08:05 am
ریکوڈک کی اصل کہانی

ریکوڈک کی اصل کہانی

08:05 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

کینیڈا کی بیرک گولڈ کارپوریشن دنیا میں سونے کی کان کَنی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے بانی یورپ سے ہجرت کرکہ چلی اور کینیڈا گئے۔ لیوکسک خاندان کے بزرگ اندرونکو لیوکسک چلی میں ایک کروشیائی باپ اور بولیویائی ماں کی اولاد تھے۔ Antofagasta لینے کے بعد انہوں نے تانبے اور کان کنی کے میدان میں بھی قدم رکھا جہاں وہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے ایک بن گئے۔ ان کی کامیابی کی کہانی تب شروع ہوئی جب جاپانی سرمایہ کار چلی میں ان کی کان خریدنا چاہتے تھے۔ لیوکسک نے جاپانیوں کو 500000 پیسو کے عوض اسے خریدنے کی دعوت دی۔ جاپانی سمجھے کہ پیسو نہیں بلکہ امریکی ڈالر کی بات ہورہی ہے اور انہوں نے امریکی ڈالر میں ادائیگی کردی جو اصل رقم سے دس گنا زیادہ تھے۔ لیوکسک نے اس ’’ایماندارانہ غلطی‘‘ کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی۔ Tethyan میں اپنا حصہ لے کر تلاش کے اخراجات میں ان کی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر ہوگی (1 ارب ڈالر کی زیادہ تر مزید سرمایہ کاری قرضوں کی شکل میں کی جائے گی)۔ اس کے عوض انہیں 56 سال میں 937 ارب ڈالر کا منافع ملے گا، یعنی اصل سرمایہ کاری سے ہزار گنا زیادہ۔ اندرونکو لیوکسک اعتماد کرنے والے جاپانیوں سے اپنے حق سے دس گنا اور بے وقوف پاکستانیوں سے ہزار گنا زیادہ منافع کما کر 2005 میں بخوشی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
اسی طرح بیرک کارپوریشنکے چئیرمین پیٹر مْنک سی سی نے بھی  ہنگری کے تارکین وطن میں شامل تھے۔ 1944 میں اپنے لڑکپن کے دوران انہوں نے جرمن فوجوں کے حملے کی زد میں آئے ہنگری کو اپنے خاندان  کے ساتھ ’’کاسٹنر‘‘ ٹرین کے ذریعے چھوڑا۔ دولت مند یہودیوں پر مشتمل اس ٹرین کو ایس ایس کرنل ایڈولف ایش مان نے خصوصی اجازت دی تھی۔ 83 سالہ پیٹر مْنک نے اسرائیل انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، حیفا سے ڈاکٹریٹ کررکھا ہے۔ اگرچہ سرمایہ کار کاروباری لوگ ہیں جنہوں نے ایک موقع دیکھا اور سازشی مفروضوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا لیکن پاکستانیوں کی نیت اور محرکات پر سوال ضرور اٹھتے ہیں جنہوں نے مشرف دور میں ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان تقریباً تحفے میں دے ڈالی اور بدلے میں بچا کھچا قبول کرلیا۔
ملک ریاض حسین جون 2012 کے وسط میں اس دعوے کے ساتھ سامنے آئے کہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار نے ان کو بلیک میل کرکے تین سال کی مدت میں 3.63 ملین ڈالر وصول کیے۔ ارسلان کے لندن اور مونٹ کارلوْکے دوروں، ہلٹن پارک لین اور ہوٹل دی پیرس میں قیام کی رسیدیں، ہاؤسنگ معاہدوں  حتیٰ کہ پاسپورٹ اور فلائیٹ کی تفصیلات بھی ملک ریاض کے ایک ساتھی اور ارسلان کے دوست نے پیش کردیں۔ اگرچہ ارسلان نے الزامات کو پراپیگنڈہ قرار دیا لیکن ان کے والد نے پیشگی عدالتی حملہ کرتے ہوئے از خود نوٹس کے تحت اپنے بیٹے کے خلاف ہی تفتیش کا آغاز کردیا جو پاکستان کی تاریخ میں اپنی طرز کا پہلا واقعہ تھا۔ شعیب سڈل ارسلان افتخار اور ملک ریاض، دونوں کے خلاف بہت سے ثبوت سامنے لائے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے سبب ان کے خلاف کاروائی کی تجویز دی۔ دونوں کے کافی زیادہ نقصان کے پیشِ نظر ایک سمجھوتا قرار پایا۔ جسٹس چودھری  ازخود ایکشن لے کر اعلیٰ  افسران کی عدالت میں  جس طرح سرِ عام تذلیل کرنیکے عادی تھے اس کے باعث پہلے ہی   بیوروکریسی کے دل میں ان خوف بیٹھ چکا تھا اور توقع کے عین مطاب اسی خوف کے نتیجے میں یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ خصوصی ’’صدارتی‘‘ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے آصف زرداری نے ارسلان افتخار اور ملک ریاض، دونوں کے خلاف ٹیکس چوری اور دیگر معاملات کے حوالے سے کارروائی کی اور شعیب سڈل کی تجویز نظر انداز کردی گئی۔ یہ کلاسیکی پاکستانی طریق کار ہے جس کے تحت ایک چور نے دو دیگر چوروں کو چھوڑ دیا۔
 شدید تنقید کا شکار ہوکر ارسلان کو ریکوڈک سکینڈل کے بارہ دن کے اندر مجبوراً مستعفی ہونا پڑا۔ اس وقت کے انتہائی ایمان دار وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے اعتراف کیا کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ نیشنل پارٹی کے حاصل خان بزنجو نے جو کہ پاکستان کے سب سے ایمان دار سیاستدان غوث بخش بزنجو، جنہیں 1973 میں صدر ذوالفقار علی بھٹو نے غیر قانونی طور پر گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، کے احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے فرزند ہیں، تفصیل کے ساتھ ارسلان کے اس دعوے کو رد کیا کہ ان کے والد اس معاملے بارے کچھ نہ جانتے تھے۔ بلکہ ارسلان کی تقرری کا دفاع کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے اہم رہنماء مشاہداللہ کا کہنا تھا کہ یہ افتخار چودھری کی ’’قوم کے لیے متعدد خدمات‘‘ کا حقیقی ’’صلہ‘‘ ہے۔ قوم کے لیے خدمات یا مسلم لیگ ن کے لیے ؟ ارسلان کی وفاق کی اثر و رثوخ سے ہونے والی تقرری ریکوڈک سے مخصوص تھی۔ دھوکے کی اس کوشش میں اور کون شامل تھا ؟
تلاش کے لائسنس کا جاری کیا جانا اگرچہ قابلِ فہم ہے لیکن کوئی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ 1993 میں بہتر شرائط کیوں طے نہیں کی گئیں ؟ جب انکار کے پہلے حق کا سوال اٹھا تو حکومتِ بلوچستان یا حکومتِ پاکستان میں سے کس نے BHP Billiton کے حق میں دست کشی کی ؟ خاص طور پر جب اس وقت تک یہ واضح ہوچکا تھا کہ تانبے کی کان واقعی میں سونے کی کان بھی ہے ؟ اور کثیف دھات خالص کرنے کے لیے بیرونِ ملک کیوں بھیجی جارہی ہے ؟ کیا  چیز Tethyan کو پاکستان میں پلانٹ لگانے سے روکے ہوئے ہے، اگر ممکن ہو تو اسی جگہہ پر اور سیکورٹی یا موسمی وجوہات سے یہ ممکن نہ ہو تو تانبے کی کثیف دھات کو باہر بھیجنے سے قبل گوادر یا پسنی میں یہ کام کیوں نہیں ہوسکتا ؟ حکومت بلوچستان (25 فیصد پر ہی) Tethyan میں تیسرے فریق کی حیثیت سے BHP کے ٹی سی سی  کا 75فیصد کینیڈا اور چلی کی کمپنیوں کو دینے کے معاہدے میں شریک کیوں نہیں تھی ؟ اور BHP نے بلوچستان کی سونے کی جاگیر کے بروکر کی حیثیت سے کیا حاصل کیا یا کیا حاصل کرے گی ؟ کون سے پاکستانی مختلف اوقات میں وفاقی و بلوچستان حکومتوں میں اس معاملے میں  ملوث رہے ؟ ان کا اور ان کے عزیزوں کا طرزِ زندگی بہت کچھ بتادے گا۔ اور چوں کہ تلاش کا لائسنس فروری 2011 میں ختم ہونے سے قبل خام دھاتوں کی کان کنی میں نہیں بدلا جاسکتا تھا لہٰذا شفافیت کے مقصد کی تحت عوام کے لیے یہ امر دلچسپی کا ہوگا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان میں کون سونے کی کان مٹی کے عوض بیچنے کی کوشش کررہا تھا ؟ کیا 56 سال بعد صوبہ بلوچستان خام دھات کی کان کنی کی فضلے کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا جو خطرناک کیمیکلز سے آلودہ ہوچکا ہوگا۔
چونکہ TCC کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات نمٹنانے کے لیے تیار ہیں لہذا تیزی کے ساتھ اس جانب بڑھنا چاہیے۔ شاید ہم طویل المدتی تناظر میں معاہدے کی بہتر شرائط طے کرسکیں اور وہ نیم سیال دھات کو بیرون ملک بھیجنے کی بجائے پاکستان میں پروسیسنگ پر تیار ہوجائیں۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور ہمیں انہیں ادائیگی کرنی ہی پڑتی ہے تو پانچ ارب ڈالر اس طرح قسطوں میں ادا کیے جائیں جس طرح انہوں نے بی ایچ پی کو 75 ارب ڈالر معاہدے کی مکمل مدت میں ادا کرنے ہیں۔(فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں