07:58 am
 جواد ظریف پر امریکی پابندیاں ، عرب بادشاہتیں اور کالم نگار

 جواد ظریف پر امریکی پابندیاں ، عرب بادشاہتیں اور کالم نگار

07:58 am

میرے لئے دکھ اور صدمہ کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامینائی کی طرح کی امریکی پابندیوں کا نفاذ ہوگیا ہے۔ جواد ظریف نے ان پابندیوں کا سبب ان کا ’’ایرانی ترجمان اعلیٰ‘‘ ہونا بتایا ہے جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے جوادظریف کے ایرانی موقف کی صداقت بیان کرتے ان کے بین الاقوامی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز کو قرار دیاہے۔ مجھے مشرق وسطیٰ پر کھل کر لکھتے ہوئے تقریباً بیس سال سے زیاد ہ ہوگئے ہیں۔ میں نے عموماً ایرانی انقلاب کے سیاسی غلط فکر، عربوں کی سرزمینوں پر مسلک کی بنیاد پر تیار کردہ عسکری جنگجو پراکیسز کے سبب ،مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامینائی کی ولایت فقہیہ کی سیاسی مسند اور ایرانی پاسداران انقلاب کے عربوں کے خلاف استعمال پر بہت کچھ لکھا ہے مگر ساتھ ہی میں نے ایرانی ڈاکٹر مصدق مرحوم، صدر ڈاکٹر خاتمی، صدر ڈاکٹر ہاشمی اور اصلاح کارواں کے حق میں بھی لکھا ہے جبکہ ہمیشہ جواد ظریف کے فن استدلال کے استعمال کی تعریف کرتا رہا ہوں جس طرح مرشد اعلیٰ علی خامینائی اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر امریکی پابندیوں پر ایرانی غم و غصہ نمودار ہوا ہے اس کی روشنی میں اسلام آباد میں ایرانی اذاہان نے مجھ پر بار بار جو پابندیاںلگوائیں آج ان کا ذکر کرکے ایرانی پاکستانی تاریخ میں کچھ سچا مواد حوالہ تاریخ کررہا ہوں۔ پہلے ایک بار پھر میں جواد ظریف پر لگنے والی امریکی پابندیوں کو غلط کہتاہوں اور اس کی مذمت کرتا ہوں۔ ایرانی تیل کی فروخت پر لگی امریکی پابندیوں کو بھی غلط کہتا ہوں اور ان پابندیوں کی کھل کر مذمت کرتا ہوں۔ انسانی فطرت ہے کہ جب آپ پر ظلم کرنے والے پر کسی اور طرف سے ظلم ہوا ہو تو انسان خوش ہوتا ہے۔ مجھے آیت اللہ علی خامینائی اور جواد ظریف پر لگی پابندیوں پر خوش ہونا چاہیے مگر میں ہرگز خوش نہیں بلکہ مغموم ہوں کہ ایرانی قوم کے لئے دکھ اور غم مزیددیکھ رہا ہوں۔ 
 
زمانہ قدیم سے ایرانی قوم بہت ذہین و فطین ہے۔ تسلیم کہ موجودہ ایرانی رجیم نے بھی خود کو بہرحال عربوں سے زیادہ ذہین و فطین ثابت کیا ہے مگر یہ ذہانت صرف جواد ظریف کے سبب تھی کہ صدر اوبامہ کے ساتھ مل کر عربوں کے تاریخی اتحادی امریکہ کو ہی ساتھ ملا کر عرب جغرافیوں کے انہدام کا ایرانی ہدف حاصل کرنے کی سیاسی کامیابیاں حاصل کرلی ہیں۔ اگر جواد ظریف ایران کے پاس نہ ہوتا تو ایران کبھی بھی امریکہ کو استعمال کرتے ہوئے مالدار عرب بادشاہتوں کا خون نہ نچوڑتا۔یہ امریکی ایرانی پراسرار مفاہمت ہی تھی کہ ایران کا خوف مشرق وسطیٰٰ میںپیدا ہوتا رہا جبکہ درپردہ امریکہ نے عراق ایران کی جھولی میں ڈالا، شام کو ایرانی جھولی میں ڈالتے ہوئے عمل کی تکمیل بذریعہ روس کی، لبنان میں حزب اللہ کو برداشت کیا ہوا ہے، یوں تہران میں ایرانی فخر سے کہتے ہیں کہ انڈونیشیا سے سوڈان تک ایرانی ایمپائر قائم ہوچکی ہے ۔ لہٰذا اگر امارات اور سعودیہ ایران کو عربوں کا بڑا دشمن کہتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہے۔ ایرانی خوف سے دوچار عربوں کو امریکہ سیکورٹی فراہم کرنے اور جنگی تحفظ دینے کے نام پر طویل مدت سے لوٹ رہا ہے اور مالدار عرب خوشی خوشی امریکہ و مغرب کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں مگر شائد اب صدر ٹرمپ سچ مچ ایرانی پر پرزے کاٹنے پر کمربستہ ہوگئے ہیں اور عربوں کو نفسیاتی تحفظ حاصل ہو رہا ہے۔ میں پاکستانی ،عجمی اور غیر عربی ہوں۔ مجھ پر سعودیہ، امارات، بحرین، کویت، غرض کسی بھی عرب ملک کی حکومت کا ، عربی شخصیات کا، عرب جامعات کا معمولی سا بھی مالی، سیاسی، علمی احسان نہیں ہے پھر بھی میں محض تلاش حق اور اظہار صداقت کو عرب ایران مکالمے کے نام سے کالم لکھتا رہا ہوں اور یہ کالم ایرانی انقلابی فیصلہ سازی کے خلاف ہی ہوتے تھے مگر استدلال سے مزین اور عربوں کی حمایت میں بلکہ عربوں سے ایک بھی پائی وصول کیے بغیر۔ میں چاہتا  تھا کہ ایرانی سفیراپنے  رفقاء کے ساتھ میرے ساتھ بیٹھ کر علمی و سیاسی مکالمہ کریں۔ اپناموقف سچا ثابت کریں اور اگر وہ ایسا کرلیں تو میں عربوں کی حمایت چھوڑ کر ایران کی حمایت میں قلم کا استعمال کروں گا۔ یہ راستہ میرے ساتھ اختیار کرنے کی بجائے ایرانی سفراء نے میرے کالموں کی اشاعت کو رکوانے کی ماضی سے اب تک مسلسل کوشش ہے، حسن اتفاق کہ میں ایران کے خلاف لکھتے ہوئے جو و دلائل لکھتا تھا وہی دلائل امارات کی ڈاکٹر ابتسام الکتبی نے بھی دیئے۔
اس کے جواب میں مدبر ایرانی بھائیوں نے میرے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی بجائے ہتھوڑا پکڑا اور میرے قلم کو حکومتی شدید دبائو کی ضربوں سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ وہ اخبارات جو میرے کالم شائع کرتے تھے ان پر اتنا زیادہ ایرانی دبائو آیا کہ بالآخر میرے کالم بند ہوگئے۔ 
میں ایرانی شہ دماغوں، جنہوں نے ایران مخالف اور عرب حمایت پر مبنی میرے کالموں کو بڑے بڑے ہتھوڑے اور گرز مار کر ریزہ ریزہ کیے رکھا ہے کیا وہ میرے فکر کو کچل سکے ہیں؟ میرا فکر تو بدستور موجود ہے۔ اصل بات ’’فکر‘‘ کا سامنا ’’استدلال‘‘ سے کرکے اپنا موقف سچا کرنا ہوتاہے۔ امریکہ نے جواد  ظریف پر پابندیاں لگاکر ان کے انٹرویوز کے ذریعے سامنے آنے والے ’’استدلال‘‘ کو کچلا ہے۔ یہی کچھ اسلام آباد میں ایرانی شہ د ماغ میرے ساتھ ایک عشرے سے کررہے ہیں۔ مگر لطف یہ ہے ان ایام میں کوئی بھی عرب سفارت کار میرے دکھ درد میں شریک ہوا نہ میری خبر گیری کی کہ میں زند ہوں،دکھ، غم  میں تو نہیں ہوں؟ ڈیڑھ دو عشروں سے عربوں کا موقف مسلسل لکھ رہا ہوں، مالدار عرب بادشاہتیں کس قدر بدقسمت ہیں کہ جواد ظریف نہ ہی کوئی پروفیسر محی الدین موجود ہے ان کے خزانہ علم و عرفان و استدلال میں مستقبل میں عربوں کی حمایت اور ایرانی مخالفت کی بجائے زمینی حقائق زیادہ سامنے رکھوں گا۔