08:07 am
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی زبردست نقل و حرکت!

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی زبردست نقل و حرکت!

08:07 am

٭مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی وسیع کارروائی کا خطرہO حاصل بزنجو: مجھے ’’فوج نے ہرایا!‘‘ فوج کا سخت جواب، مقدمہ Oکل بھوشن یادو: بھارتی شرائط، قونصلر رسائی رک گئیO پیپلزپارٹی کے سینیٹروں کے استعفےO مریم نواز کا جلوس، چھ صحافیوں کی پٹائیO سینٹ میں شکست، ن لیگ، پیپلزپارٹی کی تحقیقاتی پارٹیاںO مولانا فضل الرحمن خاموش! گھر چلے گئے۔
 
٭امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پھر کشمیر کے تنازع میں ثالثی کی پیش کش کر دی اور بھارت میں پھر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ پھر سیاسی حلقوں اور میڈیا میں شور شرابا کہ امریکہ نے بھارت بارے اپنی پالیسی بدل لی ہے۔ پہلے کہتا رہا کہ اس مسئلے کو پاکستان اور بھارت باہم مل کر حل کریں، اب تیسرے فریق کے طور پر ثالثی کی طرف چل پڑا ہے۔ اس سے یہ مسئلہ بار بار عالمی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے! بھارتی اخبارات ٹرمپ کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ اس کی صدارتی مدت کا وقت ایک سال باقی رہ گیا ہے (اگلے برس نومبر تک)۔ وہ اس مختصر مدت میں کیا ثالثی کرائے گا؟
٭سینیٹ کے اندرزلزلہ کاہنگامہ تو ہو گیا مگر اس کے آفٹر شاکس جاری ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادتیں اپنے اپنے انداز میں ان 14 سلطانی گواہوں کو ڈھونڈ رہی ہیں جو عین موقع پر دھوکہ دے گئے اور سوئمبر کاکی جیت کا ہار حاصل بزنجو (اب لاحاصل) کے گلے میں ڈالنے کی بجائے پھر سے صادق سنجرانی کے گلے میںڈال دیا۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی شدید برہمی سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ بہت پراعتماد تھے کہ عدم اعتماد کی قرارداد کی منظوری کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اب جو ہوا اس پر اپوزیشن نے تو حواس باختہ ہو کر گرم ہونا ہی تھا مگر مولانا فضل الرحمان کے رویئے نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کوئی بیان نہیں دیا خاموشی کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان اپنے گھر چلے گئے۔ صحافتی ذرائع کے مطابق وہ عدم اعتماد کی ناکامی پر بہت مایوس ہوئے ہیں، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ فون بھی بند تھا۔ ان ذرائع کے مطابق مولانا اسلام آباد پر 10 لاکھ افراد کی لشکر کشی کی کامیابی کے بارے میں بھی مایوس ہو رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اور ن لیگ نے اس ’’ملین مارچ‘‘ میں شامل ہونے سے معذرت کر لی ہے۔ پیپلزپارٹی نے جلوس کی حد تک شامل ہونے کا یقین دلایا ہے مگر باقی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن کو 14 افراد کی بے وفائی کا کوئی اندازہ نہیں تھا البتہ عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے والے راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ انہیں صبح ہی نتیجے کا اندازہ ہو گیا تھا۔
نئی صورت حال یہ پیدا ہوئی ہے کہ چیئرمینی کے ناکام امیدوار حاصل بزنجو نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ جیتنے والوں کو فوج کے اہم ترین شعبے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض نے کامیاب کرایا ہے۔ اس پر فوج سخت برہم ہو گئی۔ اس کا ردعمل سامنے آ چکا ہے۔ حاصل بزنجو اس ناکامی پر اتنے دل برداشتہ ہوگئے کہ ہارنے کی خبر سن کر اک دم طبیعت ناساز ہو گئی! اور کراچی چلے گئے۔ وہاں ایک ہسپتال میں وحشت ناک انکشاف ہوا ہے کہ انہیں تو کینسر لاحق ہو چکا ہے۔ ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ خدا تعالیٰ انہیں اس موذی مرض سے نجات دلائے! سیاست اپنی جگہ مگر وہ بہر حال ملک کے اہم سیاسی رہنما ہیں۔ دوبار وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد، بلوچستان کے سابق گورنر غوث بخش بزنجو قد آور شخصیت تھے۔ میری اِن سے کوئٹہ اور لاہور میں بہت سی ملاقاتیں رہیں۔ مجھے حیرت یہ رہی کہ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لائی صدر کے طور پر انہیں گورنر کے عہدہ سے برطرف کیا ۔اکبر بگٹی کے لندن پلان کے انکشاف پر انہیں چار سال جیل میں رکھا۔ پھر حیدرآباد سازش کیس میں غداری کے الزام میں مزید چار سال قید کئے رکھا، انہیں فوجی جنرل ضیاء الحق نے رہا کیا۔ فوج تو ان کے لئے نجات دہندہ ثابت ہوئی مگر ان کے بیٹے حاصل بزنجو ایک عہدہ کی کوشش میں ناکام ہو کر فوج کے خلاف سخت کلامی کر رہے ہیں؟ تاریخ تو پڑھ لیتے!
٭بھارتی میڈیا کی اس اطلاع کے بعد کہ امرناتھ یاترا کے راستے میں بھاری مقدار میں پاکستانی اسلحہ دریافت ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات تیزی سے خطرناک شکل اختیار کر گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے شمالی پہاڑی علاقے میں 13 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک غار میں ہندو دیوتا ’’شیو‘‘ کے جسم کو دیکھنے کے لئے ڈیرھ ماہ سے شروع ’’امرناتھ یاترا‘ (اتنک واد یاترا) 15 اگست کو ختم ہونے والی ہے۔ اب تک تین لاکھ 25 ہزار یاتری اس غار کی یاترا کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یاتریوں کی ایک بس پر حملہ کے بعد یہ یاترا روک دی گئی تھی۔ پچھلے برس سے سخت سکیورٹی کے ساتھ پھر شروع ہوئی۔ یہ دو ماہ جاری رہتی ہے۔ اس سال چھ لاکھ یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔ شیو دیوتا والے اس غار تک پہنچنے کے لئے تقریباً 45 کلو میٹر کا انتہائی پیچ دار مشکل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ بہت تنگ اور خطرناک ہے۔ اب تک 30 یاتری ہلاک، اتنے ہی زخمی ہو چکے ہیں۔  بہت کم یہ سفر پیدل کیا جاتا ہے۔ زیادہ لوگ گھوڑوں پر سفر کرتے ہیں۔ اس یاترا کی حفاظت کے لئے 40 ہزار بھارتی فوجی ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کچھ روز پہلے بھارتی میڈیا میں نمایاں خبر شائع ہوئی کہ یاترا کے راستے میں ایک جگہ پاکستان کی بنی ہوئی بارودی سرنگیں، بھاری مقدار میں گولہ بارود اور ایک امریکی ایم 24 رائفل برآمد ہوئی ہے۔ اس خبر کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر میں 28 ہزارمزید فوجی بھیج دیئے گئے ہیں جب کہ سات لاکھ پہلے ہی موجود ہیں۔ ان فوجیوںنے آتے ہی امرناتھ یاترا کے 800 کنال کے بیس کیمپ کے اردگرد کئی کلو میٹر تک چھاپے شروع کر دیئے ہیں۔ سینکڑوں کشمیری باشندو ںکو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کشمیر کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امرسنگھ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مسلسل اس علاقے میں دہشت گرد بھیج رہا ہے۔ اس سے بہت خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے، اس سے نمٹنے کے لئے مزید فوج منگوائی گئی ہے۔ امرسنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں دہشت گردوں کی حزب المجاہدین، انصار گروپ اور دوسری تنظیموں کو بہت حد تک ختم کر دیا گیا ہے مگر پاکستان سے نئے گروپ آرہے ہیں ان سے نمٹا جا رہا ہے۔
٭پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق بھارتی جاسوس کل بھوشن سے بھارتی قونصلر کی رسائی کے لئے گزشتہ روز 3 بجے سہہ پہر کا وقت مقرر کر دیا اور بھارت کو اطلاع دے دی۔ بھارت نے ملاقات کے وقت سے صرف دو گھنٹے بعد اطلاع دی کہ کل بھوشن سے سفارت خانہ کی ملاقات مکمل تنہائی میں ہو گی، کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہو گا۔ یہ بات نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی قوانین کے بھی مطابق نہیں ہے۔ عام قسم کے مجرم سے اس کے سفارت خانہ کی ملاقات بھی مکمل تنہائی میں نہیں ہو سکتی۔ ایسی تنہائی میں سفارت خانہ والے اپنی مرضی کا بیان ریکارڈ کر کے اسے عالمی سطح پر مسئلہ بنا سکتے ہیں۔ کسی جاسوس کے بارے میں قونصلر کے ساتھ ایسی ملاقات کا کوئی تصور نہیں۔ بھارت نے جو شرط لگائی ہے وہ اس پر اصرار کرتا رہے گا اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ اس نے شرط واپس نہ لی تو یہ معاملہ غیر معینہ عرصہ تک لٹک سکتا ہے۔
٭ایس ایم ایس: آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار ابراہیم خان کی نماز جنازہ صابر شہید سٹیڈیم میں مولانا یوسف نے پڑھائی تھی۔اس بارے میں چھپنے والی خبر کی تصحیح کر دیں۔ ذاکر شوکت، راولا کوٹ۔
٭آزاد کشمیر سے اسامہ عباسی: دھیرکوٹ ضلع باغ سے کافی دور ایک گائوں سنگھڑ بٹھارا کے گورنمنٹ ہائی سکول کا نتیجہ 100 فیصد رہا ہے۔ ایک طالب علم نے 1025 نمبر لئے ہیں۔ سکول کے اساتدہ کی حوصلہ افزائی کیلئے چند سطریں چھاپ دیں۔ بہت شکریہ!

تازہ ترین خبریں