے!
٭پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ شروع ہوا، چند منٹ جاری رہا اور ختم ہو گیا۔ دو کروڑ روپے کے اخراجات! ارکان اسمبلی کا الائونس 46 لاکھ 70 ہزار روپے، اسمبلی سٹاف کا خصوصی معاوضہ ایک کروڑ 26 لاکھ روپے! ڈاکہ، رہزنی، لوٹ مار اور کیا ہوتی ہے؟

 

تازہ ترین خبریں