10:44 am
حرص

حرص

10:44 am

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حرص کا تعلق صرف مال و دولت کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حرص تو کسی شے کی مزید خواہش کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے، چاہے مال ہو یا کچھ اور! چنانچہ مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو ’’مال کا حریص‘‘ کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو ’’کھانے کا حریص‘‘ کہا جائیگا اور نیکیوں میں اضافے کے تمنائی کو ’’نیکیوں کا حریص‘‘ جبکہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے کو ’’گناہوں کا حریص‘‘ کہیں گے۔ حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظم علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں کہ ’’لالچ اور حرص کا جذبہ خوراک، لباس، مکان، سامان، دولت، عزت، شہرت الغرض ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے‘‘۔ (جنتی زیور، ص۱۱۱)
 
حرص ایسی چیز ہے کہ دودھ پیتا بچہ ہو یا کڑیل جوان یا پھر سو سال کا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، حاکم ہو یا محکوم، افسر ہو یا مزدور، غریب ہو یا امیر، عالم ہو یا جاہل! اس سے بچ نہیں سکتا، یہ الگ بات ہے کہ کسی کو ثوابِ آخرت کی حرص ہوتی ہے تو کسی کو مال و دولت، جاہ و حشمت اور عزت و شہرت کی! قرآن مجید کی سورۂ نساء کی آیت 128 میں ارشاد ہوتا ہے:’’اور دِل لالچ کے پھندے میں ہیں‘‘۔ (پ۵، سورۃ النساء:۱۲۸)
تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت ہے ’’لالچ دِل کا لازمی حصہ ہے کیونکہ یہ اسی طرح بنایا گیا ہے‘‘۔ (تفسیر الخازن، ج۱،ص۴۳۷)
انسان تو ایک طرف رہے، حرص و لالچ میں تو جانور بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ کتے کا لالچ مشہور ہے، یہ ایسا حریص ہوتا ہے کہ اگر اس کو مرا ہوا جانور کھانے کو مل جائے تو اکیلے ہی اسے ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور اگر اس دوران دوسرا کتا وہاں آ نکلے تو اسے قریب بھی نہیں آنے دیتا۔
حرص کا تعلق جن کاموں سے ہوتا ہے ان میں سے کچھ کام باعث ثواب ہوتے ہیں اور کچھ باعث عذاب جبکہ کچھ کام محض مباح (یعنی جائز) ہوتے ہیں یعنی ایسے کاموں کے کرنے پر کوئی ثواب ملتا ہے اور نہ ہی چھوڑنے پر کوئی عتاب ہوتا ہے لیکن یہی مباح کام اگر اچھی نیت سے کرے تو وہ ثواب کا مستحق اور اگر برے ارادے سے کرے تو عذابِ نار کا حقدار ہو جاتا ہے، یوں بنیادی طور پر حرص کی تین قسمیں ہیں:
(۱) حرص محمود (یعنی اچھی حرص)۔ (۲حرص مذموم (یعنی بری حرص)۔ (۳)حرص مباح (یعنی جائز حرص) لیکن اگر اس حرص میں اچھی نیت ہو گی تو یہ حرص محمود بن جائیگی اور اگر بری نیت ہو گی تو مذموم ہو جائیگی۔ حرص کی مذکورہ تقسیم سے معلوم ہوا کہ ہر حرص بری نہیں ہوتی بلکہ حرص کی اچھائی یا برائی کا انحصار اس شے پر ہے جس کی حرص کی جا رہی ہے لہٰذا اچھی چیز کی حرص اچھی اور بری کی حرص بری ہوتی ہے، مگر اچھائی یا برائی کی طرف جانا ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کن کن چیزوں کی حرص ’’محمود‘‘ ہے تاکہ اسے اپنایا جا سکے اور کون کون سی اشیاء ’’مذموم‘‘ تاکہ اس سے بچا جا سکے۔ 
رضائے الٰہی کیلئے کئے جانے والے نیک اعمال ان شاء اللہ انسان کو جنت میں لے جائینگے لہٰذا نیکیوں کی حرص محمود ہوتی ہے مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، صدقہ و خیرات، تلاوت، ذکراللہ، درود پاک، حصولِ علم دین، صلہ رحمی، خیرخواہی اور نیکی کی دعوت عام کرنے کی حرص محمود ہے۔ 
جس طرح گناہوں کا ارتکاب ممنوع ہے اسی طرح ان کی حرص بھی ممنوع اور مذموم ہوتی ہے کیونکہ اس حرص کا انجام آتش دوزخ میں جلنا ہے مثلاً رشوت، چوری، بدنگاہی، زِنا، اغلام بازی، امردپسندی، حب جاہ، فلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے، نشے، جوئے کی حرص، غیبت، تہمت، چغلی، گالی دینے، بدگمانی، لوگوں کے عیب ڈھونڈنے اور انہیں اچھالنے و دیگر گناہوں کی حرص مذموم ہے۔
کھانا پینا، سونا، دولت اکٹھی کرنا، مکان بنانا، تحفہ دینا، عمدہ یا زائد لباس پہننا اور دیگر بہت سارے کام مباح ہیں چنانچہ ان کی حرص بھی مباح ہے۔ مباح اس جائز عمل یا فعل کو کہتے ہیں جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہو یعنی ایسا کام کرنے سے نہ ثواب ملے نہ گناہ! لہٰذا ان کی حرص میں بھی ثواب یا گناہ نہیں ملے گا، مثلاً کسی کو نت نئے اور عمدہ کپڑے پہننے کی حرص ہے اور نیت کچھ بھی نہیں (نہ تکبر کی اور نہ ہی اظہارِ نعمت کی) تو اسے اس کا نہ گناہ ملے گا اور نہ ہی ثواب جبکہ اس کی حرص کو پورا کرنے میں شریعت کی خلاف ورزی نہ کرے۔
اگر کوئی مباح کام اچھی نیت سے کیا جائے تو اچھا ہو جائیگا لہٰذ اس کی حرص بھی محمود ہو گی اور اگر وہی کام بری نیت سے کیا جائے تو برا ہو جائیگا اور اس کی حرص بھی مذموم ہو جائے گی اور کچھ بھی نیت نہ کرے تو وہ کام اور اس کی حرص مباح رہے گی۔اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’ہر مباح (یعنی ایسا جائز عمل جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہو) نیت ِ حسن (یعنی اچھی نیت) سے مستحب ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ مخرجہ ج۸، ص۴۵۲)۔ 
 حرص کی تینوں قسمیں ہمارے سامنے ہیں اور یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ حرص ہماری طبیعت میں رَچی بسی ہوئی ہے، ہم اس سے مکمل طور پر کنارہ کش نہیں ہو سکتے لیکن اس حرص کا رُخ موڑنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی حرص کو کہاں استعمال کرنا چاہئے؟ تو اسکا جواب بڑا آسان ہے کہ اُن کاموں میں جن سے ہمیں دُنیا و آخرت کا نفع ہی نفع حاصل ہوتا ہے نقصان کچھ بھی نہیں ہوتا، اور یہ خوبی صرف اور صرف نیکیوں کی حرص میں ہی پائی جاتی ہے کیونکہ یہ حرص محمود (یعنی اچھی نیت) ہی ہے جو انسان کے جنت کے اعلیٰ دَرجات میں پہنچنے کا وسیلہ بنتی ہے جبکہ حرص مذموم میں ہمارا سراسر نقصان ہے کیونکہ یہ ہمیں جہنم کے نچلے طبقات میں پہنچا سکتی ہے اور حرص مباح میں بنیادی طور پر اگرچہ کوئی قباحت نہیں لیکن یہ اس وقت تک جب تک دِل میں اچھی یا بری نیت موجود نہ ہو، چنانچہ بری نیت ہونے کی صورت میں یہ حرص بھی مذموم ہو جائیگی جبکہ نیکی کی سچی نیت حاضر ہونے کی صورت میں اسکا حکم حرصِ محمود والا ہو گا۔ بہرحال ہمیں نیکیوں کا حریص بننا بے حد ضروری ہے۔ ہمارے پیارے آقا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی کی تاکید فرمائی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے : ’’اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگو عاجز نہ ہو‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب القدر، باب فی الامر باقوۃ، الخ، الحدیث: ۲۶۶۴، ص۱۴۳۲)





شارحِ مسلم حضرت علامہ شرف الدین تووی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’اللہ عزوجل کی عبادات میں خوب حرص کرو اور اس پر انعام کا لالچ رکھو مگر اس عبادت میں بھی اپنی کوشش پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو‘‘۔ حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ’’خیال رہے کہ دُنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلیٰ ہے، دِین کے کسی درجہ پر پہنچ کر قناعت نہ کر لو، آگے بڑھنے کی کوشش کرو‘‘۔ 
دُنیا کی محبت میں زیادتی اور آخرت کی اُلفت میں کمی کی وجہ سے مسلمانو ںکی بھاری اکثریت شوقِ عبادت سے کوسوں دُور اور گناہوں کی حرص کے بہت قریب ہے۔ آج کا نوجوان قطار میں لگ کر مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر ساری رات گناہوں بھرے میوزک پروگرام دیکھنے سننے کو تیار ہے مگر نماز ادا کرنے کی غرص سے چند منٹ کیلئے مسجد کا رُخ کرنے سے کتراتا ہے، کئی کئی گھنٹے ریموٹ ہاتھ میں پکڑے کیبل پر فلمیں ڈرامے دیکھنے کیلئے ہمارے پاس وقت ہے مگر علم دین سیکھنے کیلئے وقت بالکل نہیں۔ کئی کئی اخبار روزانہ پڑھنے والوں کو قرآنِ پاک کی چند آیات کی تلاوت کی فرصت اور دینی کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ملتا۔ یاد رکھئے! گناہوں کا انجام ہلاکت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں، اس سے پہلے کہ پیامِ اَجل آن پہنچے اور ہم اپنے عزیز و اقرباء کو روتا چھوڑ کر اس دُنیا سے کوچ کر جائیں، ہمیں چاہئے کہ بقیہ زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ سچی توبہ کر لیں اور نیکیاں کمانے کی کوشش میں لگ جائیں۔ 
وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی محل بھی
جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اَجل بھی
بس اب اپنے اس جہل سے تو نکل بھی
یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دُنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

 

تازہ ترین خبریں