10:43 am
مخالفت برائے مخالفت کی سیاست...!

مخالفت برائے مخالفت کی سیاست...!

10:43 am

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ایک سو چھبیس دنوں کے دھرنے کا ورثہ لئے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے،ان کے دھرنے میں زیادہ تر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہوتی تھیں،آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں جوان مردوں اور عورتوں کی تعداد زیادہے ،پاکستان تحریکِ انصاف نے آبادی کے اس کثیر حصے کو تبدیلی کے نعرے سے متاثر کیا،اس دھرنے کے دوران قومی املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ،مگر معیشت کے لئے ایک وبال کی سی صورت حال بنی رہی،چار ماہ کے لگ بھگ عرصہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے لڑکے لڑکیاں پارٹی کے نغموں پر رقص میں مست حال رہے۔اس دھرنے کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر خاطر خواہ پابندیاں نہیںلگائیں ،حد سے زیادہ پکڑ دھکڑ بھی نہیں ہوئی،حکومت کی طرف سے تشدد کے واقعات بھی کم کم دیکھنے کوآئے،دھرنے میں شامل بعض شر پسند عناصر کو چند گھنٹوں یا دو چار دنوں کے لئے تھانے میں رکھا جاتا، عام طور پر سنگین نوعیت کی سزا بھی نہیں دی جا تی تھیں۔
میڈیا دھرنے والوں پر مہربان خصوصاََعمران خان پر فریفتہ تھا،حکومتی ذرائع ابلاغ کہیں چشم پوشی کر جاتے تو نجی چینل بڑھا چڑھاکردھرنے والوں کے بیا نئے  کا پرچار کرتے،مسلم لیگ کی حکومت نے اس پر بھی قدغن لگانے سے گریز کیا،البتہ تہذیبی روایات کے بخیے ادھیڑنے والی زبان بولنے والوں کے خلاف بعض وزراء اسی زبان و بیان میں معاملات برابر رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے،تاہم وہ نوجوان جو تبدیلی کے عزم کے ساتھ گھروں سے نکلے تھے ان کے لہجے میں تلخی ہی نہیں کڑواہٹ اور کسیلا پن آتا چلا گیا،سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس نفرتوں کو ہوا دینے والی ہوتیں ،چہار سو نا شائستگی کا طوفان برپا تھا ،کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا،بدزبانی کے بدلے بدزبانی ہوتی رہی مگر ن لیگ کی حکومت نے کسی ایسے اقدام میں رکاوٹ نہیں ڈالی ۔
فروغِ یاوہ گوئی کے ایک سو چھبیس دن تحریک انصاف کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ٹھہرے جو بھلانے والے نہیں ،مگر حصولِ اقتدار کی مستی نے اور تو اور وزیر اعظم عمران خان تک کی لوحِ ذہن سے یہ سب مٹ گیاہے۔ اب کوئی دھرنا دینے والا نہیں مگر حکومت کی طبعِ نازک کا یہ عالم ہے کہ اختلاف رائے بھی برداشت نہیں ،سرکاری اور نجی ذرائع ابلاغ پر حزبِ اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں کی روداد نشر کرنے پر پابندی ہے ،دروغِ مصلحت آمیز پر علامت و تجرید کے غلاف چڑھا کر بیان کی کاری گری سے بات کرنے کا جو ہنر وہ جانتے ہیں اسے آزمانے کی سعیء پیہم میں سرگرداں ہیں۔
مسلم لیگ ن یا پی پی پی حکومت نے میڈیا کا ایسا اہتمام کبھی نہیں کیا تھایہ سہرا پی ٹی آئی اپنے سر سجانے کی کوشش کر رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان ان سب امور سے شاید نا بلد ہیں جو وزارت اطلاعات انجام دے رہی ہے۔پی پی پی سے مستعار لی ہوئی اطلاعات کی مشیر  فردوس عاشق عمران خان کی سوچ کی مخالف سمت تیزی سے رواں ہیں اور اسی تیزی کا شاخسانہ ہے کہ لوگوں کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف تحفظات فزوں تر ہوتے جا رہے ہیں ۔
تحریک انصاف کے منشور میں اظہار رائے کی آزادی کا واضح عندیہ موجود ہے ،مگر لیز پر لئے ہوئے سابقہ حکمرانوں   کے لوگ اظہار رائے پر پابندیاں لگا کر اپنی گزشتہ محبتوں کا قرض چکا رہے ہیںبظاہر اپنے تئیں غیر محسوس طریقے سے بعض نامعتبر چہروں کو معتبر بنانے کا کھیل رچائے ہوئے ہیں،تحریک انصاف بس اسی پر مسرت کے شادیانے بجا رہی ہے کہ اقتدار اس  کے ہاتھوں میں ہے ،اسے یہ علم ہی نہیں کہ بے اختیار اقتدار تھوتھے چنے کی مثل ہوتا ہے جو بجتا بہت ہے مگر اس میں رائیگانی کے سُر زیادہ بھرے ہوتے ہیں ،تحریک انصاف اپنی جیت کی خوشی میں یوم تشکر منا رہی ہے جبکہ اپنے مستقبل سے متعلق وہ نوشتہء دیوار نہیں پڑھ رہی جو اس کے مقدر کا حصہ بننے جا رہا ہے ،یہ بیگانگیت کی ایک شکل ہے جس کا فائدہ حزب اختلاف اٹھا رہی ہے۔
مولانا کے والد کی قیادت میں ابھرنے والی قومی اتحادکی تحریک نے بھٹو جیسے قدآور عظیم المرتبت سیاستدان کے پائوں اکھیڑ دیئے تھے ،مولانااپنے والد جتنے بلند قامت نہ سہی پاکستان کی مروجہ سیاست کے خوب مزاج شناس ہیں ،ہاں مگر ہارے ہوئے کھلاڑی کے طور پر بے چینی کے ساتھ اگلی اننگ کھیلنے کی مکمل تیاری میں ہیں اور انہوں نے اپنی مرضی کی پچ بھی بنا لی ہے، سیاست کے جو گر وہ جانتے ہیں تحریک انصاف کا کوئی ایک رہنما بھی ایسے دائو پیچ نہیں جانتا،تاہم یہ ضرور ہے کہ مولانا تیز کھیل رہے ہیں ،ان کی عجلت نے انہیں رن آئوٹ نہ کردیا تو ان کی موجودہ اننگ کے عمدہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں ،اچھا کیا بلاول زرداری نے ایک نئے میثاق جمہوریت کا پتا بروقت کھیل دیا ،مریم نواز کی کچی سیاست آڑے نہ آئی تو بہتری کی امید کی جا سکتی ہے کہ شہباز شریف بھی دھیمے لہجے میں یہی عندیہ دے رہے ہیںکہ ہمیں تیز کھلنے سے گریز کرنا چاہئے،ناروا رویوں کی وجہ سے وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں تو بازی الٹ جائے گی،مگر مریم بڑوں کی ماننے والی نہیں ہیں ،اس سے کئی درجے بہتر بلاول ہیں جنہیں حوصلے کے ساتھ کھیلنے کی تنبیہ کی گئی ہے اور وہ مان کر چل رہے ہیں ،کہنہ مشق آصف علی زرداری ٹھنڈی کرکے کھانے والے سیاستدانوں  میں شمار ہوتے ہیں ،جیل میں بلاول ملاقات میں وہ اپنے ہونہار بیٹے کو کچھ نئے پتے کھیلنے کو ضرور دینگے،جو میاں نواز شریف اپنی مریم کو دینے سے قاصر ہیں،بغض و عناد میاں نواز شریف کا سرمایہ ہے جو وہ اپنی بالکی کی نذر کر رہے ہیں،کیونکہ وہ سیاسی مزاج کو بھانپنے کی نہیں سیاسی انتقام کی تجاویز پر زیادہ سوچتے ہیں ،یہی مزاج مریم نواز کا بن چکا ہے،وہ باپ کو جلد از جلد قید سے آزاددیکھنا چاہتی ہیں مگر کارپردازان حکومت اور نیب کے تیور کچھ اور بتاتے ہیں،اب مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کیا گل کھلاتی ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔