08:04 am
 عدم اعتماد کی تاریخ،چیئرمین سینٹ ،سپیکر اور وزیراعظم

 عدم اعتماد کی تاریخ،چیئرمین سینٹ ،سپیکر اور وزیراعظم

08:04 am

چیئرمین سینٹ کے منصب سے صادق سنجرانی کو معزول کرکے خود کو چیئرمین بنوانے کے خواہش مند حاصل بزنجو تھے جو قوم پرست اور دو قومی نظریئے کے مخالف غوث بخش بزنجو کے بیٹے ہیں۔ انہیں شکست ہوئی اور اپوزیشن کے 14اراکین نے صادق سنجرانی کے حق میں وو ٹ دے دیا۔ یوں حاصل بزنجو چیئرمین نہ بن سکے تو اپوزیشن شکست کھاگئی ہے صادق سنجرانی کی اراکین سینٹ کے بلاتفریق محبت و رواداری انہیں بچاگئی مگر اب حاصل بزنجو نے کہا ہے  کہ آئی ایس آئی نے 14 ووٹ اپوزیشن کیمپ سے منحرف کروائے ہیں اس کا جواب تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دے دیا ہے۔ مجھے سینٹ کی تاریخ یاد آرہی ہے مجھے صدر مسلم لیگ محمد خان جونیجو سے کافی قرب حاصل تھا جیسے حامد ناصر چٹھہ اور بریگیڈیئر اصغر کو حاصل تھا۔ ایک دن تنہائی میسر آئی تو میں نے ان سے پوچھا کبھی آپ کو مسلم لیگ اور اراکین پارلیمنٹ کے حوالے سے ندامت محسوس ہوئی؟ وہ بولے ’’ہاں، میں وزیراعظم پاکستان تھا، سینٹ انتخابات ہو رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دو شخصیات نے پیسے دے کر سینیٹر بنانے کا عمل کیا تھا۔ وہ وزیر اعلیٰ اور یہ دونوں سینیٹرز میری پارٹی میں بعد ازاں شامل بھی ہوگئے مگر میں اب ان کی باز پرس کرنے سے قاصر تھا۔ شدید ندامت، شرمندگی اور بے بسی محسوس کی تھی‘‘2012 ء میں جب حج پر گیا تھا تو منیٰ میں مجھے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رفیق حج صحافی نے بتایا کہ جونیجو نے جو کچھ آپ سے کہا تھا وہ پورا سچ ہے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ غلام قادر جام تھے۔ بنگلزئی اور ایک اور چھوٹی چھوٹی داڑھی والے سابق انجینئر نے پیسے دیئے یہ پیسے وزیر اعلیٰ جام غلام قادر کے بندوں نے لئے تھے یہ سودا بلوچستان کے ایک بڑے صحافی نے طے کروایا تھا۔ اشارہ کرتا ہوں کہ بلوچستان کے ایک نامور صحافی بھی اس عہد میں سینیٹر بنے تھے جبکہ سابق انجینئر سینیٹر ڈپٹی چیئرمین بنے  تھے اور غلام اسحاق خان چیئرمین بنے تھے۔
 
فخر امام، جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں  وزیر رہ چکے تھے مگر جب1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو وہ جنرل ضیاء الحق کے نامزد کردہ خواجہ صفدر (خواجہ آصف کے والد) کو شکست دیکر سپیکر قومی اسمبلی بن گئے اور یہ ناممکن کام صدر ضیاء الحق کے گھر میں رہنے والے آرائیں سینیٹر طارق چوہدری نے کروایا۔ یوں ارائیں6 اراکین قومی اسمبلی کے ووٹ فخر امام کو مل گئے۔ جنرل ضیاء الحق اپنے چیئرمین شوریٰ خواجہ صفدر کو سپیکر بنوانے میں ناکام ہوگئے۔ عابدہ حسین زوجہ فخر امام بھی رکن اسمبلی تھی۔ کچھ اراکین اور سینیٹرز (جاوید جبار، طارق چوہدری) نے آزاد گروپ بنوایا، فخر امام کے پاس وزیراعظم جونیجو کے خلاف ایک آئینی ریفرنس آیا جسے کالعدم کرنے کی بجائے انہوں نے جونیجو کی رکنیت اسمبلی ختم کرنے کے لئے الیکشن کو بھیج دیا۔ یوں پارلیمنٹ میں سناٹا چھاگیا کہ جونیجو اب تو گئے مگر صدر ضیاء الحق نے صدارتی صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے جونیجو کو بچالیا۔ یوں جونیجو اور ضیاء الحق نے مل کر فخر امام کو منصب سپیکر قومی اسمبلی سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر وزیر اطلاعات حامد ناصر چٹھہ کو سپیکر قومی اسمبلی بنوا دیا۔ صدر ایوب کے زمانے سے صحافت کو مقید کرتے جو قوانین تھے ان کی منسوخی اور صحافت کو آزادی صرف محمد خان جونیجو، وزیراعظم اور حامد ناصر چٹھہ وزیر اطلاعات نے دی تھی کہ نوجوان چٹھہ نے صحافیوں، اخبارات کو پریس ایڈوائس جاری کرنے اور خفیہ سنسر شپ نافذ کرنے سے دو ٹوک باغیانہ طور پر انکار کر دیا بلکہ  وزیراعظم کو قائل کیا کہ اخبارات اور صحافیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ انہیں تنقید کرنے دیں وہ ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے بشرطیکہ ہم حکومت والے درست کرتے ہوں۔ یوں پریس سے وابستہ ایوبی عہد ختم ہوگیا۔
میرا فضل مردان والے بہت مالدار تھے۔ سیاستدانوں بطور خاص بھٹو خاندان پر ان کے کافی مالی احسانات تھے ۔ وہ مسلم لیگ جونیجو کے صوبہ سرحد کے صدر تھے۔ میر افضل نے چٹھہ کو اعتماد میں لیے بغیر بے نظیر سے کہا کہ انتخابات کے بعد وہ اسے چیئرمین سینیٹ بنوائیں گی تب وہ انتخابات میں پی ڈی اے کی بجائے پی پی پی کو ہی جتوا دیں گے کہ وہ نگران وزیراعظم وزیر اعلیٰ سرحد جو تھے لہٰذا انہوں نے جونیجو گروپ کے افراد کو پی ڈی ایف کی ملی ہوئی اتحادی ٹکٹوں کے باوجود پی پی پی کے امیدواران کو جتوا دیا لہٰذا بعد ازاں پی ڈی ایف کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو، وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو بن گئے تو چیئرمین سینٹ کے انتخابات کا جب وقت آیا تو میر افضل جو پہلے ہی سینٹر بن چکے تھے، نے اصرار کیا کہ انہیں حسب معاہدہ چیئرمین بنوائیں مگر جب چٹھہ سے بے نظیر نے بات کی اور میر افضل آکر خود حامد ناصر چٹھہ سے ملے تو چٹھہ نے ان کی حمایت سے انکار کر دیا۔ یوں پی ڈی ایف ۔ یعنی وزیراعظم  بے نظیر بھٹو اور صدرمسلم لیگ جونیجو، حامد ناصر چٹھہ نے ایک اور سینیٹر کو چیئرمین نامزد کر دیا جبکہ اپوزیشن کے راہنما میاں نواز شریف نے وسیم سجاد کو ہی اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ جب یہ انتخابی عمل ہو رہا تھا تو میں سینیٹ لابی میں وفاقی وزیر پیداوار بریگیڈیئر اصغر کے ساتھ موجود تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ انتخاب شروع ہونے سے پہلے ہی وسیم سجاد دو تین ووٹوں سے جیت رہے تھے۔ یہ تین ووٹ میر افضل کا اپنا، دو دوسرے بھی وہی تھے جنہیں انہوں نے سینیٹر بنوایا تھا۔ بیگم کلثوم سیف اللہ ہوں یا اور مالدار سرحد والے یہ اکثراراکین صوبائی اسمبلی کو الیکشن کا خرچہ دیکر ان سے ووٹ لیا کرتے تھے اور یوں آسانی سے سینیٹر بن جایا کرتے تھے۔ اب لگے ہاتھوں قومی اسمبلی کا حال بھی لکھ دیتا ہوں۔1988 ء میں بڑی پارٹی پی پی پی  بن کر آئی مگر  وہ اکثریتی پارٹی نہ تھی جبکہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کے  چند اراکین جیت گئے جس سے پی پی پی اتحاد کرکے حکومت بناسکتی تھی۔ بڑی پارٹی ہونے کے سبب صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر کو حکومت سازی کی دعوت دی مگر وہ اعتماد کا ووٹ کہاں سے لیتی کہ ہائوس میں اکثریت تو اسے حاصل نہ تھی۔لہٰذا صدر مسلم لیگ کے طور پر محمد خان جونیجو نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کرکے انہیں قائل کیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی بجائے اگر آئی جے آئی کے غلام مصطفی جتوئی کو ووٹ دے دیں  اور اتحاد کرلیں تو انہیں حکومت میں مناسب حصہ دیا جائے گا۔ مولانا مان گئے ۔ یوں جونیجو تین دن تک وزیر اعلیٰ نواز شریف سے رابطے اور بات چیت کی کوشش کرتے رہے جبکہ مولانا فضل الرحمن کی جونیجو سے بات چیت سے نواز شریف آگاہ تھے لہٰذا نواز شریف نے جونیجو، فضل الرحمن طے شدہ معاہدہ کو اس لئے ناکام بنوا دیا کہ مسلم لیگ کے اندر سے غلام مصطفی جتوئی وزیراعظم بن جائیں گے حالانکہ جتوئی کو خود نواز شریف نے سیالکوٹ کے اختروریو ایم این اے گروپ کے ذریعے ایم این اے بھی بنوایا تھا مگر نواز شریف مسلم لیگ کے اندر سے اپنے سوا کسی کو بھی وزیراعظم قبول کرنے کو تیار نہ تھے کیونکہ وہ بعد ازاں خود وزیراعظم بننے کے راستے پر گامزن تھا۔
پس تحریر: حاصل بزنجو نے آئی ایس آئی پر جو الزام لگایا  اس پر پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ حاصل بزنجو شکست تسلیم کریں۔ ان کا الزام سیاسی بصیرت نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں