08:06 am
وزیر اعلیٰ سندھ کے نمائشی دورے اور ڈوبتا کراچی 

وزیر اعلیٰ سندھ کے نمائشی دورے اور ڈوبتا کراچی 

08:06 am

گذشتہ چار ماہ سے سندھ اور پاکستان کے مختلف اخبارات میں محکمہ موسمیات کی جانب سے یہ پیش گوئی کی جارہی تھی کہ اس دفعہ کراچی سمیت پورے پاکستان میں زیادہ بارش ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں اس پیش گوئی کے باوجود کراچی ، حیدر آباد اور سندھ کے اکثر شہروں میںبارش کے پانی سے بچائو سے متعلق کوئی تدابیر اختیا ر نہیں کی گئیں۔ کراچی میں بارش کے آغاز سے قبل وزیر اعلیٰ سند ھ نے کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا فوٹو کھنچوا نے کے بعد عوام کو یقین دلایا کہ بارش کے بچائو سے متعلق تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں۔ کراچی کے بے آسرا  عوام نے ان کی باتوں کا یقین کر لیا لیکن جب بارش شروع ہوئی تو اس بارش نے تباہی مچا دی حالانکہ بارش اتنی زور دار نہیں تھی لیکن وقفہ وقفہ سے ہو رہی تھی جس نے کراچی کی سڑکوں اور منسلک روڈز کو سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا ۔
 
 وزیر اعلیٰ سندھ کے کراچی کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے دورے نمائشی ثابت ہوئے دراصل سندھ حکومت کراچی سے خوامخواہ کا عناد رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی کی مختلف سڑکیں اور نالوں کی نہ تو مرمت کی جاتی ہے اور نہ صفائی ستھرائی۔ محلے والے اپنا کچرا ان نالوں میں ڈال دیتے ہیں جس سے پانی کے بہائو میں رکاوٹیں پیدا ہو تی ہیں ۔ کراچی کا مئیر اپنے اخباری اور ٹی وی بیانات میں اکثر یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ سندھ حکومت اور وزارت بلدیات مئیر وسیم اختر کو مطلوبہ رقم فراہم نہیں کرتی ہے اس لیے کراچی میں ترقیاتی کام کے علاوہ سڑکوں کی مرمت اور کچر ا اٹھانے کا معقول بندوبست نہیں ہو پار ہا ہے ۔ اس لیے یہ تکلیف دہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے ہو سکتا ہے کراچی کے مئیر کا سندھ حکومت پر الزام درست ہو لیکن وزارت بلدیات کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس کا جواب سعید غنی کے پاس نہیں ہے۔
 دوسری طرف بارش کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں بارش کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں دو بچے بھی شامل ہیں ان حادثات کا الزام کے الیکٹرک پر لگایا گیا ہے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار کے الیکٹرک ہے بجلی فراہم کرنے کے اس محکمہ نے بارش سے متعلق عوام کو کسی قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق کسی قسم کی مہم نہیں چلائی اگر چلائی ہوتی تو اتنی قیمتی جانوں کا نقصان نہ ہوتا ۔ نیز اس بارش کے دوران کراچی کے اکثر علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب تھی جبکہ کے الیکٹرک کا کوئی نمائندہ عوام کی پریشاینوں کا ازالہ کرنے والا موجود نہیں تھا اگرانہیں فون کیے جاتے ہیں تو کوئی فون اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ ایک ڈھیٹ قسم کا رویہ ہے عوام کی پریشانیوں سے لا تعلقی اور لا پرواہی برتی جا رہی ہے ایسا لگتا ہے کراچی شہر کا کوئی وارث یا پرسان حال نہیںہے۔حالانکہ اس ہی شہر کی معاشی و سماجی سرگرمیوں سے پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے لیکن یہاں کے سوا دوکروڑ عوام کی داد رسی کرنے کے لیے کوئی زحمت اٹھانے والا نہیں ہے جن لوگوں کو عوام نے ووٹوں سے منتخب کیا ہے وہ سڑکوں پر جاہلوں کی طرح لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں حالانکہ سڑکوں پر دست و گریباں ہونے والوں کے لواحقین بھی اسی  پریشان کن حالات سے دو چار ہیں جس طرح کراچی کا ایک عام آدمی!
اس ضمن میں ہی سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے سندھ حکومت کی کارکردگی کو انتہائی ناقص قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک کر پٹ حکومت ہے جس کو عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیںہے اور نہ ہی یہ عوام کی بہتری کے لیے کوئی کام کرنا چاہتی ہے کہ کراچی ایک ’’ منی پاکستان‘‘ ہونے کے باوجود ایک لاوارث شہر کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ کراچی کے بعض باخبر باسیوں کا خیال ہے کہ سندھ حکومت کو مراد علی شاہ نہیں چلا رہے ہیں بلکہ آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو اور فریال تالپور چلا رہی ہیں ۔ سندھ حکومت کے وسائل ان ہی تین افراد کے گرد گردش کر رہے ہیں ۔ وسائل بھی ان تینوں کے اشاروں اور ایماء  پر خرچ کیے جاتے ہیں ۔ اس طرح سندھ حکومت خود اپنے قائدین کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اگر ان تینوں کا حکم نہیں مانا جاتا ہے تو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور بعد میں جھوٹے مقدموں میں بھی پھنسا دیا جاتا ہے ۔
 سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار تھے، بلکہ وہ اکثر اپنے قریبی دوستوں سے زرداری فیملی کے غیر آئینی طریقہ کار پر نکتہ چینی کرتے رہتے تھے لیکن وہ بھی بے بس تھے حالانکہ وہ ایک اچھے پارلیمنٹیرین ہیں لیکن بھٹو مرحوم کے نام پر حکومت کرنے والے تین افراد جن کا میںنے بالائی سطور میں ذکر کیاہے سندھ حکومت کی کوششوں اور کارکردگی کو غیر مئوثر بنا دیا ہے سارے وسائل ان تینوں کے قبضے میں ہیں اس لیے کراچی کے عوام کے دکھوں اور مصائب کا ازالہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ مولا علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا ہے کہ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں‘‘ ۔ کراچی کے عوام اپنے گونا گوں مسائل کے سلسلے میں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ا۔حتجاج کرنے پر انہیں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے پیٹا جاتا ہے۔
کراچی کی موجودہ خراب وخستہ صورتحال کے پیش نظر اس شہر قائد میں کوئی نیا سرما یہ لگانے کو تیار نہیں ہے کیونکہ جب ذرائع حمل و نقل ہی بے کار اور ازکا ر رفتہ اور فرسودہ ہوں تو کون یہاںاپنا سرمایہ لگائے گا ؟ حال ہی میں کراچی کے بعض بڑے سرمایہ داروں نے احتجاج کر تے ہوئے  سندھ حکومت اور ان کے ذمہ داروں سے رابطہ کر کے انہیں حقائق سے آگا ہ کیا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اندھیرے میں روشنی ضرور ہوگی اور کراچی کے مسائل پر توجہ دے کر ضرور اصلاحات کو روبہ عمل لا کر شہر قائد کو دوبارہ ترقی ، خوشحالی اور روشنی کا شہر بنایا جائے گا لیکن کراچی میں بارش کے چند قطروں نے حکومت سندھ کی ’’حسن کارکردگی‘‘ کی قلعی کھول دی ہے ۔ انہیں احساس دلایا ہے کہ اس شہر کو سدھارنے کے لیے اور عوام کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لیے شب و روز محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیا سندھ کے وزیر اعلیٰ ایسے اقدمات اٹھا سکیں گے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب سید مراد علی شاہ کے پاس ہے۔   ذرا سوچیے!