08:03 am
ضمیرفروش

ضمیرفروش

08:03 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان تمام کمپنیوں کاطریقہ واردات کمال کاہے۔ پہلے کسی بھی ملک کی قیادت کورشوت اورکمیشن کے ذریعے بددیانت بنایاجاتاہے اورجب ان کے پاس ناجائزآمدنی کاوافرحصہ جمع ہوجاتاہے توانہیں کالے دھن کوسفید کروانے کیلئے کاروبارکروایا جاتاہے۔جب وہ منافع خوری اورلوگوں کولوٹنے کے اس فن کے تمام اصول سیکھ جاتے ہیں توپہلے اندرونی طورپر بلیک میل کرکے کام نکلوائے جاتے ہیں،وہ یہ کام کرتے رہتے ہیں لیکن جب مطالبات بڑھ جائیں اوریہ ضمیرفروش ذرا ہچکچاہٹ دکھائیں توان کے سکینڈل منظرعام پرآنے لگتے ہیں۔کام چلتارہے توٹھیک وگرنہ انہیں گندے ٹشوپیپرزکی طرح گندگی کی ٹوکری میں پھینک دیاجاتاہے۔ان مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ اسلحہ ساز کمپنیوں کاہوتاہے کہ جنگ جاری رکھو،اپنے لوگوں کوآپس میں لڑائو۔کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی پھیلائو۔ گزشتہ سوسالوں میں دوبڑی اورکئی سوچھوٹی جنگیں لڑی گئیں۔پہلے جنوبی مشرقی ایشیامیں، پھر جنوبی امریکہ اوراب مسلم ممالک ہیں۔
 
دہشت گردی کی جنگ میں ہماراساتھ دو، اس جنگ میں وہ ہماراخون ہی نہیں بلکہ اپنی رعایاکابھی لہونچوڑتے ہیں۔اس وقت دنیاکے فوجی اخراجات سالانہ 2کھرب ڈالر سے کہیں زیادہ تجاوزکرچکے ہیں اوران میں سے نصف سے زیادہ صرف امریکاکے ہیں،یعنی ہرامریکی مرد،عورت اوربچے کو2100 ڈالر سے کچھ زیادہ اداکرنے پڑتے ہیں اوریہ سب رقم ان بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے پاس جاتی ہے جوڈرون بناتی ہیں اورغریب ممالک پرحملہ آورہوتے ہیں۔ اسلحے کے تاجر پوری دنیامیں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک ہی تاجر اسرائیل اورحماس کو،شیعہ اورسنی کو،ہندو اورمسلمان کواور ترک اورکردکواسلحہ بیچتاہے۔اسلحہ لوگوں کے گھروں کی دہلیزتک پہنچایاجاتا ہے،اس کو استعمال کرنے کی تربیت مفت فراہم کی جاتی ہے اورپھران کی منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے اورمستزادیہ کہ اس ترسیل کوعالمی تحفظ حاصل ہے۔
یہ داستان بہت طویل ہے۔یہ وہ المیہ ہے جس نے خوراک میں خودکفیل افریقہ کوقحط میں مبتلاکردیااورامن سے رہنے والے ایشیاکولاکھوں لاشوں کانذرانہ۔ قارئین اگرآپ کو یادہو تووکی لیکس نے توضمیرفروشوں کے صرف نام ظاہر کئے تھے لیکن ضمیرخریدنے والوں کے چہروں پرابھی تک نقاب پڑاہواہے۔ سارا میڈیاان کے ہاتھ میں غلام اورساری سیاسی قیادتیں ان کی زرخرید ہیں۔اب کس میں ہمت ہے کہ ان چہروں کو بے نقاب کرے اوردنیاکو درپیش تباہی کے سونامی سے محفوط کرسکے؟جنوبی ایشیامیں واقع پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اوراس کی ایٹمی طاقت کا حامل ہوناان بڑے اداروں کو بری طرح کھٹک رہا ہے۔وہ جان چکے ہیں کہ پاکستان کے مادی وسائل اوراس کے محنتی عوام اس ملک کی تقدیر بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں لیکن یہ ضمیرخریدنے والی قوتوں کو کیسے گوارہ ہے کہ ایسی زرخیزمنڈی ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کو مسلسل ایک ایسے مصنوعی عذاب میں مبتلا کررکھا ہے کہ ہرآنے والا دن گزرے دن سے بدترہوتاجارہا ہے۔ہمیں نہ صرف غلامی سے بدتر زندگی گزارنے پرمجبورکردیا گیا ہے بلکہ ہماری قومی غیرت کی بھی دھجیاں اڑا دی گئیں ہیں ۔
اس ملک کو ایٹمی صلاحیت سے ہمکنارکرنے والے سائنسدانوں سے ان ضمیر فروشوں نے کیا سلوک کیا؟ڈاکٹر عبدالقدیرکو قومی مجرم بناکر ٹیلیویژن پرپیش کرکے رسواکردیاگیا اور دوسری طرف ملک کے انتہائی نامورسائنسدان بشیرالدین محمودکی ماں نے قوم کے سامنے دہائی دی کہ آئندہ کوئی پاکستانی ماں اپنے بچے کوسائنس کی تعلیم نہ دلوائے۔ایک نہتی اور بے کس خاتون  عافیہ صدیقی کوامریکی جیل میں پھینک کرہم بھول گئے ہیں اورزرداری کے دورحکومت میں ریمنڈ کو انسانی شکارگاہ کی یہ سہولت فراہم کردی گئی کہ اس نے دن دیہاڑے سرعام لاہورمیں ہمارے شہریوں کے سروں میں بڑی بے رحمی سے سوراخ کرکے اپنے شکارکی فلم بنائی اوراس کامعاوضہ اداکرکے باعزت واپس اپنے ملک میں لوٹ گیااوران کارناموں پرفخر کریں کہ وہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل مسلم ملک پاکستان میں انسانی شکارسے لطف اندوزہوسکتے ہیں ۔ قارئین!اگر آپ کویاد ہوتوچندبرس پہلے امریکی اٹارنی جنرل نے بھری عدالت میں یہ کہاتھاکہ پاکستانی چندہزارڈالر کے عوض اپنی ماں کوفرخت کردیتے ہیں۔اس وقت بھی پاکستان کے غیورعوام ان ضمیر فروشوں کونہ پہچان سکی اورکیااب بھی  یہی کیفیت ہے؟
لکھتے رہے ہم پھر بھی حکائتِ خونچکاں
ہر چندکہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

تازہ ترین خبریں