06:37 am
چوروں کے ملک میں فرشتوں کی حکومت؟

چوروں کے ملک میں فرشتوں کی حکومت؟

06:37 am

قوم شکر کرے کہ اس جدید دور اور نئے پاکستان میں روٹی اور نان کی قیمتیں پرانے پاکستان والی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے
قوم شکر کرے کہ اس جدید دور اور نئے پاکستان میں روٹی اور نان کی قیمتیں پرانے پاکستان والی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس بات کی فکر بھی کرے کہ نئے پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کرکے آئی ایم ایف کو بھی خوش کر دیا گیا ہے‘ عمران خان حکومت کے دل میں عوام کا جتنا درد ہے اس کا اندازہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے‘ بڑی عید سے چند دن پہلے پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومت نے عوام کو عید کا جو تحفہ عطا کیا ہے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ’’تبدیلی‘‘ کی کوکھ سے نکلنے والی مہنگائی کے اس تحفے کو بھی ہنسی‘ خوشی قبول کرلے‘ کیونکہ 
محبت کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے
رونا اس کی قسمت میں صبح و شام ہوتا ہے
ورلڈ کپ کے ہیرو نے اپنی حکومت کے پہلے سال ہی میں عوام کو مہنگائی کے جو زخم دئیے ہیں‘ ان زخموں نے عوام کو بے حال کر دیا ہے‘ لیکن عوام کو ورلڈ کپ کے ہیرو سے کی جانے والی محبت کا ذائقہ تو ابھی چکھنا ہے‘ وہ لڈیاں‘ دھمالیں‘ مخلوط ڈانس‘ ’’روک سکو تو روک لو‘‘ کی دھنوں پر بے خود ہو کر جھومنا‘ صبر کہ ابھی تو ابتداء ہے...آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ عمران خان! آپ اس قوم کی قسمت بدلنا چاہتے ہو‘ آپ چاہتے ہو کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے بے روزگار یہاں آئیں تو انہیں روزگار ملے‘ شاید اسی لئے آپ پاکستان میں دن بدن مہنگائی کا ایکسلیٹر دباتے چلے جارہے ہو۔
عمران خان کو مرنے کی حد تک یقین ہے کہ پاکستانی عوام کے پاس بے تحاشا پیسہ ہے اور اس یقین کی بھی ایک وجہ ہے کیونکہ اس قوم نے شوکت خانم  ہسپتال ہو یا کوئی دوسرا نعرہ‘ عمران خان کے ہر نعرے اور دعوے کو کامیاب بنانے کے لئے اربوں روپے کی زکوٰۃ‘ صدقات‘ خیرات اور عطیات ان پر نچھاور کر ڈالے‘ سیکولر اور لبرلز میں واحد عمران خان تھے کہ جن کی رسائی براہ راست عوام کی جیبوں تک تھی۔
عوام میں بھی کسان‘ موچی‘مزدور‘ ریڑھی اور چھابڑی والے سے لے کر  بڑے تاجروں اور افسروں تک ہر کسی نے عمران خان کی پکار پر انہیں نوٹوں سے مالا مال کرنے میں کبھی بھی بخل سے کام نہ لیا‘ خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ عوام سے حاصل شدہ زکوٰۃ‘ خیرات اور عطیات وصولنے والے عمران خان ملک کے وزیراعظم بن گئے‘ عمران خان سے بہتر کون جاسکتا تھا کہ اس قوم کے پاس بڑی دولت ہے‘ اب عوام سے پیسے نکلوانے کے لئے وہ نت نئے حکومتی حربے استعمال کر رہے ہیں...جن پہ وہ پانامہ سے لے کر منی لانڈرنگ تک کے الزامات لگاتے ہیں۔ انہیں گرفتار کرنے کے باوجود ان کی جیبوں سے تو وہ ایک روپیہ نہیں نکلوا سکے‘ الٹا ان کی حفاظت پر مزید ہزاروں روپے لٹانے پر مجبور ہیں۔
ہاں البتہ عوام پہ ان کا زور چلتا ہے اور خوب چلتا ہے‘ کل تک جس عوام سے چندہ لے کر وہ شوکت خانم  ہسپتال بنانے کے بعد اسے چلایا کرتے تھے‘ آج اس کی عوام کے سر پر ایف بی آر کو ڈنڈے سمیت مسلط کر دیا ہے۔ عمران خان کو شوکت خانم  ہسپتال بنانے کے لئے جن بچوں اور بچیوں نے اپنے جیب خرچ بھی خیرات میں دے دئیے تھے آج وہ بچے اور بچیاں بڑے ہو کر عملی زندگی آچکے ہیں‘ وہ سب پوچھتے ہیں کہ ان کے عمران خان کو آخر یہ کس معاشی حکیم نے نسخہ بتایا کہ عوام کی جیبیں خالی کروا کر‘ عوام کے چلتے کاروبار ٹھپ کرکے عوام کے چولہے بجھا کر ملک کو ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ہے؟
تو بھی چور‘ میں بھی چور‘ وہ بھی چور‘ سارے چور...آئو ہم سب مل کر بولیں‘ چور‘ چور‘ چور‘  بندے ہی نہیں عورتیں بھی چور‘ عورتیں ہی نہیں اپوزیشن والوں کے بچے بھی چور‘ ہاں البتہ تحریک انصاف ’’فرشتوں‘‘ کی جماعت‘ اس میں شامل ہونے والا ہر شخص پاک‘ پوتر‘ عمران خان خود  صادق اور امین‘ جہانگیر ترین‘ فواد چوہدری‘ فردوس عاشق اعوان‘ حفیظ شیخ‘ علیم خان‘ حلیم شیخ ‘شیخ رشید‘ فیاض چوہان یہ سب کے سب آب زم زم سے نہائے ہوئے یعنی ان کا بیانیہ یہ ہے کہ چوروں کے ملک میں ’’فرشتوں‘‘ کی حکومت؟ ’’ فرشتوں‘‘ کی موجودہ حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح سے چاہے چوروں سے پیسے نکلوائے۔
’’فرشتے‘‘ مثالیں دیتے ہیں  امریکہ اور لندن کی کہ وہاں لوگ بہت ٹیکس دیتے ہیں‘ کوئی ان ’’فرشتوں‘‘ سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ لندن اور امریکہ میں کتنے عمران خان ہیں کہ جنہوں نے بنی گالہ جیسے محل بنا کر بھی زکوٰۃ اور خیرات مانگنا ترک نہیں کیا‘ چاہے پراجیکٹ کوئی بھی ہو۔
لندن اور امریکہ میں کتنے سرکاری ہسپتال ہیں کہ جن کے ایک ایک بیڈ پر دو‘ تین‘ تین مریض لیٹنے پر مجبور ہوتے ہیں؟ لندن اور امریکہ میں  کتنی مائیں ہیں کہ جو رکشوں اور سڑک کناروں پر بچے جنم دینے پر مجبور ہوتی ہیں؟ ٹیکس لیتے ہوئے تم امریکہ اور لندن کو یاد کرتے ہو اور عوام کو سہولتیں اور ریلیف دیتے ہوئے تمہیں غشی کے دورے پڑتے ہیں تو کیوں؟
 

تازہ ترین خبریں