10:47 am
فوج نے کراچی کو بچا لیا!

فوج نے کراچی کو بچا لیا!

10:47 am

٭پاک افواج نے ڈوبتے ہوئے کراچی کو بچا لیاO کسی اثاثہ کی مالک نہ ہونے کی دعویدار خاتون شوگرملز کی مالک نکل آئی O کراچی، میرپور خاص، ٹھٹھہ، نواب شاہ، مٹھی میں نئی جیلیں بنائی جا رہی ہیںO مقبوضہ کشمیر، مزید تین شہری شہیدO سینٹ کے چیئرمین کا معاملہ۔
٭میراروشنیوں کا شہر کراچی ڈوب گیا، لاکھوں افراد پانی میں پھنس گئے ہیں اور سینٹ میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔مجھے سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی یا عدم تبدیلی سے کوئی دلچسپی نہیں، ایک جائے گا تو دوسرا آ جائے گا یا پہلے والا ہی موجود رہے گا۔ یہ عہدے، یہ بڑے بڑے ایوان بڑے بڑے وڈیروں، سرداروں، نوابوں کی چراگاہیں ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹی، پھر پوتا اور نواسہ! اربوں کے اخراجات کے بعد عوام کی نام نہاد نمائندگی کے لئے اسمبلیاں وجود میں آتی ہیں۔ ان کا رکن بننے کے لئے کسی تعلیم، کسی قسم کے اخلاقی ضابطوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک ایف اے پاس صدر، ایف اے پاس گورنر، میٹرک پاس وزیراعلیٰ یونیورسٹیوں کا چانسلر بن جاتا ہے اور ان میں اعلیٰ ترین تعلیم کی ڈگریاں بانٹتا ہے۔ یہ جمہوریت ہے۔ میں موضوع تبدیل کر رہا ہوں!
 
٭میں نے کراچی کو ڈوبتے دیکھا ہے۔ کوئی حصہ ایسا نہیں جو طوفانی بارشوں میں سیلاب کی زد میں نہ آیا ہو۔ ہر جگہ سڑکوں پر، گھروں میں پانی پھر رہا ہے۔ اس سیلاب میں گندگی کے ڈھیر بہہ رہے ہیں، ہر طرف تعفن پھیلا ہوا ہے۔حیدرآباد اور دوسرے شہروں کا بھی یہی حال ہے۔ ہر شہر میں آب نکاسی والے نالے بند ہو چکے ہیں، اُبل رہے ہیں۔ یہ نالے پولی تھین کے لفافوں اور دوسری گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ بارش آتی ہے تو یہ اُبل پڑتے ہیں۔ انہیں برسوں سے صاف نہیں کیا گیا۔ اس صوبے کی بدقسمتی کہ اس میں کئی گورنر، وزیراعلیٰ اور میئر آئے۔ عالی شان رہائش گاہ ہیں، کروڑوں کے سالانہ معاوضے، کروڑوں کی گاڑیاںاور دن رات عیش و عشرت! کراچی کی شکل جوہڑ میں بدلتی رہی، حیدرآباد کوڑے کا ڈھیر بنتا گیا اور یہ نواب، وڈیرے چالیس چالیس گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ گھومتے رہے۔ ہر سال ہزاروں گھوسٹ سکولوں اور ٹھیکوں کے ذریعے ان کی تجوریاں مالا مال ہوتی رہیں۔ بڑے بڑے خاندانی قبضہ گروپ حکمرانو ںنے اربوں کھربوں باہر منتقل کر کے ان گنت اثاثے بنا لئے (اب تک علم نہ ہو سکا کہ لندن کے فلیٹس، سرے محل، دبئی کے پلازے، اور فرانس کا محل کیسے خریدے گئے!) یہ لوگ درختوں کا رس چوسنے والی آکاس بیل کی طرح اب بھی قوم پر سوار ہیں۔ اس مار دھاڑ میں ان خونخوار مگر مچھوں کی خواتین بھی پیچھے نہیں رہیں۔ میں کسی ایک خاندان کا نام نہیں لے رہا، سابق و موجودہ سب کا یہی حال ہے، کوئی استثنا نہیں، اکا دکا نام کے سوا سب ایک جیسے ہیں۔
بات پاک افواج سے شروع ہوئی تھی۔ میں پاک وطن کی بری، بحری فضائی افواج کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مل کر کراچی کو مکمل تباہی سے بچا لیا ہے۔ حالیہ طوفانی بارشوں کی کئی روز سے مسلسل پیش گوئی کی جا رہی تھی، بار بار انتباہ کیا جا رہا تھا کہ کراچی، حیدرآباد اور دوسرے شہروں کا سیوریج نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے، اسے ٹھیک نہ کیا گیا تو یہ شہر گندگی بھرے سیلابی ریلوں میں ڈوب جائیں گے، مگر بڑے اور چھوٹے ایوانوں کے تخت نشینوں نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ لوگ اور ان کے چوبدار کارندے اربوں کھربوں سے تجوریاں اور جیبیں بھرتے رہے۔ حکومت میئر پر، میئر حکومت پر الزامات لگاتے رہے، گھر سےباہر کوئی نہ نکلا۔۔۔ اور پھر وہی ہوا کہ طوفانی بارشیں پورے سندھ پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑیں، شہر ڈوب گئے، کئی فٹ پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ چھتیں اور دیواریں گرنے لگیں، ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ حکمران اور اسمبلیوں کے رئیس زادے ان غریب عوام کی کسی چارہ جوئی کی بجائے اسلام آباد چلے گئے جہاں ایک سیاسی شطرنج کے مہرے اِدھر اُدھر کئے جا رہے تھے۔تباہی سے دوچار بے بس، بے آسرا لاکھوں لوگ آسمان کی طرف منہ کر کے دُعائیں مانگتے رہ گئے۔ ایسے میں رحمت خداوندی کے سائے میں ہر موقع ہر مصیبت میں مددگار پاک افواج حرکت میں آئیں۔ بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے جوان کشتیوں، ہیلی کاپٹروں، خوراک، صاف پانی اور دوسرے امدادی سامان کے ساتھ پہنچ گئے۔ فوجی جوان کئی فٹ سیلاب میں کود گئے، بوڑھوں، بچوں کو کندھوں پر اٹھا کر باہر لائے، ہیلی کاپٹروں نے بے شمار سیلاب زدگان کو محفوظ مقامات پر پہنچایا اورانہیں خوراک فراہم کی۔ پاک افواج ہمیشہ ایسے مواقع پر قوم کی خدمت کے لئے آگے آ جاتی ہیں! کراچی میں دوسری امدادی سرگرمیوںکے علاوہ فوجی جوانوں نے دو بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں جن کی بنا پر میں نے کہا ہے کہ پاکستان کی جاں نثار افواج نے کراچی کو بچا لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ شہر کے مضافات میں پانی سے بھرے ہوئے ٹھڈ ڈیم کا ایک پشتہ ٹوٹ گیا۔ زبردست سیلاب نے ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی، سپر ہائی وے اور دوسرے بہت سے علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس سیلاب کا شدید ریلا کراچی کے بہت سے حصوں کی طرف بڑھنے لگا، ایسے میں فوج کے انجینئروں نے ان تھک محنت کے ساتھ آٹھ سو میٹر( تقریباً 2700 فٹ) لمبے مصنوعی بند کے ذریعے سیلاب کو روک دیا۔ اس طرح کراچی شہر ایک بڑی آفت سے بچ گیا۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کے ڈی اے سکیم 33 کے گرڈ سٹیشن میں سیلابی ریلا داخل ہو گیا۔ گرڈ کی انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ پانی زیادہ ہو گیا تو نصف سے زیادہ کراچی کی بجلی بند ہو جائے گی۔ یہاں بھی فوجی ماہرین اور جوان اپنی آب نکاسی کی مشینیں لئے پہنچے، سیلاب کو روکا اور گرڈ سٹیشن کے اندر جمع ہونے والا پانی نکال کر اسے چالو رکھا۔ کراچی بلکہ پورے پاکستان کے کروڑوں عوام ان امدادی سرگرمیوں پر پاک فوج کے بے حد شکر گزار ہیں۔ پاک افواج کو سلام! اب کچھ مختصر باتیں۔
٭’ایک خوش خبری‘ کراچی، میرپور خاص، ٹھٹھہ، نواب شاہ اور مٹھی میں نئی جیلیں تعمیر کی جائیں گی! پتہ نہیں اس بات پر ان شہروں کے لوگوں پر کیا اثر ہو گا؟ خوش ہوں گے یا خوف زدہ؟ جرائم ختم کرنے کی بجائے نئی جیلیں؟ پنجاب کے ایک سابق وزیر جیل خانہ جات نے حلف اٹھانے کے بعد پہلا بیان یہ دیا تھا کہ ’’ان شاء اللہ صوبے میں جیلوں کا جال بچھا دیا جائے گا‘‘ معلوم نہیں سندھ کے وزیر نے کیا بیان دیا ہے؟
٭سرکاری رپورٹ: نوازشریف نے 2013 میں امریکہ کا چھ روزہ دورہ کیا، پانچ لاکھ 50 ہزار ڈالر (موجودہ آٹھ کروڑ 79 لاکھ) کے اخراجات ہوئے۔ پورا طیارہ، سارا خاندان، بہت سے تنخواہ دار لفافہ پرست صحافی، اپنے عزیز و اقارب! پی آئی اے کو لاکھوں کا نقصان۔یہی حال آصف زرداری کا! 2009ء میں امریکہ کا چھ دن کا دورہ، چھ دن پورا طیارہ ساتھ رہا۔ اس دورے پر سات لاکھ 52 ہزار ڈالر (موجودہ 12کروڑ 3 لاکھ روپے) خرچ ہوئے۔ یوں صرف ان دو دوروں پر ان شہنشاہوں کی کاروباری تفریح پر 20 کروڑ روپے خرچ ہونے۔ قوم کو کبھی پتہ نہ چلا کہ یہ مہاراجے امریکہ میں چھ چھ دن کیا کرتے رہے؟ اس کے ساتھ ہی سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے طور پر عمران خان کے امریکہ کے حالیہ چار روزہ دورے پر 67 ہزار ڈالر (ایک کروڑ سات لاکھ روپے) خرچ ہوئے ہیں۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا، کہا جائے گا کہ تحریک انصاف میں شامل ہو گیا ہوں! خدا تعالی مجھے ہر قسم کی سیاسی آفات سے محفوظ رکھے؟
٭مولانا فضل الرحمان کا بیان: ہم آئین سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے۔ بالکل ٹھیک فرمایا! آئین میں باقاعدہ ’اجازت‘ ہے کہ کسی شہر پرڈنڈابردار قبضہ کر کے اسے ’لاک آئوٹ‘ (چاروں طرف سے بند) کردیا جائے ۔ ٹرانسپورٹ، مواصلات، تعلیمی ادارے، سرکاری نظام بند کر دیا جائے، اور کوئی مزاحمت کرے تو اسے سخت سبق سکھا دیا جائے! ظاہر ہے کہ آئین میں ان باتوں کی پوری اجازت موجود ہو گی! میں آئین کو نئے سرے سے پڑھ رہا ہوں۔