10:45 am
عدالتی انقلاب

عدالتی انقلاب

10:45 am

ہر قوم کا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے، ہماری قوم کا مزاج تماش بینی والا ہے۔ تماشے دیکھنے والی قوم کو حکمران بھی تماشے دکھانے والے ملتے ہیں جو مسائل کے دیرپا حل پر توجہ دینے کی بجائے ان منصوبوں پر کام کرتے ہیں جن کی ظاہری نمائش ہو تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور ان کی بلے بلے ہو۔ گذشتہ 35سالہ ہماری تاریخ میں واہ واہ اور بلے بلے کے علاوہ کوئی ٹھوس تعمیری کام نہیں ہوا۔ ایک آدھ استثنیٰ بطور مثال شاید ہمیں مل جائے لیکن ہر شعبے میں قوم کے عمومی مزاج کے مطابق بات نمائشی اقدامات سے آگے نہیں بڑھی۔ جسٹس ریٹائرڈافتخار محمد چوہدری بحیثیت چیف جسٹس بحال ہوئے تو ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن 2009 ء کی نیم مردہ جوڈیشل پالیسی دینے کے علاوہ انہوں نے فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کچھ نہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک ایک بے مثال عوامی بیداری کی لہر سے تعبیر کی جائے گی مگرمئورخ  ضرور لکھے گا کہ عوام کا گھروں سے نکلنا بیکار گیا کیونکہ بحالی کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے آپ کو ان کاموں میں الجھا لیا جوکہ  ان کے کرنے والے نہیں تھے اور وہ کام نہ کیے جو انہیں بحیثیت چیف جسٹس انصاف کی فوری فراہمی کے لیے کرنے چاہیے تھے۔ باالفاظ دیگر ہمارے حکمرانوں کی طرح وہ بھی نمائشی کام کرنے والے چیف جسٹس ثابت ہوئے۔ بعد ازاں آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے بھی اصل کرنے والے کام پر توجہ نہ دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھوڑی گرمجوشی دکھائی مگر کام ان کے بھی سب نمائشی تھے ۔ 
 
پولیس اصلاحات کے لیے البتہ انہوں نے ایک سنجیدہ کوشش کی جب 2018ء  میں پولیس ریفارمز کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا’’ اس کمیٹی نے جنوری 2019 ء میں اپنی رپورٹ پیش کی جو تین اہم پہلوئوں ماڈرن پولیس لاء احتساب و دیگر آپریشنل امور اور قانون سازی کا احاطہ کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی فائلوں میں یہ رپورٹ بھی کہیں گم ہو جاتی مگر خوش قسمتی سے پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے منصب پر ایسا شخص بیٹھا ہے جس کی لگن فقط وہ کام کرنے کی ہے جو اس کے منصب کا صحیح تقاضا ہے اور جس کی اس مملکت خداداد پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے پولیس اصلاحات کو اپنی ترجیح میں رکھا اور شکایات کے ازالے کے میکنزم اور تفتیش کے عمل کی بہتری کی بابت بحیثیت چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان متعلقہ آئی جی صاحبان سے رپورٹس طلب کیں۔ شکایات کا ازالہ اس لحاظ سے بھی ضروری تھا کیونکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ عدالتوںپر وہ غیر ضروری بوجھ ختم کرنے کے متمنی تھے جو کریمنل پروسیجر کوڈ کی شقوں 22Aاور 22-Bکے تحت مقدمات کی وجہ سے بنتا تھا۔ بروز ہفتہ انہوں نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میںپولیس نے 71ہزارشکایات نمٹائی ہیں جب کہ پہلے یہی معاملات عدالتوں میں آتے تھے۔
 چیف جسٹس پاکستان کے مطابق پولیس ریفارمز کے بعد اس اقدام سے ہائی کورٹس میں دائر مقدمات میں 20فیصد کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ  کے پانچ بڑے اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں فوری انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔ پہلا اقدام جھوٹے گواہان اور جھوٹی شہادتوں کے خلاف ہے چنانچہ آج مختلف عدالتوں میں جھوٹے گواہان کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ دوسرا اقدام ججز کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ تیسرا اہم قدم پولیس ریفارمز کا ہے جس کا ہم نے اوپر کی سطروں میں جائزہ لیا ہے۔ اس ضمن میں جو اگلا اہم کام ہونے جا رہا ہے وہ ہر ضلع میں ایک اسیسمنٹ کمیٹی کا قیام ہے جو سابق سیشن ججز اور 9نوجوان وکلا پر مشتمل ہو گی۔ یہ کمیٹی اس امر کا جائزہ لے گی کہ تفتیش میں کہاں خامی رہ گئی اور پولیس نے کہاں غلطی کی جس کی وجہ سے ملزم بری ہو گیا۔ چوتھا اقدام عدالتوں کی استعداد کار میں اضافے سے متعلق ہے۔  ہر عدالت کو ایک ریسرچ سنٹر سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے ججوں کی معاونت کی جا سکے۔پانچواں اقدام جو اس وقت کافی حد تک آپریشنل ہے ماڈل کورٹس کا قیام ہے۔ 
ان ماڈل کورٹس نے گذشتہ 96دنوں میں قتل اور نارکوٹکس کے 10,600 مقدمات کے ٹرائلز مکمل کیے ہیں۔ چیف جسٹس  پاکستان کے بقول اب کریمنل ماڈل کورٹس کے علاوہ سول اور جیوڈیشل مجسٹریٹس کی مثالی عدالتیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔ ان سب اقدامات کی بدولت یقینی طور پر ان رکاوٹوں کا خاتمہ ہو گا جو پاکستان میں فوری انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا باعث بنتی رہی ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ  نے نہایت خاموشی کے ساتھ پاکستان میں جس عدالتی انقلاب کی بنیاد رکھی ہے اسے خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے اور ان کے اس کام میں آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ بٹانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ان کے پیش رو چیف جسٹس صاحبان کی مکمل کارگذاری کو دیکھیں اور ان چھ میں ہونے والی پیش رفت کا تقابلی جائزہ لیں تو بے اختیار اکبر الہ آبادی کا وہ مشہور شعر زبان پر آجاتا ہے جو اکبر نے سرسید احمد خان کے تنقید نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:  
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق ہے جو کہنے والے اور کرنے والے میں

تازہ ترین خبریں