08:03 am
ضمیر فروشی جیسی گالی سن کر بھی چودہ سینیٹرز خاموش!

ضمیر فروشی جیسی گالی سن کر بھی چودہ سینیٹرز خاموش!

08:03 am

بعض احباب سر تھامے بیٹھے ہیں ۔ سینیٹ چیئر مین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف عددی اکثریت کے باوجود کیوں ناکام قرار پائی ۔ حزب اقتدار نے اپنے ہیٹ سے جیت کا خرگوش کیسے برآمد کر لیا ؟ حزب اقتدار کی فتح غیرمتوقع سہی لیکن خارج از امکان نہیں تھی۔ سیکرٹ بیلٹ یا خفیہ رائے دہی کا اہتمام ہے ہی اس لیے کہ اراکین جماعتی دبائو کے بغیر  اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کر پائیں!  غور کیا جائے تو ایوان بالا میں ثابت ہوا ہے کہ اراکین اپنی جماعتوں کی پالیسی سے کھلم کھلا  اختلاف کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد کی تائید میں چونسٹھ اراکین کھڑے ہوئے ‘ البتہ خفیہ رائے دہی کے دوران تحریک کے حق میں پچاس ووٹ آئے۔ صاف ظاہر ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی صفوں میں چودہ سینیٹرز ایسے ہیں جو اپنی جماعت کے موقف سے متفق نہ ہونے کے باوجود کھل کر اظہار نہیں کر پائے ۔ ار ا کین کی اخلاقی  جرات پر سوال اُٹھا یا جا سکتا ہے لیکن اس پہلے حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی محرک جماعتوں کو بھی چند  اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالنی چاہیے ۔
 
  اگرچہ تحریک عدم اعتماد حزب اختلاف کا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن اس حق کے استعمال کے لیے مضبوط جواز کیا تھا؟ پی پی پی اور نون لیگ کی قیادت اپنے احتساب پر سیخ پا ہے ۔ انتخابی شکست کے صدمے اور دھاندلی کے الزامات کی قوالی میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں  ایم ایم اے ،  محمود اچکزئی  کی  پی کے میپ  اور اسفند یار ولی کی اے این پی بھی پی پی پی اور نون لیگ کی ہمنوا ہیں ۔ اگر شکایت وفاقی حکومت سے ہے تو پھر سینیٹ کو سیاسی دنگل کا اکھاڑا بناکر چیئرمین سینیٹ پر حملے کا کیا جواز بنتا تھا ؟ پی پی پی کا موقف اس لیے زیادہ مضحکہ خیز  اور کھوکھلا قرار دیا جاسکتا ہے کہ ماضی میں صادق سنجرانی کو چیئر مین بنوانے کے لیے خود پیپلز پارٹی نے بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے تحریک انصاف سے تعاون کی کڑوی گولی خوشی خوشی نگل کے وفاق کی فتح اور بلوچستان کے حقوق کے ترانے گائےتھے۔اگر شکایت وفاقی حکومت سے ہے تو پھر حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم یا پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیوں نہ کی ؟ 
 سینیٹ جیسے اہم قانون ساز ایوان کا چیئرمین نہ  تو حکومتی پالیسی سازی کا ذمہ دار ہوتا ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کی حالیہ شکایات کا کوئی براہ راست تعلق اس سے بنتا ہے ۔ یہ بالکل واضح  ہے کہ حزب اختلاف کے سیاسی پٹارے میں تحریک عدم اعتماد کے لیے کوئی جواز نہیں تھا ۔ یہ اقدام ملک کو  سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کا باعث بنا ۔
 بلاشبہ اس قدام سے سیاسی ماحول بھی خراب ہوا ہے اور خود سیاسی جماعتوں کے بارے عوام کی رائے بھی مزید خراب ہوئی ہے۔ ماضی میں عوامی نمائندوں کی کھلم کھلا خریداری کے شرمناک واقعات میڈیا پر بیان ہوئے تو نئی نسل کو بھی علم ہوا کہ آج جمہوریت کی سر بلندی اور سویلین بالا دستی کے راگ الاپنے والے نام نہاد قائدین کی اصلیت کیا ہے۔ حزب اختلاف کی بے مقصد مہم جوئی نے جہاں سیاسی نظام کی بد صورتی کو بے نقاب کیا وہیں معزز ایوان کی ساکھ اور کردار پر بھی دھبے لگا دیئے ہیں ۔ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک کا مسترد ہونا حزب اقتدار کی فتح تو ہے لیکن پچاس اراکین کا عدم اعتماد کا اظہار کوئی اچھی علامت نہیں ۔ تین اراکین ایوان سے غیر حاضر تھے جبکہ پانچ ووٹ مسترد ہوئے ۔ اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ صادق سنجرانی  ایک سو چار ارکین پر مشتمل ایوان میں پینتالیس اراکین کی حمایت کے حامل ہیں ۔ اگر تین غیر حاضر اراکین ووٹ دے پاتے یا پانچ مسترد شدہ ووٹ قرار داد کے حق میں آجاتے تو سنجرانی صاحب چیئر مین سینیٹ نہ رہ پاتے ۔ 
سیاسی اخلاقیات پر عمل کا رواج ہوتا تو قرارداد ناکام ہونے کے بعد بھی چیئر مین سینیٹ کے عہدے سے مستعفی ہو کے مثبت روایات کو فروغ دیا جا سکتا تھا ۔  افسوس صد افسوس آج ہماے پارلیمانی ایوان ان اعلیٰ  روایات سے عاری ہیں ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سینیٹرز نے قرار داد مسترد کر کے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملکی مفاد کو مقدم جانا ۔ حزب اختلاف کی رائے میں چودہ سینیٹرز نے جماعتی فیصلے کے برخلاف ووٹ دے کے ضمیر فروشی کی ہے۔ اپنے  اراکین کو ضمیر فروش قرار دے کر حزب اختلاف نے ببانگ دہل  یہ ا عتر ا ف کر لیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین ایوان میں ضمیر فروشوں کو داخلے کا پروانہ انہی جماعتوں نے عطا کیا تھا ۔ کمال یہ ہے کہ جس ایوان کے نازک مزاج  اراکین کا  استحقاق  معمولی سی بات پر مجروح ہوجاتا ہے وہ آج ضمیر فروشی کی گالی سُن کے بھی خاموش ہے۔آئین کی آڑ میں سیاسی سازش رچا کر حزب اختلاف نے بد عنوان قیادت کے لیے سہولت کاری کا جو کھیل رچایا تھا وہ طشت از بام ہو چکا ۔ 
صادق سنجرانی ہوں یا حاصل بزنجو  یہ سب اسی سازشی نظام اور پس پردہ  جوڑ توڑ کی پیداوار ہیں ۔ قوم کو مبارک ہو کہ معزز اراکین پارلیمان  نہ تو اپنی رائے کھل کے بیان کرنے کی جرات رکھتے ہیں اور نہ ہی وقت پڑنے پر پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہیں۔    فتح و شکست سے قطع نظر حزب اختلاف کے اس بلا جو ا ز  اقدام نے پارلیمان کو بھی  بے وقار کیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے چہرے پر بھی کالک پوت دی ہے۔  

تازہ ترین خبریں