08:08 am
مستقل مزاجی اورعزیمت

مستقل مزاجی اورعزیمت

08:08 am

ہاں حالات توخراب ہیں،بہت خراب‘لیکن کیوں ہیں؟میں نہیں جانتا،سوچتاضرورہوں اورمیں اس نتیجے پرپہنچاہوں کہ میں اصل نہیں ہوں جعلی ہوں۔ایک کشتی کی بجائے بہت سی کشتیوں میں سوارہوں۔ایک راستہ چھوڑکربہت سے راستوں پرگامزن ہوں۔ ادھورا اورنامکمل ہوں میں‘میں اپنااعتمادکھوبیٹھاہوں اور سہاروں کی تلاش میں ہوں۔میں اتناتوجانتاہی ہوں کہ بیسا کھیو ں سے میں چل تولوں گالیکن دوڑنہیں سکوں گا،پھربھی بیساکھیوں کاسہارا!میں گلے اور شکوے شکایت کر نے والابن گیاہوں‘مجھے یہ نہیں ملا ،میں وہ نہیں پاسکا،ہائے اس سماج نے تومجھے کچھ نہیں دیا،میرے راستے کی دیواربن گیاہے۔
 
میں خودترسی کاشکارہوں،میں چاہتاہوں کہ ہرکوئی مجھ پرترس کھائے،میں بہت بیچارہ ہوں،میراکوئی نہیں۔میں تنہاہوں،مجھے ڈس رہی میری اداسی‘ہائے میں مرگیا،ہائے میں کیاکروں،میں مجسم ہائے ہوں۔ میں کیاہوں،میں کون ہوں مجھے کچھ معلوم نہیں۔عجیب سے مرض کاشکارہوں میں۔بس کوئی مجھے سہارادے ، کوئی میراہاتھ تھامے،کوئی میری بپتاسنے‘بس میری اورمیں کاچکر۔میں اس گرداب میں پھنس گیاہوں اورنکلنے کی کوشش کی بجائے اس میں غوطے کھارہا ہوں۔میں حقائق سے آ نکھیں چراکرخواب میں گم ہوں۔ہرشے بس مری دسترس میں ہو،جبکہ میں جانتا ہوں کہ میں کن کہہ کرفیکون نہیں دیکھ سکتا،پھربھی!
میں اس پرتوکبھی غورہی نہیں کرتاکہ میں نے کیا دیالوگوں کو!اس سماج کومیں نے کیادیا!میں دینا جانتا بھی ہوں یامجھے بس لیناہی آتاہے؟کبھی نہیں سوچا میں نے ۔مجھے خودسے فرصت ملے توسوچوں بھی ناں!میں نے کسی سے محبت کادعویٰ کیا،جینے مرنے کی قسمیں کھائیں اورپھراسے دھوکادیا،اس کے اعتمادسے کھیل گیا۔ایساہی کیاناں میں نے!میں اسے کوئی جرم نہیں سمجھتا۔کسی نے مجھ سے ہمدردی کی،میراساتھ دیا، مجھے اپنے کام میں شریک کیااورمیں نے کیا کیا؟ جب میرا ہاتھ کشادہ ہواتواسے چھوڑکردوسروں کے پاس جابیٹھا، ایساہی کیاناں میں نے،میں نے اپنی چرب زبانی سے لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالے، انہیں سہانے خواب دکھائے،مفلوک الحال لوگوں کوجعلی پلاٹ فروخت کر دیئے، کسی غریب نے قرض لے کرمجھے پیسے دیئے کہ میں اسے باہربھیج دوں تاکہ اس کا ہاتھ کشادہ ہو،میں نے کسی اورکے ہاتھ بیچ ڈالا،اس کاپورامستقبل تباہ کرڈالا۔میں نے اپناپیٹ بھرنے کیلئے ہر وہ کام کیاجس پرمجھے شرم آنی چاہیے لیکن میں اترائے پھرتاہوں۔میں نے بڑے لوگوں سے تعلقات بنائے اس لئے کہ وہ میرے کرتوتوں میں میری معاونت کریں۔
میں نے غنڈوں اوربدمعاشوں کی فوج تیارکی اورخاک بسرلوگوں کوزندہ درگورکردیااورپھربھی میں معزز ہوں۔میں نے بینکوں سے فراڈکے ذریعے بھاری رقوم کاہیرپھیرکیااورکئی ایکڑپرمحیط فارم ہائوس بناکراس میں عیش وعشرت سے رہنے لگا،اپنے جرائم کومیں دیکھتاہی نہیں ہوں۔میں نے قبرستان میں کئی مردے دفن کئے اورخودکبھی نہیں سوچاکہ مجھے بھی یہاں آناہے۔میں نے جعلی ادویات بنائیں،انہیں فروخت کیااوراپنی تجوریاں بھرلیں،میں نے مذہب کوپیسہ کمانے کاذریعہ بنالیا،میں ایک بہت اچھا بہروپیاہوں جوایسا روپ دھارتا ہے کہ اصل کاگمان ہو۔میں نے لوگوں کی فلاح وبہبودکاکام بھی اس لئے کیاکہ لوگوں میں میری واہ واہ ہو اورسماج میں میری وقعت بڑھے اورپھراس کوبھی پیسے کمانے کاذریعہ بنالیا  ماہ رمضان میں نے چندروپوں کاراشن تقسیم کیا اوراپنی اس سستی شہرت کیلئے اس سخاوت کی تصاویر بنواکر اخبارات کوجاری کیں،ان کوبارباردیکھ کراپنے نفس کوخوب موٹاکیا۔کوئی ان کویہ نہیں بتاتاکہ ماہ رمضان کے بعدبھی بھوک لگتی ہے۔ 
میں نے رشوت لی،حق تلفی کی،ہرناجائزکام کیااور جائزکام والوں کوراستہ ہی نہیں دیاجب تک میری جیب نہ بھردی انہوں نے۔عجیب ہوں میں،بندہ نفس ، بندہ مکر وفریب،بندہ حرص وہوا۔ہم سب مجرم ہیں،کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں،اگرکسی نے مجھے گالی دی میں نے اس کوقتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیااورجب اللہ کے قا نون کوتوڑاگیاتوبس میں تبصرہ کرتارہ گیا،مسجدیں بموں سے اڑادی گئیں اورمعصوم ویتیم بچیوں کوفاسفورس بموں سے بھسم کردیااورمیں بس ٹی وی کے سا منے بیٹھادیکھتارہا۔ میں نے ملک اوراس میں رہنے والے معصو م لوگوں کیلئے آخرکیا کیا؟ سوائے جمع زبانی خرچ کے!پھرجب میں ہلکان ہوگیا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ میں اس عذاب سے جومیں نے اپنی غلط کاریوں کی بدولت خریداہے اس سے نجات کیسے حاصل کروں۔تب میں نے پہلے اقرارکیا اپنی خطاں کااپنے رب کے سا منے اورپھرعزم کیا۔نہیں اب میں بندہ نفس نہیں،بندہ رب بننے کی کوشش کروں گا۔یہ بہت مشکل ہے،بہت زیادہ‘لیکن میں نے اپنے رب کوسہارابنالیااورمیرے زخم بھرنے لگے، پھرایک دن ایسابھی آیاکہ میں نے تہیہ کرلیا کہ میں اپنے لئے نہیں خلق خداکیلئے زندہ رہنے کیلئے کوشش کروں گا۔آپ رب کریم کاسہاراپکڑلیں تومشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔مجھے بہت الجھن ہونے لگتی تھی کہ میں عذاب اورآزمائش میں فرق کیسے کروں،تب میں نے اپنا مسئلہ ان کے سا منے رکھ دیا،بہت دیرتک دیکھتے رہے،مسکراتے رہے اورپھر ایک ہی چٹکی میں یہ مشکل بھی حل کردی۔
دیکھ بہت آسان ہے عذاب اورآزمائش میں فرق رکھنا،جب کوئی پریشانی،مصیبت،دکھ یاکوئی مشکل آئے اوروہ تجھے تیرے رب کے قریب کردے توسمجھ لے یہ آزمائش ہے اور جب کوئی پریشانی، مصیبت، دکھ یاکوئی مشکل تجھے رب سے دورکردے توسمجھ لے یہ عذاب ہے،توبہ کاوقت ہے،ضرورکرتوبہ اورجلدی کر اس میں!
ہمارے چاروں طرف کیاہورہاہے،ہمیں خوددیکھنا اورسوچناچاہیے،ہم اجتماعی آزمائش میں مبتلا ہیں  یااجتماعی عذاب میں؟وقت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکل رہاہے کہ بندمٹھی میں خشک ریت کوبھلاکون روک سکاہے؟دل پتھرکی طرح سخت ہوگئے ہیں،ان کوکیسے نرم کیاجائے۔باباجی بڑے شائستہ اندازمیں سمجھارہے تھے کہ ’’پانی سے ہی کچھ سبق سیکھ لو!پانی نرم ہوتاہے اورپتھرسخت،اوردونوں کی سختی اورنرمی میں ازل سے ایک جنگ جاری ہے۔پانی پتھرکی سختی کوتوڑناچاہتا ہے  اورپتھرپانی کی نرمی کوشکست دینے پرتلا رہتا ہے لیکن بالآخریہ جنگ پانی اپنی نرمی کے ساتھ جیت جاتاہے کیونکہ پانی ہمیشہ پتھروں کادل چیردیتا ہے اوراسے ریت کے چھوٹے چھوٹے ذروں میں تحلیل کرکے شکست فاش سے ہمکنارکردیتاہے اورپھران ذروں کوسینکڑوں، ہزاروں  میل دورتک پھیلادیتاہے‘‘۔


’’اللہ تعالیٰ نے پانی کوایک ایسی شاندا ر صلا حیت  سے نوازرکھاہے جوقدرت کی کسی دوسری تخلیق میں نہیں۔اللہ تعالی نے پانی کومستقل مزاجی سے نوازہ ہے، پانی برستے،گرتے اور چلتے ہوئے کبھی نہیں تھکتا،یہ ایک ہی رفتارسے مسلسل آگے بڑھتاچلاجاتاہے اوراپنی مستقل  مزاجی سے پتھروں کوریت کے ذروں میں تبدیل کردیتاہے۔اللہ تعالیٰ نے پانی کے بعد انسانوں کوبھی اسی صلاحیت سے بہرہ مندکررکھاہے۔انسان کے پاس اگرکوئی ہنریاکوئی صلاحیت نہ ہو،یہ ذہنی، جسمانی اورروحانی لحاظ سے معذورہی کیوں نہ ہو،یہ غریب،نادار اور مسکین ہی کیوں نہ ہو،یہ غلام ابن غلام یاناکام ابن ناکام ہی کیوں نہ ہولیکن اگرمستقل مزاجی اپنالے تویہ دنیامیں سب کچھ پاسکتاہے اوراس پانی کی طرح اپنی محرومیوں،اپنی ناکامیوں اوراپنی تمام معذوریوں کے پتھروں کوریت کے ذروں میں تبدیل کرسکتاہے اوراپنے راستے کی تمام رکاوٹوں کواڑاسکتاہے‘‘۔
دانائے رازنے کیاسادگی سے بات سمجھا دی، مستقل مزاجی ایسی نعمت ہے جوپانی کی دھار کو تیشہ بنادیتی ہے اوریہ تیشہ پتھرکاجگر پھاڑ دیتاہے۔ کامیابی اورناکامی میں صرف ارادے اورمستقل مزاجی کافرق ہوتاہے۔مستقل مزاج لوگوں کاقدکاٹھ خواہ چیونٹی کے برابرہی کیوں نہ ہویہ چلتے چلتے بالآخرپہاڑکی چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں اورغیرمستقل مزاج لوگ خواہ ہاتھیوں سے بڑے ہی کیوں نہ ہوں یہ مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔ 


 

تازہ ترین خبریں