06:36 am
 کشمیر ، بڑی جنگ کا آغاز

 کشمیر ، بڑی جنگ کا آغاز

06:36 am

مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کی بے مثال قربانیاں اور لازوال جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں
 مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کی بے مثال قربانیاں اور لازوال جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ بھارت عملی طور پر شکست کھا کر مکمل بدحواسی اوربوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں وہ انسانیت کے خلاف جنگی مجرم ثابت ہوا ۔ عالمی عدالت کے فیصلے میں بھارتی نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دہشتگردجاسوس قراردینے پر وہ بین الاقوامی ریاستی دہشت گرد قرار پایا ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیاء واچ جیسی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموںنے بھارتی مظالم کو بری طرح بے نقاب کیا ۔ 
  1947ء میںجموں ،ڈوڈا ،اودھم پور ،سانبا ،اور کٹھوعہ میںچھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو دھوکے سے شہید کردیا گیا ۔ جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںڈوگرہ راج او ر بھارت سے آزادی کی تحریک 1931ء سے جاری ہے ۔1989ء میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد انتفادہ اول میںشدت کے بعد اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا گیا ۔ آٹھ ہزار سے زائد کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے شہید کرکے گمنام قبروں میں دفن کیا گیا۔ دس ہزار سے زائد کو لاپتہ کردیا گیا ۔بارہ ہزار سے زائد خواتین کو نیم بیوہ کردیا گیا ۔ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے یتیم ہوئے ۔ بیس ہزار سے زائد عفت ماآب خواتین کی عزتین لوٹ لی گئی۔ ایک لاکھ سے زائد گھر ،کاروباری مراکز بارود سے تباہ کردئے گئے ۔بھارتی ریاستی دہشتگردی اور انسانیت سوز مظالم نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مزیدطاقتور بنایا ۔ 
آٹھ جولائی2016ء کو شہید برھان مظفر وانی کی شہادت نے تحریک کو ایک نئی قوت بخشی اور انتفادہ دوئم کا آغازہوا ۔ قابض بھارتیوں نے پرامن تحریک آزادی اور حریت کانفرنس کی تمام قیادت کو گھروں اور جیلوں میںقید کردیا ۔کشمیری نوجوانوں نے بزرگوں کی رہنمائی میں بھارتیوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا ۔ اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاونی کے قابض فوجی شکست سے دوچار ہوگئے ۔  بھارت نے شیخ عبداللہ ،بخشی غلام محمد ، مفتی سعید ، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے بعد محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومتوں کو ٹشو کی طرح استعمال کیا ۔  2018ء میں محبوبہ مفتی کی حکومت برطرف کرکے آٹھویں مرتبہ گورنر راج نافذ کیا۔ جس کا مقصد تحریک آزادی کو کچلنا ۔ بھارتی آئین سے دفعہ 370اور 35Aختم کرنا تاکہ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرکے یہاں آبادی کا تناسب تبدیل کیاجاسکے ۔ 
پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی ،سیاسی ،اور سفارتی حمائت جاری رکھی۔ پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی مسئلہ کشمیر حل کروانے میںثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست اور ثالث بننے کے بیان نے پورے بھارت میں آگ لگا دی۔ بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وزیر خارجہ جے شنکراور وزیر داخلہ امیت شاہ نے جھوٹ پہ جھوٹ بولے کہ وزیر اعظم مودی نے ایساکوئی بیان نہیںدیا ۔ اسی دوران امریکی صدر نے دوبارہ اپنے بیان تائید میں دوسر ابیان دیا۔ 
ان بیانات کے بعد بھارتی حکومت اور فوج حواس کھو گئی ۔ ان کاسات دھائیوں سے کیا گیا پروپیگنڈہ جھوٹ ثابت ہوا ۔ یہ بھی کہ سانحہ چھٹی سنگھ پورہ ، سمجھوتہ ایکسپریس ،بھارتی پارلیمنٹ ،ممبئی اور پلوامہ حملہ،خود بھارتی حکومت اور ایجنسیوںنے کروایا ۔ 
امریکہ صدر کے دوسرے بیان کے بعد بھی نریندرا مودی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ بھارتی انتہا پسند حکومت کشمیریوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے جارہی ہے ۔ بھارتی ایجنسیوں اور امیت شاہ کے ، پلوامہ حملے کی طرح جس میں  340سے زائد دلت اور چند سکھ فوجی مروائے گئے ۔ان میں ایک بھی برہمن نہ تھا ۔ بھارت اپنی کسی سیاسی لیڈر ،یا اہم وزیریا گورنر کو قتل کرنے جیسا کوئی قدم اٹھا سکتا ہے یا کوئی ایسا حملہ جسے پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرسکے ۔ یہ حملہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے ۔ جس کا سارا الزام پاکستان پر لگا یاجائے گا۔ ان مکروہ مقاصد کی تکمیل کیلئے بھارت نے ریاست میں جنگی اور خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔
مقبوضہ کشمیر پولیس کے تما م مسلمان سپاہیوں اور عہدیداروں سے اسلحہ واپس لے لیا گیا ہے ۔اور تھانوں میں سی آر پی ایف عینات کردی گئی ہے ۔ پہلے سے موجود آٹھ لاکھ سے زائد سکیورٹی فورسز کے علاوہ 38ہزار فوجی کشمیر میں اتار دیئے گیے ہیں ۔ تمام ہوائی اڈوں پر بھارتی ائر فورس مکمل تیاری حالت میں موجود ہے۔
(جاری ہے)
لائن آف کنٹرول پر اضافی فوج تعینات کرکے 30اور 31جولائی کی رات ، وادی نیلم کی سول آبادی پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا ۔ جس سے ایک چار سالہ بچے سے سمیت چار شہری شہید اور گیا رہ زخمی ہوئے ۔ درجنوں گھر تباہ ہوئے ۔
کلبھوشن کیس میںویانا کنونشن کی دھائی دینے والے بھارت نے کلسٹر بموں کا استعمال کرکے جنیوا کنونشن کی دھجیاںاڑائی۔بھارت کا یہ قدم ،انسانی حقوق ، عالمی قوانین اور جنیوا کنوشن کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ اس بارود کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے ۔  بھارتی ائرفورس اوانتی پور ، لیہ ، سیاچن گلیشئر ، اودھم پور ،اور سرینگر کے ہوائی اڈوں پر جنگی مشقیں کررہی ہے اور کسی بھی لمحے آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملہ کیلئے موجود ہے جس کے جواب میں پاکستا ن کسی بھی جارحیت کاجواب دینے کیلئے وقت کا انتظار کر رہاہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی گورنر نے امرناتھ یاترا کرنے والوں کو فوراکشمیر چھوڑ دینے کا حکم جاری کیاہے ۔ عوام کو چالیس دن کا راشن اکٹھا کرنے کا کہا گیا ہے ۔ بھارت میں موجود کشمیری طالب علموںکو واپس جانے کا کہہ دیا گیاہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں ۔ 
 بھارتی میڈیااور بی جے پی  جنگ جیسے اقدامات کررہے ہیں۔قابض بھارتی فوج کا منصوبہ یہ ہے ،  جونہی کٹھ پتلی بھارتی سپریم کورٹ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ آئے گا ۔کشمیر ی علم بغاوت (آزادی کا اعلان)کردینگے ۔اور بھارتی فوج 1947ء کی طرح لاکھوں کشمیریوں کو شہید کردے گی ۔ اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں سخت سنسر نافذکردیا گیا ہے ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون پر پابندی ہے ۔ بھارتی قومی اور بین الاقوامی مواصلاتی رابطے مکمل ختم کردے گا۔ تاکہ اس کے مظالم کی کوئی خبر کشمیر سے باہر نہ جاسکے ۔ بھارتی عدالتیںجوبھارتی دہشت گردی کا محافظ دستہ ہیں۔ جنہوں نے مقبول بٹ اور افضل گورو کو ثبوت نہ ہونے کے باوجودشہید کردیا ۔ان میں ایک بھارتی سپریم کورٹ کے ججوںسے بھارتی آئین سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے دفعہ 370اور 35Aختم کرنے کا حکم لیا جائے گا ۔جس کے بعد چند مہینوںکے اندر مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض فوج کی مدد سے ہندو آبادکاری سے آبادی کا تناسب تبدیل کردیا جائے گا۔ بھارتی جنگی جنوں کے مکروہ مقاصد یہ ہیں ۔ 27فروری کی شکست کی خفت مٹانے کیلئے پاکستان کا نقصان کرنا ۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوںکی اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنا ۔1947ء کی طرح کشمیریوں کا قتل عام کرنا ۔اور کشمیر کو تین حصوںجموں ،وادی کشمیر ، لداخ ،لیہ میں تقسیم کرنا ۔ 
بھارت کا ایک مقصد پاکستان میں اپنے ہمدردوں کی کرپشن اور جرائم کے عدالتی کیسوں پر دبائو کم کروانا بھی ہوسکتا ہے جنہوںنے کٹھ پتلی کشمیرکمیٹیوںاور، اوفا جیسے معاہدوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی بنیاد رکھی۔ اور عملی طور پر بھارت کو سپر پاور تسلیم کیا ۔ لائن آف کنٹرول پر  حالات ایک چنگاری کے منتظر ہیں ۔ بھارتی اپنی قومی اور بین الاقوامی خفت مٹانے اور خود کو سپر پاور ثابت کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ ان کا میڈیا ان کا بھر پور ساتھ دے رہا ہیجبکہ پاکستانی میڈیا کا ایک بڑاحصہ جو ہمیشہ بھارتیوں کے گیت گاتا ہے وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ پاکستانی سیاستدانوں کی وہ اکثریت جو اقتدار سے محرومی کے غم میں نڈھال ہے۔انہیں نہ مسئلہ کشمیر سے دلچسپی ہے ۔ نہ پاکستانی سلامتی سے بلکہ وہ ان حالات میںبھارت کی زبان بولتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کررہے ہیں۔ کشمیر کمیٹی سوئی ہوئی ہے ۔ وزارت خارجہ جسے جنگی بنیادوں پر کلسٹر بموں اور ممکنہ اقدامات اور جارحیت سے آگاہ کرنا چاہیے ،وہ بیانات تک محدود ہے ۔ بی بی سی اور سی این این کے ساتھ ساتھ ، بین الاقوامی میڈیا بھارت کے کلسٹر بموں کے استعمال اورشہادتوں پر خاموش ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد میںموجود سفیروں کو بلا کر بھارتی جارحیت پر بریف کیا جائے  بین الاقوامی میڈیا کوشہداء  تک رسائی اور متاثرہ علاقے تک لیجایا جائے اور انہیں بریف کیا جائے ۔سنگین صورت حال میںڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے کہ ،کشمیری ہمارے دل کے قریب ہیں ۔کشمیر کی آزادی ایک حقیقت ہے جو انہیں جلد نصیب ہوگی۔ہم ہر حال میںانکا ساتھ دیںگے ۔  
 پاکستانی قوم اور ذمہ داران کو سیاچن گلیشئرپر بھارتی قبضے اور سندھ کے ضلع ٹھٹھہ پر پرواز کرتے ہوئے اورین طیارے کی تباہی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ بھارت کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے لیکن افسوس پاکستانی سیاستدان اور حکمران ، خاموش ہیں ۔ ممکنہ بھارتی جارحیت کے خلاف جس تیزی سے اور ہنگامی  اقدامات کرنے چاہیںوہ نظر نہیںآرہے ۔ پاکستانی وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ یہ معاملہ فوری طورپر اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل میںاٹھائیتاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کسی بڑے سانحے سے بچایا جاسکے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے موجودہ اور سابقہ تجربہ کار اور ماہر سفارتکاروں سے مشورہ کرکے فوری طورپر سکیورٹی کونسل سے رجوع کرنا ہوگا ۔ حالات بہت ہی سنجیدہ ہیں۔ذرا سی سستی بہت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے ۔ فیصلہ سازوں کیلئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ۔اسے ضائع نہ کریں ۔اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں اور پاکستان کی مدد فرماوے ۔آمین



 

تازہ ترین خبریں