08:08 am
جمہوریت!36 نے 64 کو شکست دے دی!

جمہوریت!36 نے 64 کو شکست دے دی!

08:08 am

٭جمہوریت کا تماشا، دونوں جیت گئے، دونوں ہار گئے، 36 نے 64 کو شکست دے دی!O آصف زرداری کیوں صادق سنجرانی کے خلاف ہوئے، اہم انکشاف!O اپوزیشن کے 14 باغی ووٹوں کی اندرونی کہانی، ہارس ٹریڈنگ، ضمیر فروشی کی داستانیںO صدر ٹرمپ کی پھر ثالثی کی پیش کشO محکمہ اینٹی کرپشن، 11 ماہ میں ساتواں ڈائریکٹر جنرل O مقبوضہ کشمیر، مزید28 ہزار بھارتی فوجی داخل O سندھ: 900 ارب (9 کھرب) کی کرپشن، بڑے ناموں کی گرفتاریوںکا فیصلہ O وہاڑی: پٹرول مہنگا، رکشوں کے آگے گدھے باند لئے۔
٭دونوں جیت گئے، دونوں ہار گئے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین دونوں ہنس رہے ہیں! حیرت ہے آصف زرداری اور شہباز شریف نے سیاست ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا؟ میں رات کو سوچ کر سویا تھا کہ 36 کے ہاتھوں 64 کی ڈھول بجاتی پذیرائی پر آصف زرداری فوری طور پر سیاست ترک کرنے اور شہباز شریف اسمبلی سے استعفا دینے کا اعلان کر دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ صبح اٹھ کر اخبارپڑھا، ٹیلی ویژن لگایا، دونوں ننگی تلواریں اٹھائے اسی طرح موجود تھے، للکارے مار رہے تھے۔
٭چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد! بہت غلط، بہت بُرا فیصلہ ہے۔ جس انداز سے اپوزیشن کے 15 ارکان کو ورغلایا گیا انہوں نے کھلے اجلاس میں عدم اعتماد کے حق میں ہاتھ اٹھائے اور پھر خفیہ رائے شماری میں واضح انحراف کا مظاہرہ کیا! یہ کوئی نئی بات تو نہیں، اس سے پیشتر بھی ملکی تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اپوزیشن ضمیر فروشی، ہارس ٹریڈنگ وغیرہ کے الزامات لگا رہی ہے مگر اس کا اپنا کردار کیا تھا؟ عدم اعتماد کی قرارداد کی اصل وجہ کیا تھی؟ جس شخص کو آصف زرداری نے خود چیئرمین بنوایا تھا، اسے ہٹانے کا سبب کیا تھا؟ کیا صرف یہ کہہ دینا کافی تھا کہ زرداری صاحب کو چیئرمین کا چہرہ پسند نہیں رہا؟ حکومت پر جو بھی الزام لگائیں، خود اپوزیشن کی اپنی پوزیشن کیا تھی؟ ایوان میں 64 ووٹ مگر رائے شماری میں 53 کا اہتمام نہ کر سکے! اب بات کھلی ہے کہ زرداری نے اپنے خلاف بند مقدمے کھولے جانے اور جعلی اکائونٹس کے نئے مقدمے قائم ہونے کی کارروائیوں کو رکوانے کے لئے چیئرمین صادق سنجرانی کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی مگر سنجرانی تعمیل نہ کر سکے اور معذرت کر دی۔ اس احسان فراموشی پر آصف زرداری کا پارا چڑھ گیا کہ چیئرمین بنانے کا سارا عمل ضائع گیا اور یہ کہ اسی چیئرمین کے عہد میں زرداری کے خلاف نئے مقدمے کھلتے گئے، نئے ریفرنس دائر ہونے لگے مگر چیئرمین انہیں روکنے کی بجائے انصاف پسندی کی تبلیغ کرتے رہے۔ بڑی آسان بات تھی کہ ایوان میں اپوزیشن کی بھاری اکثریت کے ساتھ اس چیئرمین کو ہٹا کر دوسرا ’’یَس باس، یَس سَر‘‘ قسم کا فرمانبردار قسم کا چیئرمین لایا جائے۔ ن لیگ پیپلزپارٹی کی دُم چھلّہ بن چکی تھی، مولانا فضل الرحمان مسلسل حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے تھے، کچھ دوسری پارٹیاں بھی ساتھ تھیں، یہ لوگ سارے کام چھوڑ کر چیئرمین صادق سنجرانی کے پیچھے پڑ گئے۔ مگر کامیابی پہلے دن سے ہی مشکوک تھی! ن لیگ کا ایک حلقہ ہر معاملے میں آصف زرداری کے احکام کی تعمیل پر ناراض تھا۔ ڈراما یہ کیا گیا کہ عدم اعتماد کی قرارداد ن لیگ کے بزرگ رہنما راجہ ظفر الحق سے پیش کرائی گئی اور راجہ ظفر الحق کہہ رہے ہیں کہ انہیں صبح سے ہی پتہ تھا کہ رزلٹ کیا آئے گا؟ جو آ کر رہا۔ تین تین بار وفاداری کے حلف کام نہ آئے، سب عشائیے، ظہرانے ضائع گئے۔ سندھ بارشوں کے سیلاب میں ڈوب رہا تھا اور اپوزیشن آفت زدہ علاقوں میں جانے کی بجائے اسلام آباد میں مرغ پلائو کھاتی رہی!
٭اب آصف زرداری اپنے چوبداروں کی حلف شکنی پر گرم ہو رہے ہیں۔ زرداری صاحب! حلف شکنی کی یہ فصل آپ نے ہی بوئی تھی، جب صدر بننے کے بعد آپ نے سپریم و ہائی کورٹوں کے 60 معطل ججوں کو بحال کرنے سے انکار کیا۔ میاں نوازشریف نے خود سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر آپ کے خلاف درخواست دائرکی۔ اس پر مری کے نواح میں بھوربن کے ایک ہوٹل میں آپ کے نوازشریف کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ بیچ میں قرآن مجید رکھ کر آپ نے تمام معطل ججوں کو فوری طور پر بحال کرنے کا عہد کیا۔ اگلے روز اعلان کر دیا کہ وعدے اور معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ اب 14 ارکان نے یہی کچھ کیا ہے تو رونا کس بات کا؟
اب دوسری طرف آئیں! اپوزیشن کے 64 کے مقابلہ میں حکومت کے پاس 36 ووٹ تھے پھر کیا آندھی چلی کہ پانسہ الٹ گیا؟ اپوزیشن ہارس ٹریڈنگ اور فی کس پانچ سے دس کروڑ تک کی نیلامی کے الزامات لگا رہی ہے۔ یہ غلط یا سچ، مگر کیا ان افراد کا افسوسناک کردار قابل قبول ہو سکتا ہے جو صبح ہاتھ اٹھا کر وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور سہ پہرکے وقت منافقت کے دھارے میں بہہ جاتے ہیں؟ حکومت کس بات پر فخر کر رہی ہے؟ تاریخ میں سیاست اورغیرت ہمیشہ ایک دوسرے سے دور رہی ہیں۔ موجودہ محاذ آرائی میں غیرت کا تقاضا تھا کہ الم ناک نتیجے کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے تمام ارکان چیئرمین کے سامنے اپنے استعفے رکھ کر باہر نکل آتے! مگر ایسا کیوں ہوتا؟ 1988ء میں ن لیگ نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی۔ نوازشریف اپنے ارکان کو چھانگا مانگا کے جنگل میں اور بے نظیر بھٹو اپنے لشکر کو سوات لے گئیں۔ ن لیگ کی قرارداد بری طرح ناکام ہوئی۔ اب وہی ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہم آغوش ہو چکی ہیں اور غیرت مُنہ دیکھ رہی ہے!حکومت کی احمقانہ حرکت تھی ڈپٹی چیئرمین کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی! صرف 36 ووٹ!
٭مجھے چیئرمین صادق سنجرانی کی اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ آئین میں سینٹ کے چیئرمین کو ہٹانے کا کوئی ذکر موجود نہیں! حیرت یہ کہ ملک کے سب سے بڑے ایک قانون ساز ادارے کے سربراہ کی یہ علمی حیثیت کہ آئین میں جو بات صاف الفاظ میں لکھی ہوئی ہے، اس کا موصوف کو علم ہی نہیں۔ محترم چیئرمین صاحب! کسی وقت آئین پڑھنے کی کوشش کیجئے۔ آئین کی شق نمبر53 میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کا وہی طریقہ بروئے کار لایا جائے گا جو قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو ہٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے! حیرت کہ سینٹ کا چیئرمین آئین سے ناواقف!! بات لمبی ہو گئی۔ عدم اعتماد کے ڈرامے اور ہنگامے کا جو انجام ہوا، اس پر امیر خسرو کا کلام یاد آ گیا کہ کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا، آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا!
٭کچھ دوسری باتیں۔ یک نہ شُد، دو شُد! امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازع کشمیر میں ثالثی کی پیش کش کر دی ہے اور یہ بھی کہہ دیا کہ اس تنازع کا حل بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے اور نریندر مودی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار فوجی بھیجنے کے بعد مزید 28000 فوجی بھیج دیئے ہیں۔ وہاں سات لاکھ فوج پہلے ہی موجود ہے جو چپے چپے پر پھیلی ہوئی ہے۔ نئے فوجی دستے ہر دیہات تک پہنچ رہے ہیں۔
٭وہاڑی:پٹرول انتہائی مہنگا ہونے پر وہاڑی کے رکشہ ڈرائیوروں نے ایک دلچسپ حل نکال لیا ہے کہ رکشوں میں پٹرول ڈالنے کی بجائے ان کے آگے گدھے باندھنے شروع کر دیئے ہیں۔ خبر کے مطابق گدھے کرائے پر لئے جاتے ہیں۔ ان کی رفتار کم ہوتی ہے مگر کام بن جاتا ہے۔ ممکن ہے دوسرے شہروں میں بھی یہ طریقہ شروع ہو جائے۔
٭اسرائیل: بیت المقدس کی ایک عدالت نے ایک چار سالہ بچے علیان کو اشتہاری قرار دے دیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر پر چھاپہ مارنے والی اسرائیلی فوج پر پتھرائو کیا تھا۔ یہ بچہ اپنا کھانے کا ڈبہ اور پانی کی بوتل لے کر عدالت کی طرف چلا تو بہت سے لوگ اس کے ساتھ چل پڑے!

تازہ ترین خبریں