08:12 am
آج سینٹ میں آر یاپار!

آج سینٹ میں آر یاپار!

08:12 am

٭آج سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر رائے شماری ہو گی، مختلف قیاس آرائیاں O کراچی، حیدرآباد سمیت پورے سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی، متعدد افراد ہلاک، بستیاںبہہ گئیںO بھارتی فائرنگ، ایک کشمیری باشندہ شہید، 9 زخمی، پاک فوج کی جوابی کارروائی O کوئٹہ، ایک اور دھماکہ 5 ؍افراد شہید 32 زخمی۔
 
٭قارئین کرام! ساری خبریں تکلیف دہ ہیں۔ ملک بھر میں بارشیں، سیلاب، دھماکے، سیاست دانوں کی لڑائیاں، اسمبلیوں میں چند منٹ کے اجلاس، کروڑوں کے معاوضے! ملک میں عوام پر کیا بیت رہی ہے! اور نام نہاد عوامی نمائندے جانوروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ ایسے عالم میں ہر وزیر، ہر رکن اسمبلی کو اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ موجود ہونا چاہئے تھا۔ اسمبلیوں کے مختصر بے مقصد اجلاس، ہر تیسرے دن کابینہ کا اجلاس، سینٹ میں لڑائی!! کسی بھی سیاسی پارٹی کے رہنمائوں نے کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے پانی میں ڈوبے ہوئے مصیبت زدہ لوگوںکا حال نہیںپوچھا! یہ خبر بڑے اہتمام کے ساتھ جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کرائی گئی کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کی کروڑوں کی مالیت والی گاڑی چوری ہو گئی۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ صاحب اس وقت کہاں تھے؟کراچی ڈوب رہا تھا، پورے شہر کی بجلی بند تھی، لوگ جان کنی کے عالم میں تھے تو یہ اسلام آباد میں کیا کر رہے تھے؟ اور… اسلام آباد میں اپنے حامیوں کو شاندار ضیافت دینے میں مصروف پیپلزپارٹی کے ولی عہد بلاول بھٹو کو کسی نے بتایا کہ کراچی پر قیامت گزر رہی ہے! حیدرآباد میں دو تین فٹ سیلاب پھر رہا ہے، دوسرے بہت سے شہر بھی اُجڑ گئے ہیں! کیا وزیراعظم اور وزراء کو خبر نہ ہوئی کہ سندھ پر کیا بیت رہی ہے؟ اور… ہر حالت، ہر قیمت، ہر حد سے گزر جانے کی دھمکیوں والی ن لیگ کی ’رضیہ سلطانہ‘ کو اپنے باپ کے نام کے سوا سندھ کے کسی آفت زدہ کا نام معلوم ہوا؟
٭اور سینٹ کا معاملہ: آصف زرداری نے ایک سال پہلے ن لیگ کے چیئرمین بننے کے امیدوار کو ناکام بنانے کے لئے اعلان کیا کہ میں ن لیگ کا چیئرمین نہیں آنے دوں گا۔ پھر اپنے ازلی حریف عمران خان کو دانہ ڈال کر اپنے ساتھ ملایا، ن لیگ کو بری طرح شکست دی اور اعلان کیا کہ ’’زرداری جو کہتا ہے، کر کے دکھاتا  ہے۔ اس نے جو کہا، کر دکھایا ہے!‘‘ اور…اور اب اپنے اسی زیر سایہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ناپسندیدہ قرار دے کر چیئرمین کا عہدہ چھیننے اور ایک اور منظور نظر کو لانے کا اعلان کر دیا! یہ آج تک نہ بتایا کہ صادق سنجرانی کا قصور کیا ہے؟ صرف یہ کہ ’’وہ فرمانبردار نہیں رہا۔ جو بھی حکم دیا اس پر عمل نہیں کیا۔‘‘ اور سیاست! جس ن لیگ کے امیدوار کو آصف زرداری نے شکست دی تھی وہی ن لیگ اس وقت آصف زرداری کی’’یس باس‘‘ فرماں بردار بنی ہوئی اس کے احکام پر دل و جان سے عمل کر رہی ہے! زرداری کی انگلی پکڑی ہوئی ہے، وہ جدھر مڑتا ہے، اُدھر مڑ جاتی ہے!
کالم چھپنے تک سینٹ میں ہونے والی ماردھاڑ کا آغاز ہو چکا ہو گا۔اپوزیشن کے پاس 65، حکومتی اتحاد کے پاس 38 ووٹ ہیں۔ اتنے فرق کے باوجود اگر حکومت جیت جاتی ہے تو واضح مطلب ہو گا کہ گھوڑوں کی زبردست تجارت ہوئی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اپوزیشن کے گھوڑے خریدنے کے لئے پانچ سے دس کروڑ تک بولیاں لگتی رہیں۔ بظاہر اپوزیشن کی کامیابی دکھائی دیتی ہے، ایسا نہ ہوا تو اس الیکشن کو صاف شفاف نہیں کہا جا سکے گا۔ برطانیہ میں وزیراعظم ہیرالڈولسن کے دور میں ان کی حکومتی پارٹی کو اپوزیشن کے مقابلے میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت حاصل تھی مگر حکومت نے بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ پانچ سال پورے کئے۔ ان پانچ برسوں میں ایک ووٹ بھی ادھر اُدھر نہیں ہوا۔ یہ بات سنگین قومی جرم قرار پاتی ہے، اور یہاں! 38 ووٹوں والی پارٹی دعوے کر رہی ہے کہ اسے 65 ووٹوں کے مقابلے میں اکثریت حاصل ہے! ویسے ایک سادہ سی بات بلاول سے پوچھنی ہے کہ اس نے اپوزیشن کے سنیٹروں کو جو اعلیٰ درجے کی ضیافت دی اس میں 65 کی بجائے 56 سنیٹر تھے، باقی 13کیوں نہیں آئے؟ چلئے ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟ کسی نے حجام سے پوچھا کہ میرے سر پر کتنے بال ہیں؟ اس نے کہا کہ حضور! دو منٹ انتظار کر لیں، ابھی سارے آپ کے سامنے آ جائیں گے، خود گن لیجئے گا!
٭سینیٹ کے بعد اب اگلا گرم مسئلہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد پر لشکر کشی کا ہے۔ مولانا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگست کے مہینے میں مستعفی ہو جائے ورنہ اکتوبر میں اپنی خیر منائے۔ اس دھمکی آمیز نوٹس کے کچھ پہلو واضح نہیں! یہ کہ مولانا نے اپنے مجوزہ ایکشن کے کی تاریخیں نہیں بتائیں۔ اگست کا مہینہ آج شروع ہو چکا ہے۔ یہ نہیںبتایا کہ حکومت کو کِس تاریخ تک مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اسی طرح اکتوبر میں اپنی کشور کشائی اور مال غنیمت سمیٹنے کی کوئی تاریخ بھی نہیں دی۔ ویسے  انہوں نے حکومت کو انتباہ کرتے وقت تھوڑی سی شفقت کا اظہار بھی کیا ہے کہ اسے تقریباً دو ماہ تک وزیراعظم ہائوس استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے مگر عجیب بات ہے کہ حکومت مولانا کی ممنون ہونے کی بجائے انہیں آنکھیں دکھا رہی ہے! چلیں اکتوبر کتنی دور ہے؟ ایک سردار نے کہا تھا کہ ہفتے کی کیا بات ہے دو تین دنوں میں گزر جاتا ہے!اب یہ کہ کچھ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ مولانا اکتوبرمیںاسلام آباد کے ساتھ جو کچھ کرنے والے ہیں اسے لشکر کشی، لانگ مارچ، قبضہ مارچ یا دھرنا وغیرہ میں سے کیا نام دیا جانا چاہئے؟ جہاں تک لانگ مارچ کا تعلق ہے تو عصر حاضر کی تاریخ میں سب سے زیادہ شہرت چین میں مائوزے تنگ اور چوائن لائی کے چھ اکتوبر 1934ء سے شروع ہو کر 22 اکتوبر 1935ء (ایک سال 16 دن) کو ختم ہونے والے لانگ مارچ کو سب سے زیادہ تاریخی شہرت حاصل ہے۔ یہ ایک ہی جلوس نہیں تھا۔ مختلف شہروں سے محتلف گروہوں کے مارچ شروع ہوئے تھے۔ کچھ حکمران کوم تانگ کی فوج سے لڑتے ہوئے ختم ہوئے، کچھ راستے میں ہی رہ گئے۔ ابتدا میں مائوزے تنگ کی 69 ہزار کی کمیونسٹ فوج اور 61 ہزار شہریوں پر مشتمل تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد نے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ ایک سال 16 دنوں میں 5600  میل(9 ہزار کلو میٹر) کا سفر طے کیا۔ راستے میں سخت مشکلات پیش آئیں۔ بہت سے جنگیں لڑیں، موسم کی شدت آڑے آئی۔ بہت سے افراد ہلاک ہو گئے اور ایک لاکھ 30 ہزار افراد کے ساتھ 6 اکتوبر 1934ء کو شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ 22 اکتوبر 1935ء کو پیکنگ (اب بیجنگ) پہنچا تو اس لشکر میں صرف 9 ہزار افراد باقی رہ گئے تھے۔ پتہ نہیں مولانا فضل الرحمان کی نظروں سے اس لانگ مارچ کی تفصیل گزری ہے کہ نہیں؟ چلیں،  ابھی بہت وقت پڑا ہے۔
٭ایک  خبر: کراچی کی بجلی کی کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کے مالک ابراج گروپ کو لندن کی سرکاری مالیاتی اتھارٹی نے80 کروڑ ڈالر جرمانہ کیا ہے۔ ابراج گروپ دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اس کا مالک عارف نقوی گرفتار ہو گیا ہے۔ وہ کراچی کے ایک اوسط درجے کے خاندان میں پیدا ہوا 50 ہزار ڈالر سے دبئی میں کاروبار شروع کیا اور کچھ عرصے بعد دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ داروں میں شمار ہونے لگا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ابراج گروپ کے اکائونٹس سے 20 کروڑ ڈالر نکال کر اپنے ذاتی اکائونٹ میں جمع کر لئے تھے۔ قارئین کرام! کیا ہمارے ہاں ایسی کوئی ایک یا زیادہ مثالیں ملتی ہیں؟
٭ایوان صدر کو صدمہ: وفاقی کابینہ نے آئندہ کے لئے دوسروں کو تحائف دینے اور تفریحی ضیافتوں (27 کروڑ روپے کے دہی بھلّے!) کے لئے کروڑوں کا فنڈ دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ جب کہ وزارت خارجہ کی درخواست منظور کر لی! کیا زمانہ آ گیا ہے؟ افسوس صد افسوس!
 

تازہ ترین خبریں