08:07 am
مسئلہ کشمیر کا حل ، حق خودارادیت

مسئلہ کشمیر کا حل ، حق خودارادیت

08:07 am

(گزشتہ سےپیوستہ)

جموں و کشمیر میں دلی سرکار کی یہ خوفناک سازش کارفرما ہے کہ آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا جائے ۔ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی خاطر ہندوستانی آئین کی دفعات 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر میں نئی آباد کاری ، کشمیری اور ہندوپنڈتوں کی الگ بستیاں بسانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ ہندوستانی عدلیہ کشمیر کے معاملہ میں عالمی قوانین کی بجائے ہندوستانی حکومت کے تابع فرمان ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ ایسا تھنک ٹینک جو آر ایس ایس کی پشت پناہی میں کام کررہا ہے ، اس کے ذریعے آئینی دفعات عدلیہ میں چیلنج کی گئی ہیں ، یہ ملی بھگت اور سازش ہے ۔ اقوام متحدہ ہندوستان کی ریاستی طاقت کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے اقدام کو روکے ۔ ہندوستانی حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے تنبیہ ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوگی ، ہندوستانی قیادت اس کھیل سے باز رہے ۔ 
 ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہاہے ۔ اقوام متحدہ ، یورپی پارلیمنٹ ، او آئی سی ، برطانیہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام ، اجتماعی آبروریزی ، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کی شہادتیں ، جبری گمشدگیوں ، حراستی قتل ، جان بوجھ کر پیلٹ گنوں کے ذریعے انسانوں کو بینائی سے محروم کرنا بڑا ہی المناک منظر ہے ۔ بین الاقاومی ادارے ہندوستان کا ہاتھ روکیں ، مجبور کریں ، ریاستی دہشت گردی کے شکار مظلوم و بے بس کشمیریوں کو انصاف مہیا کریں ۔ عالمی سطح پر مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر مقبوضہ کشمیر تک اس کی رسائی یقینی بنائی جائے ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن کی مقبوضہ کشمیر بارے رپورٹ ہوشربا اور چشم کشا ہے ۔ ہندوستان کے خلاف انسداد ی اور تعذیبی اقدامات ناگزیر ہیں ۔ 
 مسئلہ کشمیر کا حل پرامن ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مسئلہ کشمیر بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اسے حل کیے بغیرپاک بھارت تعلقات کی بحالی اور جنوبی ایشیا میں امن و ترقی اور استحکام ایک خواب ہی رہے گا ۔ دوایٹمی طاقتوں کے درمیان کور ایشو مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جاری کشیدگی پوری دنیا کے امن کے لیے خوفناک خطرات برقرار رکھے گی ۔ عالمی برادری کو جانبداری اور لاتعلقی کا رویہ ختم کرنا ہوگا ۔ سیز فائر لائن پر بلااشتعال فائرنگ ، شہریوں کا قتل اور خلا ف ورزیاں قابل مذمت ہیں ۔ ہندوستانی قیادت ہوش کے ناخن لینے کی بجائے حواس باختگی میں انسانوں کو ہی ظلم کا شکار کر رہی ہے ۔ عالمی سطح پر کسی ثالثی کو ہندوستان تسلیم نہیں کرتا ۔ پرامن مذاکرات کے ہر دور کو ہندوستان نے ہی ناکام کیاہے اس لیے بھارت سے کسی خیر ، عقل ، حل کی توقعات معدوم ہو گئی ہیں ۔ ہندوستانی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو ہمہ گیر حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی ۔ کشمیریوں کے مایوسی میں بدلتے جذبات کو سہارا دینا ہوگا ۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس نے ہندوستان کے دہشت گرد چہرے کو بے نقاب کیاہے ۔ موثر پالیسی ، حکمت عملی ، سفارتکاری پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔ 
  حکومت اور قومی قیادت مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، ریاستی دہشت گردی سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے پارلیمنٹ اور قومی قیادت کے ذریعے متفقہ قومی پالیسی و حکمت عملی ترتیب دے ۔ ہندوستان پر دبائو بڑھانے کے لیے دنیا کے سفارتی حساس مراکز خصوصا اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل ممبران ممالک میں موثر سفارت کاری کی جائے ۔ بین الاقوامی میڈیا کو دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر موثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے مضبوط قومی کشمیر پالیسی کے ذریعے آگاہ رکھا جائے ۔ سوشل میڈیا طاقتو ر ذریعہ ابلاغ ہے ، پوری قوم اور نوجوانوں کی صحیح سمت دینے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں ۔ بار بار مذاکرات کے لیے ہندوستان کے سامنے کشکول پھیلانا غلط حکمت عملی ہے ۔ مضبوط دو ٹوک قومی کشمیر پالیسی اور عالمی سطح پر موثر سفارتی حکمت عملی ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ ہموار کرے گا ۔ بھارت پاکستان کی سلامتی اور آزادی پر حملہ آور ہے ۔ دہشت گردی کے پیچھے مودی ہے ایسے اقدام ناقابل یقین اور ناقابل قبول ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مودی سے بات ہوچکی ، کشمیر پر ثالثی کراسکتاہوں ،بہت ہی معنی خیز ہے ۔ کچھ معلوم نہیں کہ ٹرمپ کی ثالثی کے تھیلے میں کیا ہے ۔ پاکستان ہوشیا ررہے ، امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو دھوکہ دیا، ہندوستان کی ہمیشہ ناجائز پشتیبانی کی۔مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف اور صرف کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے میں ہے ۔ 

تازہ ترین خبریں