08:06 am
ریکوڈک کی اصل کہانی

ریکوڈک کی اصل کہانی

08:06 am

تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سونے کی موجودگی کے امکانات مہم جوؤں کو اپنی طرف کھینچتے آئے ہیں۔ ایسے مقامات کے لیے افراد اور کمپنیاں ہی نہیں بلکہ اقوام بھی لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔ ممکنہ طور پر دنیا میں تانبے اور سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ ریکوڈک کیا اس سے مستثنیٰ ہوسکتا ہے ؟ 2010 میں میں لگائے گئے اندازے کے مطابق ریکوڈک مائننگ پراجیکٹ 3.3 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے شمال مغربی بلوچستان کے صحرائی حالات میں عالمی معیار کی ایک تانبے اور سونے کی کھلی کان تعمیر کرنے اور چلانے کا کا منصوبہ تھا۔
 
اصلی معاہدہ 1993 میں حکومتِ بلوچستان اور ایک اینگلو آسٹریلین کمپنی BHP Billiton کے درمیان طے پایا۔ ’’دست کشی اور باہمی رضامندی‘‘ کے اصول  کے تحت کمپنی نے  اپنا 75 فیصد حصہ بیچ دیا جس میں سے  37.5 فیصد چلی کی Antofagasta  اور 37.5 فیصد کینیڈا کی Barrick Gold Corporationکو فروخت کیا گیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ Tethyan Copper Company قائم کرنے اور پھر اسے کینڈا اور چلی والوں کو بیچنے کے لیے آسٹریلین کمپنی پورے منصوبے سے  75 ارب ڈالر بنائے گی۔ یہ بہت قلیل سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا بہت بڑا منافع ہے۔ اگر یہ درست ہے تو  یہ کمپنی  اگلے 56 سال تک ہر برس 1.25 ارب ڈالر  کماتی۔ رائلٹی یک طرفہ طور پر 4 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیوں کردی گئی اور حکومتِ بلوچستان معاہدے میں فریق کیوں نہ تھی ؟ اور ان کی اصلی سرمایہ کاری کیا تھی ؟ اگر ٹی تھیان نے، سی ای او ٹی تھیان جیرہارڈ وان بیرئیرس کے دعوے کے مطابق، 300 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تو یہ مناسب ہوتا کہ اس کی تصدیق کے لیے بین الاقوامی آڈیٹرز مقرر کرنے کی ان کی آفر قبول کرلی جاتی۔ چالیس سالہ تعمیراتی دور میں  3.3 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع تھی، تاہم اس میں سے زیادہ تر سونے اور تانبے کے ذخائر کی ضمانت پر ملنے والے قرضوں کی شکل میں آنا تھی۔ حکومتِ بلوچستان کا 25 فیصد حصہ 25 فیصد اخراجات برداشت کرنے پر منحصر کیوں تھا ؟ معاون خدمات، محفوظ سڑکیں اور مواصلات وغیرہ فراہم کرنے سمیت حکومتِ بلوچستان کی ابتدائی سرمایہ کاری کیا تھی ؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مستقبل میں بننے والی سونے اور تانبے کی کان سرمایہ کاروں کو مفت دے دی گئی ؟ سی ای او  ٹی تھیان کا دعویٰ ہے کہ پگھلانے اور خالص کرنےکے آپریشن میں فائدے کے امکانات مشکوک تھے اور اس کے معاشی امکانات کمزور تھے۔ پھر چلی اور کینیڈا والے جان و مال داؤ پر کیوں لگارہے تھے اور وہ بھی اس وقت کہ جب یہ علاقہ ’’القائدہ کے علاقے‘‘ کے تقریباً قلب میں تھا؟ یقیناً منافع کے لیے اور اگر وہ منافع بنا سکتے ہیں تو ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ کان کنی کوئی نیوکلیئر سائنس تو نہیں ہے۔ اتفاقی طور پر ثمر مبارک مند جو کہ ٹی تھیان کے پہلے پاکستانی سربراہ ہیں، پاکستان کے پہلے ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ بھی ان ہی کو جاتا ہے۔
1988 میں چلی میں تانبے کی کانوں کے لیے ریلوے سروس کے طور پر قائم ہونے والا Antofagasta گروپ اب کان کنی سمیت متعدد شعبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ آج یہ دنیا میں تانبہ پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ہے۔ کینیڈا کی Barrick Gold Corporation  پانچ براعظموں میں 25 کانیں اور بڑے اور طویل پراجیکٹس چلاتی ہے اور سونے کی صنعت کی لیڈر ہے۔ اس کے پاس 31 دسمبر 2009 کے مطابق 139.8 ملین اونس پر مشتمل دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر، 6.1 ارب پاؤنڈ تانبے کے ذخائر اور 1.06 ارب اونس سونے میں مضمر چاندی کے ذخائر ہیں۔ 2009 میں Barrick نے 7.42 ملین اونس سونا 363 ڈالر فی اونس اور 393 ملین پاؤنڈ تانبا 0.85 فی پاؤنڈ کی قیمت پر پیدا کیا۔  BHP Billiton Iron دنیا میں خام لوہے کے سب سے اہم سپلائرز میں سے ہے اور  ایلومینیم کی چھٹی بڑی پیداوار کرنے والی کمپنی  ہے۔ اس کے آپریشنز کا نیٹ ورک عالمی سطح پر گاہکوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ دنیا میں تانبے کی تیسری بڑی پیداواری کمپنی ہے اور سیسے اور جست کے میدان میں بھی چوٹی کی کھلاڑی ہے۔
TCC کو دیے گئے منصوبے  میں 600,000 ٹن گھاڑی کی گئی دھات سے 200,000 ٹن تانبے اور 250,000 اونس سونے کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اس پیداواری شرح کو حاصل کرنے کے لیے  110,000 ٹن خام دھات کو روزانہ پروسیس کرنا ہوگا۔ صرف انتہائی بہترین کان کنی کی تکنیکیں اور شاندار ٹیکنالوجی ہی TCC ریکو ڈوک پراجیکٹ کو معاشی طور پر ممکن بنا سکتے ہیں۔ سال میں گھاڑا کیا گیا تانبہ جس میں 28 سے 31 فیصد تانبا اور 7 سے 22 گرام/ٹن سونا ہوگا سالانہ 200,000 ٹن تانبے اور 250,000 سونے میں تبدیل ہوگا۔ کاروباری کان کنی کے آپریشنز کے حوالے سے اندازہ ہے کہ 56 سال تک جاری رہیں گے اور ان پر سالانہ 400 ملین امریکی ڈالر اخراجات آئیں گے۔ اس میں سے 45 سے 50 فیصد پاکستان میں خرچ کیا جائے گا۔ TCC کا دعویٰ ہے کہ وہ 2006 سے اب تک کھوج اور فنی تحقیق پر 200 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ خرچ کرچکی ہے۔ ابتدائی طور پر ہیوی فرنس تیل پر چلنے والے کمبائنڈ سائیکل ریسیپروکیٹنگ اینجنز 99.5 فیصد دستیابی کے لیے نصب کیے جانے تھے۔ پروسیسنگ پلانٹ پر تیار ہونے والے گھاڑی دھات 53 تا 57 فیصد نیم سیال بنا کر پائپ لائن کے ذریعے گوادر پورٹ لے جائی جانی تھی۔ اس لائن کی سب سے اہم خصوصیات یہ تھیں : (۱) ریکوڈک سے گوادر تک 682 کلومیٹر طویل دنیا میں نیم سیال مادے کے لیے بننے والی سب سے بڑی زیرِ زمین پائپ لائن (۲) اخراج کا پتہ چلانے والے آلات کی تنصیب اور دریا سے گزرنے پر پائپ لائن کے گرد کنکریٹ کا غلاف (۳) راستے میں تین بوسٹر سٹیشنز کا قیام۔
محمد علی تالپور کے مضمون  “Requiem for Reko Diq”, کے اقتباس کے مطابق ‘‘ریکوڈک چاغی میں قدیم آتش فشاں ہے جس کا لغوی معنی ریت کی پہاڑی ہے۔ یہ غلط نام ہے۔ ا س کا نام ٹانگوڈک’’ یعنی سونے کی پہاڑی ہونا چاہیے۔ ریت کے نیچے 12.3 ملین ٹن تانبا اور 20.9 ملین اونس سونا چھپا ہے۔ٹی سی سی  کے سی ای او نے 2010 میں کہا کہ ایک فزیبلٹی سٹڈی میں پچاس سے ساٹھ سال کے دورانیے میں 13 ملین ٹن تانبا اور 22 ملین اونس سونا ملنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ Tethyan کے اندازے، 8600 ڈالر فی ٹن تانبے اور 1350 ڈالر فی اونس سونے کی اس وقت کی عالمی قیمتوں اور 1500 ڈالر فی ٹن تانبے اور 350 ڈالر فی اونس سونے کی پیداواری لاگت کے حساب سے یہ 56 سال کے دورانیے میں سونے پر 156 ارب ڈالر اور تانبے پر 80 ارب ڈالر یعنی مجموعی طور پر 236 ارب ڈالر یعنی سالانہ 4.2 ارب ڈالر کا صرف سالانہ منافع دیتا۔‘‘
سرمایہ کاروں سے متعلق کچھ معلومات کچھ یوں ہے کہ  چلی کی لوکسک فیملی  Antofagasta Holdings  کی مالک ہے اور کینیڈا کی مْنک فیملی  Barrick Gold Corporation کی ملکیت رکھتی ہے۔ چلی کی اصل کمپنی Antofagasta and Bolivia Railway Company ، 1888 میں بولیویا کے La Paz سے چِلی کی بندرگاہ Antofagasta تک ریلوے لائن کا خرچ فراہم کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کی جانب سے لندن سٹاک ایکسچینج میں شامل کی گئی تھی۔  (جاری ہے)

کینیڈا کی بیرک گولڈ کارپوریشن دنیا میں سونے کی کان کَنی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے بانی یورپ سے ہجرت کرکہ چلی اور کینیڈا گئے۔ لیوکسک خاندان کے بزرگ اندرونکو لیوکسک چلی میں ایک کروشیائی باپ اور بولیویائی ماں کی اولاد تھے۔ Antofagasta لینے کے بعد انہوں نے تانبے اور کان کنی کے میدان میں بھی قدم رکھا جہاں وہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے ایک بن گئے۔ ان کی کامیابی کی کہانی تب شروع ہوئی جب جاپانی سرمایہ کار چلی میں ان کی کان خریدنا چاہتے تھے۔ لیوکسک نے جاپانیوں کو 500000 پیسو کے عوض اسے خریدنے کی دعوت دی۔ جاپانی سمجھے کہ پیسو نہیں بلکہ امریکی ڈالر کی بات ہورہی ہے اور انہوں نے امریکی ڈالر میں ادائیگی کردی جو اصل رقم سے دس گنا زیادہ تھے۔ لیوکسک نے اس ’’ایماندارانہ غلطی‘‘ کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی۔ Tethyan میں اپنا حصہ لے کر تلاش کے اخراجات میں ان کی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر ہوگی (1 ارب ڈالر کی زیادہ تر مزید سرمایہ کاری قرضوں کی شکل میں کی جائے گی)۔ اس کے عوض انہیں 56 سال میں 937 ارب ڈالر کا منافع ملے گا، یعنی اصل سرمایہ کاری سے ہزار گنا زیادہ۔ اندرونکو لیوکسک اعتماد کرنے والے جاپانیوں سے اپنے حق سے دس گنا اور بے وقوف پاکستانیوں سے ہزار گنا زیادہ منافع کما کر 2005 میں بخوشی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

اسی طرح بیرک کارپوریشنکے چئیرمین پیٹر مْنک سی سی نے بھی  ہنگری کے تارکین وطن میں شامل تھے۔ 1944 میں اپنے لڑکپن کے دوران انہوں نے جرمن فوجوں کے حملے کی زد میں آئے ہنگری کو اپنے خاندان  کے ساتھ ’’کاسٹنر‘‘ ٹرین کے ذریعے چھوڑا۔ دولت مند یہودیوں پر مشتمل اس ٹرین کو ایس ایس کرنل ایڈولف ایش مان نے خصوصی اجازت دی تھی۔ 83 سالہ پیٹر مْنک نے اسرائیل انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، حیفا سے ڈاکٹریٹ کررکھا ہے۔ اگرچہ سرمایہ کار کاروباری لوگ ہیں جنہوں نے ایک موقع دیکھا اور سازشی مفروضوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا لیکن پاکستانیوں کی نیت اور محرکات پر سوال ضرور اٹھتے ہیں جنہوں نے مشرف دور میں ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان تقریباً تحفے میں دے ڈالی اور بدلے میں بچا کھچا قبول کرلیا۔
ملک ریاض حسین، پاکستان کے معروف لینڈ ڈویلپر جن کے پاکستان کے تمام شعبے میں حیران کن اعلیٰ سطحی رابطے ہیں، جون 2012 کے وسط میں اس دعوے کے ساتھ سامنے آئے کہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار نے 
ان کو بلیک میل کرکے تین سال کی مدت میں 3.63 ملین ڈالر وصول کیے۔ ارسلان کے لندن اور مونٹ کارلوْکے دوروں، ہلٹن پارک لین اور ہوٹل دی پیرس میں قیام کی رسیدیں، ہاؤسنگ معاہدوں  حتیٰ کہ پاسپورٹ اور فلائیٹ کی تفصیلات بھی ملک ریاض کے ایک ساتھی اور ارسلان کے دوست نے پیش کردیں۔ اگرچہ ارسلان نے الزامات کو پراپیگنڈہ قرار دیا لیکن ان کے والد نے پیشگی عدالتی حملہ کرتے ہوئے از خود نوٹس کے تحت اپنے بیٹے کے خلاف ہی تفتیش کا آغاز کردیا جو پاکستان کی تاریخ میں اپنی طرز کا پہلا واقعہ تھا۔ شعیب سڈل ارسلان افتخار اور ملک ریاض، دونوں کے خلاف بہت سے ثبوت سامنے لائے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے سبب ان کے خلاف کاروائی کی تجویز دی۔ دونوں کے کافی زیادہ نقصان کے پیشِ نظر ایک سمجھوتا قرار پایا۔ جسٹس چودھری  ازخود ایکشن لے کر اعلیٰ  افسران کی عدالت میں  جس طرح سرِ عام تذلیل کرنیکے عادی تھے اس کے باعث پہلے ہی   بیوروکریسی کے دل میں ان خوف بیٹھ چکا تھا اور توقع کے عین مطاب اسی خوف کے نتیجے میں یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ خصوصی ’’صدارتی‘‘ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے آصف زرداری نے ارسلان افتخار اور ملک ریاض، دونوں کے خلاف ٹیکس چوری اور دیگر معاملات کے حوالے سے کارروائی کی اور شعیب سڈل کی تجویز نظر انداز کردی گئی۔ یہ کلاسیکی پاکستانی طریق کار ہے جس کے تحت ایک چور نے دو دیگر چوروں کو چھوڑ دیا۔

ارسلان افتخار پہلی بار اپنے والد کو متنازعہ نہیں بنا رہے تھے۔ سابق چیف جسٹس پر الزام تھا کہ انہوں نے ناکافی گریڈز کے باوجود اپنے بیٹے کو میڈیکل سکول میں داخلہ دلوایا اور پھر پہلی سرکاری ذمہ داری میں تیزی سے ترقی دلوائی۔ ارسلان نے آخرکار طب کا شعبہ ترک کردیا اور اپنی ٹیلی کمیونیکشن کمپنی بنالی، اطلاعات کے مطابق وہ ’’آپریشن مینیجمنٹ اور ٹیلی کام کے شعبے میں نیٹ ورک کی مینٹیننس‘‘ کے حوالے سے بہت کامیاب ہیں۔ ارسلان افتخار نے اس وقت عجلت کے ساتھ عمران خان کی کردار کشی اور نتیجتاً الیکشن کمیشن سے اخراج کی کوشش کرکے سکینڈل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ کیا اپنے دہشت ناک عہدے سے محروم ہوکر ارسلان کے والد جوڑ توڑ جاری رکھنے کے لیے اپنے سابقہ ساتھیوں  پر انحصار کرسکتے تھے ؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے کیا تاثر ابھرتا ؟ شدید تنقید کا شکار ہوکر ارسلان کو ریکوڈک سکینڈل کے بارہ دن کے اندر مجبوراً مستعفی ہونا پڑا۔ اس وقت کے انتہائی ایمان دار وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے اعتراف کیا کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ نیشنل پارٹی کے حاصل خان بزنجو نے جو کہ پاکستان کے سب سے ایمان دار سیاستدان غوث بخش بزنجو، جنہیں 1973 میں صدر ذوالفقار علی بھٹو نے غیر قانونی طور پر گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، کے احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے فرزند ہیں، تفصیل کے ساتھ ارسلان کے اس دعوے کو رد کیا کہ ان کے والد اس معاملے بارے کچھ نہ جانتے تھے۔ بلکہ ارسلان کی تقرری کا دفاع کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے اہم رہنماء مشاہداللہ کا کہنا تھا کہ یہ افتخار چودھری کی ’’قوم کے لیے متعدد خدمات‘‘ کا حقیقی ’’صلہ‘‘ ہے۔ قوم کے لیے خدمات یا مسلم لیگ ن کے لیے ؟ ارسلان کی وفاق کی اثر و رثوخ سے ہونے والی تقرری ریکوڈک سے مخصوص تھی۔ دھوکے کی اس کوشش میں اور کون شامل تھا ؟
تلاش کے لائسنس کا جاری کیا جانا اگرچہ قابلِ فہم ہے لیکن کوئی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ 1993 میں بہتر شرائط کیوں طے نہیں کی گئیں ؟ جب انکار 
کے پہلے حق کا سوال اٹھا تو حکومتِ بلوچستان یا حکومتِ پاکستان میں سے کس نے BHP Billiton کے حق میں دست کشی کی ؟ خاص طور پر جب اس وقت تک یہ واضح ہوچکا تھا کہ تانبے کی کان واقعی میں سونے کی کان بھی ہے ؟ اور کثیف دھات خالص کرنے کے لیے بیرونِ ملک کیوں بھیجی جارہی ہے ؟ کیا  چیز Tethyan کو پاکستان میں پلانٹ لگانے سے روکے ہوئے ہے، اگر ممکن ہو تو اسی جگہہ پر اور سیکورٹی یا موسمی وجوہات سے یہ ممکن نہ ہو تو تانبے کی کثیف دھات کو باہر بھیجنے سے قبل گوادر یا پسنی میں یہ کام کیوں نہیں ہوسکتا ؟ حکومت بلوچستان (25 فیصد پر ہی) Tethyan میں تیسرے فریق کی حیثیت سے BHP کے ٹی سی سی  کا 75% کینیڈا اور چلی کی کمپنیوں کو دینے کے معاہدے میں شریک کیوں نہیں تھی ؟ اور BHP نے بلوچستان کی سونے کی جاگیر کے بروکر کی حیثیت سے کیا حاصل کیا یا کیا حاصل کرے گی ؟ کون سے پاکستانی مختلف اوقات میں وفاقی و بلوچستان حکومتوں میں اس معاملے میں  ملوث رہے ؟ ان کا اور ان کے عزیزوں کا طرزِ زندگی بہت کچھ بتادے گا۔ اور چوں کہ تلاش کا لائسنس فروری 2011 میں ختم ہونے سے قبل خام دھاتوں کی کان کنی میں نہیں بدلا جاسکتا  تھا لہذا شفافیت کے مقصد کی تحت عوام کے لیے یہ امر دل چسپی کا ہوگا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان میں کون سونے کی کان مٹی کے عوض بیچنے کی کوشش کررہا تھا ؟ کیا 56 سال بعد صوبہ بلوچستان خام دھات کی کان کنی کی فضلے کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا جو خطرناک کیمیکلز سے آلودہ ہوچکا ہوگا۔
چونکہ TCC کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات نمٹنانے کے لیے تیار ہیں لہذا تیزی کے ساتھ اس جانب بڑھنا چاہیے۔ شاید ہم طویل المدتی تناظر میں معاہدے کی بہتر شرائط طے کرسکیں اور وہ نیم سیال دھات کو بیرون ملک بھیجنے کی بجائے پاکستان میں پروسیسنگ پر تیار ہوجائیں۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور ہمیں انہیں ادائیگی کرنی ہی پڑتی ہے تو پانچ ارب ڈالر اس طرح قسطوں میں ادا کیے جائیں جس طرح انہوں نے بی ایچ پی کو 75 ارب ڈالر معاہدے کی مکمل مدت میں ادا کرنے ہیں۔
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

 

تازہ ترین خبریں