08:09 am
آزاد کشمیر پر بھارتی جارحیت

آزاد کشمیر پر بھارتی جارحیت

08:09 am

بھارتی قابض فوج نے آزاد جموں و کشمیر کی آبادی پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ تیز کر دی ہے۔ منگل کو بھارت نے وادی نیلم ،وادی جہلم اور وادی لیپا کے کئی سیکٹرز پر توپ خانے سے گولہ باری کی۔ بھارت نے پہلی بار نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ نوسیری میں تعینات دو رینجرز اہلکار زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے ایک بار پھر شاردا میں ہزاروں سال قدیم بدھ ازم اور ہندو ازم کے مندروں کے کھنڈرات کو بھی نشانہ بنایا۔ بھارتی گولہ باری سے  2 شہری جاں بحق اور 6 خواتین سمیت 24 افرادکے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
 
 بھارتی فوج  مساجد، ہسپتالوں اور سکولوں پر بھی توپ کے گولے پھینک رہی ہے۔ کل کی گولہ باری سے ڈسٹرک ہسپتال اٹھمقام کی لیب کو نقصان پہنچا۔ حکام نے شاہراہ نیلم دھنی سے عام ٹریفک کے لئے بند کر دی۔ وادی جہلم کے گڑھی دوپٹہ ، ڈنہ سیکٹر پر بھی بھارت نے جارحیت کی۔  بھارتی شیلنگ سے قیصر کوٹ اور بیجل دار گاؤں میں تین گھر مکمل تباہ ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے مطابق  بھارتی فورسز نے جنگ بندی لائن کے لیپا، جورا، ڈنہ، شاردا اور شاہ کوٹ سیکٹرز میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بھارتی فورسز کی شیلنگ کا بھرپور جواب دیا۔پاک فوج کی جوابی کاررور1ائی کے نتیجے میں 3 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔پیر کو  بھارتی فورسز کی جارحیت سے ایک خاتون جاں بحق اور 5 خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے تھے۔یہ واقعہ ضلع حویلی میں خورشید آباد اور نیزا پیر سیکٹر میں رات گئے پیش آیا ۔  بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جبکہ خورشید آباد سیکٹر میں بھی بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔حویلی کے ڈپٹی کمشنر راجہ ارشد محمود کا کہنا تھا کہ متاثرہ گاؤںجنگ بندی لائن  کے قریب واقع ہیں جس کی وجہ سے انسانی و مالی نقصانات کے بارے میں معلومات کافی دیر سے موصول ہوئیں۔
آج جب نیلم وادی میں سیاحت کا موسم ہے، بھارتی فوج  چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے اور شہری آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔سیاح بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ روز  پاکستان نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں ایک خاتون کے شہید  اور 4 شہریوں کے زخمی ہونے پر بھارٹی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے سخت احتجاج کیا لیکن بھارت اس احتجاج کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے کیلر اور نیزاپیر سیکٹر پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید  جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے۔اس واقعے پر ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کیا اور پاکستان کی طرف سے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی افواج مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ 
ترجمان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔پاکستان،  بھارت پر مسلسل زور دے رہا ہے کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے اور بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے جبکہ جنگ بندی لائن  اور ورکنگ باونڈری پر بھارت امن کو برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کے امن مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے دے۔ 22 اور 23 جولائی کو بھی بھارتی فورسز کی جنگ بندی لائن  پر بلااشتعال فائرنگ سے 22 سالہ محمد ریاض اور ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں تھیں جبکہ 4 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔جنگ بندی معاہدے کی اس خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا گیا تھا اور اس وقت بھی خبردار کیا گیا تھا کہ بھارت کا عمل کسی تزویراتی غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے 2017 سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے، ان 2 برسوں میں بھارت نے ایک ہزار 9 سو 70 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف وزری کی۔اگر چہ کشمیر کی جنگ بندی لائن کے آر پار اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی رپورٹیں مسلسل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ارسال کر رہے ہیں۔ یہ مبصرین سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ایک مینڈیٹ لے کر کشمیر کی جنگ بندی لائن کے آر پار موجود ہیں۔ بھارت ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے مگر پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی رپورٹوں پر اقوام متحد ہ کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ اگر اقوام متحدہ بھارت پر دبائو بڑھا دیتی تو بھارت شہری آبادیوں پر جارحیت کا کبھی نہ سوچتا۔
 ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے بعض ممالک یہ چاہتے ہوں گے پاکستان اور بھارت میں کشیدگی برقرار رہے۔ تا کہ دونوں ممالک ان کے زنگ آلود اسلحہ کی خریداری جاری رکھیں۔ اس جنگی سازو سامان کی خریداری میں بھاری کرپشن اور سودوں میں کمیشن خوری کے انکشافات بھی ہو چکے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اپنا کیس دنیا کے سامنے پیش کرے۔ سفارتی اور سیاسی طور پر پاکستانی سفارت کار اپنا کردار ادا کریں۔ دنیا کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا جائے۔ اسلام آباد میں مقیم دنیا کے سفارت کاروں کو کشمیر کی جنگ بندی لائن کا دورہ کرا کر حقائق سے روشناس کیا جائے۔ عا لمی میڈیا کو بھی بھارتی جارحیت کے شکار عوام سے براہ راست رابطے کا انتظام ہو تو دنیا سچ جان سکتی ہے۔ اس طرح بھارت پر کسی حد تک عالمی دبائو بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر مسلم دنیا تک بھی  کشمیریوں کی چیخ و پکار پہنچا دی جائے تو بھی بھارت دبائو میں لایا جا سکتا ہے۔ بھارت کے لاکھوں لوگ عرب دنیا میں کام کرتے ہیں۔ ان سے بھارت اربوں روپے زر مبادلہ کماتا ہے۔ پاکستان اگر اس تناظر میں لابنگ کرے تو ہر ملک کے اپنے مفادات اپنی جگہ مگر کم از کم بھارت کو کچھ انتباہ ہی کیا جانا آسان بن سکتا ہے۔ اس سے بھارتی جارحیت قدرے کم ہو سکتی ہے۔ بھارتی مظالم کا درست انداز میں دنیا کو پتہ چلے تو اس کے مثبت نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ 

 

تازہ ترین خبریں