08:03 am
ضمیرفروش

ضمیرفروش

08:03 am

کیاآپ جانتے ہیں کہ دنیاکے غریب اور پسماندہ ممالک کے حکمران،سیاستدان، جرنیل، صحافی،دانشوراور سول سوسائٹی کے علمبردارکیوں سستے داموں بک جاتے ہیں،ان کے ضمیروں کاسودا مغربی ممالک اور امریکہ کے سفارت خانوں میں کن مقاصدکے حصول کیلئے کیاجاتاہے،ان بکائوافرادکا انتخاب کیسے ہوتاہے اوران ضمیر فروشوں کوکیسے پہچاناجاتاہے، ان کی لالچ حرص اورہوس کوکیسے سہانے خوابوں کے ساتھ سجایا جاتا ہے؟ وکی لیکس کے انکشافات نے تو صرف دنیا کے اس بازاراورمنڈی سے متعارف کروایاہے جہاں بولیاں لگانے والے، وطن کاسودا کرنے والے، ننگ دیں وننگ ایمان اور ضمیر فروشوں کی کوئی کمی نہیں ۔اس نے چندحقائق سے پردہ اٹھایاہے جسے اس ملک کاہرباشعور شہری پہلے سے جانتا تھاکہ اس کی قوم کی تقدیرکوکب،کہاں اورکتنے میں بیچاگیااورکس شخص نے اپنی کیاقیمت وصول کی۔لیکن کیاآپ کوعلم ہے کہ یہ بازارآخرکیوں سجایاجاتاہے ،ان ضمیرفروشوں کی اس قدرعزت افزائی کیوں کی جاتی ہے؟
 اس دنیامیں صہیونی سرمایہ دارکارپوریٹ کلچر کی ایک حکومت ہے جس نے امریکاکے ایوانوں سے لیکر دنیابھرکے میڈیاسمیت سب کو اس خاص مقصدکیلئے خریدرکھاہے کہ غریب ممالک  کے مجبورومقہورعوام کی جیبوں سے زیادہ زیادہ سرمایہ ان کی جیبوں میں منتقل ہوتا رہے۔ آخری خون کے قطرے تک نچوڑنے والے اس کارپوریٹ کلچرکاکمال یہ ہے کہ وہ پہلے بڑے مغربی ممالک کی قیادت کوسیاسی جماعتوں کی معاشی مددکے ذریعے خریدتے ہیں پھران کے ذریعے دنیابھرکے غریب ممالک میں ضمیرفروشوں کی حکومتیں قائم کرواتے ہیں۔انہیں مالیاتی اداروں کے ذریعے قرضوں کے بوجھ میں جکڑتے ہیں اورپھرخود موٹے تازہ مردم خوربھیڑیوں کی طرح روزلوگوں کاخون پی پی کرجوان ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1970 کے عشرے میں غریب ممالک اپنی تجارت میں امیر ملکوں سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر زیادہ کماتے ہیں جسے معاشیات کی زبان میں ٹریڈ سرپلس کہاجاتا ہے ۔ اب غریب ممالک کا خسارہ بیس ارب ڈالرسے تجاوزکر چکاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیابھرکی چندملٹی نیشنل کمپنیوں نے غریب ممالک کی اجناس تک کا30فیصد حصہ خریدلیا ہے ۔تیل اورمعدنیات توویسے ہی انہی چندکمپنیوں کے کنٹرول میں ہیں۔
1990 کے عشرے میں ضمیرفروش قیادتوں کے ذریعے جونجکاری کی مہم شروع کروائی گئی اس کے نتیجے میں ان غریب ممالک کی دولت اب صرف ایک فیصددولت مند افراد کے ہاتھ میں آگئی ہے جوجب چاہیں چینی آٹے دال کا بھائو مقررکردیں۔ان کمپنیوں نے سب سے پہلے ان ملکوں کو ورلڈبینک اورآئی ایم ایف کے ذریعے مقروض کیااورپھران کوسودکی لعنت میں ایسا پھنسایاکہ 1996 میں غریب ممالک 6.88کھرب ڈالرسوددیتے تھے اور1999 میں 4.114 کھرب ڈالراداکرنے لگے اوراب یہ تعداد3سوارب ڈالر سے کہیں زیادہ تجاوزکرچکی ہے۔اس سودکی ادائیگی کیلئے قوم کے لیڈروں سے یہ کہاجارہا ہے کہ یہ بھی ہمیں بیچو،وہ بھی ہمیں بیچو۔اپنامال ہمیں اس بھائو پرفروخت کرواور ہمارامال اس مہنگے دام پراپنے عوام کوفروخت کرکے ان کا خون نچوڑو۔
یہی وجہ ہے کہ دنیامیں آج پچاس فیصدلوگ روزانہ دوڈالریومیہ سے بھی کم آمدن پرزندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔دوارب لوگوں کے پاس نہ صاف پانی،بجلی، صفائی،اراضی کی ملکیت اورنہ فون ہے۔حتی کہ ان پرکوئی آفت ٹوٹ پڑے توبچانے کیلئے کوئی ادارہ موجود نہیں۔ دنیامیں ہرروزچالیس ہزاربچے بھوک اور بیماری سے مرجاتے ہیں۔اس کاروباری گورکھ دھندے میں کوئی ایک سوکے قریب بڑے ادارے شامل ہیں جن میں 51ملٹی نیشنل کارپوریشن ہیں۔ان میں سے 47 کے ہیڈکوارٹرزامریکامیں موجودہیں اوریہ سب امریکا کی دونوںجماعتوںکوکثیرچندہ دیتے ہیں اورامریکی کی کانگرس کے ذریعے  اپنے مفادات کاتحفظ کرواتے ہیں۔ دنیاکاساراکاسارامیڈیاان کارپوریشنوں  کے اشتہارات  اورخفیہ رقوم کامرہونِ منت ہے۔یہ اشتہارات بند کر دیں تومیڈیا کاگلا یوںبند ہوجائے کہ اس کی آوازتک نہ نکل سکے اورآن کی آن میں سارا میڈیاصفحہ ہستی پر گنگ ہوجائے۔ اسی لئے دنیا کے ہرملک میں امریکی سفیرکسی ملک کے مفادکاتحفظ نہیں کررہاہوتابلکہ ان ایک سوکے قریب بڑے اداروں کے مفادات کی خاطرکام کرتاہے جواس دنیاکاخون چوس رہے ہیں۔
یہ ادارے ہرغریب ممالک کی قیادت کواپنی طرح کاروباری اداروں میں شریک کرتے ہیں،انہیں مشترکہ فیکٹریوں میں حصے داربناتے ہیں۔انہیں غریبوں کولوٹنے کاگربتاتے ہیں ، یوں یہ ضمیرفروش قائدین اس بڑے کلب کاحصہ بن جاتے ہیں جواس دنیاکے وسائل پرقبضہ کرنا چاہتا ہے۔یہ اپنے ملک کی اجناس کوباہربھجوائیںگے تاکہ سستی خریدی جائے، وہاں ذخیرہ ہوگی، پھر کئی گنامہنگی قیمت پرواپس خریدکرلائیں گے۔ ایک ملک سے سستی خریدی گئی گندم یاچینی دوسرے ملک کو مہنگی فروخت کی جائے گی۔ 
ان تمام کمپنیوں کاطریقہ واردات کمال کاہے۔ پہلے کسی بھی ملک کی قیادت کورشوت اورکمیشن کے ذریعے بددیانت بنایاجاتاہے اورجب ان کے پاس ناجائزآمدنی کاوافرحصہ جمع ہوجاتاہے توانہیں کالے دھن کوسفید کروانے کیلئے کاروبارکروایا جاتاہے۔جب وہ منافع خوری اورلوگوں کولوٹنے کے اس فن کے تمام اصول سیکھ جاتے ہیں توپہلے اندرونی طورپر بلیک میل کرکے کام نکلوائے جاتے ہیں،وہ یہ کام کرتے رہتے ہیں لیکن جب مطالبات بڑھ جائیں اوریہ ضمیرفروش ذرا ہچکچاہٹ دکھائیں توان کے سکینڈل منظرعام پرآنے لگتے ہیں۔کام چلتارہے توٹھیک وگرنہ انہیں گندے ٹشوپیپرزکی طرح گندگی کی ٹوکری میں پھینک دیاجاتاہے۔ان مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ اسلحہ ساز کمپنیوں کاہوتاہے کہ جنگ جاری رکھو،اپنے لوگوں کوآپس میں لڑائو۔کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی پھیلائو۔ گزشتہ سوسالوں میں دوبڑی اورکئی سوچھوٹی جنگیں لڑی گئیں۔پہلے جنوبی مشرقی ایشیامیں، پھر جنوبی امریکہ اوراب مسلم ممالک ہیں۔
دہشت گردی کی جنگ میں ہماراساتھ دو، اس جنگ میں وہ ہماراخون ہی نہیں بلکہ اپنی رعایاکابھی لہونچوڑتے ہیں۔اس وقت دنیاکے فوجی اخراجات سالانہ 2کھرب ڈالر سے کہیں زیادہ تجاوزکرچکے ہیں۔
 اوران میں سے نصف سے زیادہ صرف امریکاکے ہیں،یعنی ہرامریکی مرد،عورت اوربچے کو2100 ڈالر سے کچھ زیادہ اداکرنے پڑتے ہیں اوریہ سب رقم ان بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے پاس جاتی ہے جوڈرون بناتی ہیں اورغریب ممالک پرحملہ آورہوتے ہیں۔ اسلحے کے تاجر پوری دنیامیں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک ہی تاجر اسرائیل اورحماس کو،شیعہ اورسنی کو،ہندو اورمسلمان کواور ترک اورکردکواسلحہ بیچتاہے۔اسلحہ لوگوں کے گھروں کی دہلیزتک پہنچایاجاتاہے،اس کو استعمال کرنے کی تربیت مفت فراہم کی جاتی ہے اورپھران کی منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے اورمستزادیہ کہ اس ترسیل کوعالمی تحفظ حاصل ہے۔    (جاری ہے)