10:46 am
مکہ مکرمہ سے پوچھے گئے چند سوالات؟

مکہ مکرمہ سے پوچھے گئے چند سوالات؟

10:46 am

وہ تقریباً چوالیس سال سے مکہ مکرمہ میں علمی‘ دینی‘ تصنیفی خدمات سرانجام دے رہے ہیں‘ انہیں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کے تمام اداروں‘ پاکستانی قوم حتیٰ کہ پاکستان کے ایک ایک ذرے سے پیارہے۔ ان کی عربی اور اردو کی تصنیفات سے ایک زمانہ فائدہ اٹھا رہا ہے‘ فتنہ قادیانیت ہو یا اسلام کے خلاف برپا کئے جانے والے دیگر فتنے‘ وہ افریقہ و امریکہ سے لے کر لندن و بنگلہ دیش تک اپنے ذاتی خرچے پر ان فتنوں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ 1970ء کی دہائی میں وہ لارنس کالج مری میں استاد کی ذمہ داریوں پر فائز رہے‘ یوں کئی فوجی جرنیلوں کو ان کا شاگرد ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ان کے شریف  خاندان سے بھی نہایت قریبی تعلقات ہیں‘ بالکل خاندان کے ایک بزرگ کی طرح‘ میرا ان سے قلمی تعلق ہے وہ اس خاکسار کے کالموں پر اکثر دعائوں سے مزین پیغام  بھیجتے رہتے ہیں۔
 
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ مدظلہ کا گزشتہ روز مکہ مکرمہ سے فون آیا تو انہوں نے پرملال لہجے میں فرمایا کہ ہاشمی صاحب! پاکستانی فوج دنیا کی بہترین فوج اور پاکستانی قوم دنیا کی بہترین قوم ہے‘ پاکستانی سیاستدان مولانا فضل الرحمن ہوں‘ میاں نواز شریف ہوں‘ پیپلزپارٹی والے ہوں یا عمران خان ان سب کی حب الوطنی بھی ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہے‘ ان سب سے میرا ایک پاکستانی ہونے کے ناطے یہ سوال ہے کہ آخر یہ آپس میں کب تک لڑتے رہیں گے؟
بریلوی‘ دیوبندی‘ اہلحدیث اور شیعہ آپس میں جب اختلاف کرتے ہیں تو دلائل قرآن و حدیث سے تلاش کرتے ہیں‘ مگر اسٹیبلشمنٹ‘ حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے اختلاف کی قرآن و حدیث سے کوئی دلیل بھی نہیں ڈھونڈی جاسکتی۔
عمران خان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان اور پاکستانی قوم کی جو درگت بن رہی ہے‘ اس کی تفصیلات سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ مذہبی اختلاف جب حدود سے تجاوز کرے تو کفر کے فتوئوں تک لے جاتا ہے اور سیاسی اختلاف کی آخری حد مخالف پر غداری کا الزام لگا کر توڑ دی جاتی ہے‘ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر جو دوسروں پر کفر کا فتویٰ لگائے اس کے خلاف تو قانون حرکت میں آتا ہے مگر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر مخالفین پر غداری کے الزام لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تو کیوں؟
ہم  نے قرآن و حدیث میں قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے احکامات تو پڑھے‘ لیکن ’’قیدیوں‘‘ سے قید خانوں میں ظلم و زیادتی کرنے کا حکم  کہیں نہیں پڑھا‘ جب ملک کا وزیراعظم کسی بھی الزام میں سزا پانے والے قیدیوں سے سہولیات چھیننے کی بات کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے وطن پاکستان میں نفرتوں کو عروج حاصل ہوچکا ہے‘ علماء پر تو فرقہ واریت کا الزام لگا کر انہیں مطعون کیا جاتا ہے لیکن جب عمران خان کی تحریک انصاف‘ مسلم لیگ(ن) اسٹیبلشمنٹ‘ پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام والے ہر وقت ایک دوسرے کے گردیبانوں پر ہاتھ ڈالنے کے لئے تیار  رہیں گے تو عام پاکستانی کہاں جائیں گے؟
پاکستان ترقی کیسے کرے گا؟ پاکستانی عوام مہنگائی اور بھوک سے مر رہے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کو گرانے‘ پچھاڑنے سے فرصت نہیں‘ ایک دوسرے پر الزامات کی بارش‘ ایک دوسرے کے بزرگوں اور مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کے خلاف بازاری جملے‘ ایک دوسرے پر طعن و تشینع‘ کیا اس جدید دور میں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کے یہی طریقے بچے ہیں؟
وزیراعظم نے امریکہ میں منعقدہ جلسے میں تقریر کے دوران پاکستانی سیاست دانوں کے خلاف  جو لب و لہجہ اختیار کیا اس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم ہم جیسے پاکستانی  آج تک شرمندگی محسوس کر رہے ہیں‘ کیا اس طرح  کی نفرت انگیز تقریروں سے ملک ترقی کر سکتا ہے؟
اگر اسلام  ایک عام مسلمان سے ’’زبان‘‘ کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے تو مسلمانوں کے وزیراعظم کو ’’زبان‘‘ استعمال کرنے میں کس درجہ محتاط ہونا چاہیے کیا کسی مرد ’’دانا‘‘ نے کبھی اس بات پہ بھی غور کیا؟
عدالتوں سے (غلط یا صحیح) سزا پا کر جب قیدی جیلوں میں منتقل کئے جاتے ہیں توجیلوں میں انہیں اذیتوں سے دوچار کرنا اگر یہ قانون کی علمداری ہے تو پھر لاقانونیت کس بلا کا نام ہے؟
ہمارا شکوہ‘ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی‘ اسٹیبلشمنٹ ‘ تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے قائدین سے ہے کہ یہ ایک دوسرے کو للکارنے‘ ایک دوسرے کو بدنام کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف دھاڑنے کی بجائے آپس میں مل بیٹھ کر معاملات کو انصاف کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں  کرتے؟
مکہ مکرمہ کی دینی‘ روحانی‘ تصنیفی اور علمی شخصیت مولانا ڈاکٹر سعید احمد  عنایت اللہ کے ان درد مندانہ سوالات کا جواب اگر‘ پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف‘ ن لیگ‘ جمعیت علماء اسلام یا اسٹیبلشمنٹ دنیا چاہے تو اس خاکسار کا کالم حاضر ہے‘ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی دگرگوں صورت حال نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو سخت پریشان اور متفکر کر دیا ہے۔
 میری وزیراعظم عمران خان‘ مقتدر قوتوں اور سیاسی قائدین سے گزارش ہے کہ وہ معاملات کو اس درجہ پوائنٹ آف نوریٹرن تک نہ لے جائیں کہ جس کے آگے‘ سوائے آگ و خون اور بربادی کے کچھ نظر ہی نہ آئے‘ ایک دوسرے کا احترام کریں‘ قانون کو انتقام کے لئے مت استعمال کریں‘ معاف کرنے کی عادت اپنالیں‘ کیونکہ اسی میں عظمت ہے۔

 

تازہ ترین خبریں