06:40 am
 عدلیہ کا احترام کریں

 عدلیہ کا احترام کریں

06:40 am

دُنیا میں وہی قومیں اپنی منفرد شناخت اور امتیازی پہچان بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی عدالتوں کا احترام کرنے
دُنیا میں وہی قومیں اپنی منفرد شناخت اور امتیازی پہچان بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی عدالتوں کا احترام کرنے کو اپنا فرض اولین گردانتی ہیں۔ عدالتی نظام اُسی وقت کامیاب و کامران ٹھہرتا ہے جب قانون کا احترام اپنے نقطہ عروج کو پہنچ جاتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ احترام آدمیت ہو یا احترام عدلیہ۔ اِس کے لئے قومی تربیت کرنا لازم قرار پاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں احترام آدمیت کے لئے تربیت کرنے کا فقدان دیکھا جاتا ہے۔ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے آخری خطبہ حج کے موقع پر اقوام عالم کے سامنے جو عظیم الشان درس نبوت پیش کیا اُس میں احترام آدمیت کی غیر معمولی تاکید کی گئی۔ آج ہم غیر قوموں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے مگر حقیقت حال یہ ہے اُن قوموں نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشادات و فرمودات پر عمل پیرا ہو کر اپنے معاشروں کو مثالی بنا دیا ہے۔ آپ مغربی ممالک کا جائزہ لے لیں وہاں آپ کو دو قوانین بدرجہ اتم نظر آئیں آگے۔ ایک احترام آدمیت اور دوسرا احترام عدلیہ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں نہ تو آدمیت کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی عدلیہ کا احترام پورے ایمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 
دراصل یہ ایک معاشرتی المیہ ہے۔ تربیت کا عمل ماں کی آغوش سے شروع ہو جاتا ہے۔ پھر گھر کا صحن اِنسان کی دوسری تربیت گاہ بنتی ہے۔ اِس کے بعد مسجد، مدرسہ، گلی، محلہ گائوں، شہر اور پھر پوری ریاست ذمہ دار قرار پاتی ہے۔ آج کل گھر سے ہی تربیت کا فقدان دیکھنے میں ملتا ہے۔ ماں کی آغوش پہلی درسگاہ مانی جاتی ہے۔ جب تک ایک بچے کی تربیت کرنا ماں اپنا فریضہ نہیں سمجھے گی تب تک مسجد، مدرسہ، گلی، محلہ، گائوں، شہر اور ملک اُس بچے کی تربیت کرنے میں ناکام رہیں گے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک طے شدہ پروگرام کے تحت مائوں اور بچیوں کی تربیت ہونا بہت ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس تربیتی پروگرام کے لئے ایک طرف تو ریاست کو ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی تو دوسری طرف علماء کرام اور اساتدہ کو یہ بار عظیم اپنے شانوں پر اُٹھانا پڑے گا۔ 
گزشتہ 72 برسوں پر اگر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِسی تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہمارے ہاں بہت سے ادارے اپنی ساکھ مجروح کر بیٹھے ہیں، انہی اداروں میں ایک ادارہ پارلیمان بھی ہے۔ آپ پارلیمنٹ میں جانے والے ہنر مندانِ آئین و سیاست کے کرداروں پر نظر دوڑایئے، زرق برق لباس  میں ملبوس کئی سیاستدان آپ کو دنیا کے غلیظ ترین اِنسان نظر آئیں گے۔ آپ کبھی میاں محمد نوازشریف، آصف علی زرداری جیسے لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں۔ کرپشن میں لتھڑے ہوئے یہ لوگ معاشرے کو متعفن کرتے رہے اور ہم لوگ اِس تعفن پر پُھول چڑھانے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ چور، اُچکے، ڈاکو، رسہ گیر، فراڈیئے سیاست کی قبا اوڑھ کر ہمارے اوپر حکمرانی کرتے رہے۔ ہمارا پیسہ ترنوالہ سمجھ کر ہڑپ کرتے رہے اور ہم لوگ انہیں ووٹ دے دے کر بار بار اِن کے ہاتھوںمیں عنانِ اقتدار سونپتے رہے۔ انہوں نے ہم سے آدمیت کا احترام بھی چھین لیا اور عدلیہ کا احترام کرنا بھی ہمیں بُھلا دیا۔ انہی کے نقشِ قدم پر ہماری بیورو کریسی بھی چل نکلی۔ میں بڑے درد اور رنج کے ساتھ یہ بات طشت ازبام کرنا چاہتا ہوں کہ پنجاب میں ایل ڈی اے کے ادارے کو بھی ماضی میں نوچا گیا۔ وہاں پر بھی کرپشن کی دیوی راج کرتی رہی۔ کئی راجے، مہاراجے، اِس ادارے کی رِدا کی آبروریزی کرتے رہے۔ اب جا کر کہیں اِس میں بہتر لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور رفتہ رفتہ ہر ادارہ اپنی شناخت بحال کر رہا ہے۔ ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین  ایس ایم عمران ایک انتہائی قابل اور دیانتدار انسان ہیں۔ اُن کے زیر سایہ یقینا ایل ڈی اے کا ادارہ ترقی کے راستوں پر گامزن ہو گا۔ ڈی۔ جی۔ ایل ڈی اے  عثمان معظم  بھی ایک کُہنہ مشق اور فرض شناس آفیسر ہیں۔  ایس ایم عمران کے ساتھ اُن کی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ چل رہی ہے۔ مگر اِن دونوں مہربانوں سے میری اتنی گزارش ہے کہ آپ دونوں ایل ڈی اے افسران کو کم از کم یہ بات تو ضرور سمجھائیں کہ وہ عدلیہ اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کریں۔ اِس وقت سینکڑوں لوگ جو کہ ایل ڈی اے افسران کے ستائے ہوئے ہیں وہ حصول انصاف کے لئے عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایل ڈی اے کے کئی ایسے افسران کو جانتا ہوں جو برسرعام یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم ایک خود مختار ادارہ ہیں ہم کسی عدالت کے احکامات کو نہیں مانتے۔ 
ایک ہائوسنگ سوسائٹی کے مالکان نے ایل ڈی اے کے خلاف عدالت عالیہ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔ جب اُس ہائوسنگ سوسائٹی کے لیگل ایڈوائزر حکم امتناعی کی کاپی لے کر ایل ڈی اے کے ایک آفیسر کے پاس آئے تو اُس افسر نہ بڑے غرور کے ساتھ یہ کہا کہ ہم عدالتِ عالیہ کے حکم امتناعی کو نہیں مانتے۔   لیگل ایڈوائزر مجھے ایک دِن ہائی کورٹ میںملا۔ میرے پوچھنے پر اُس نے بتلایا کہ میں اُس آفیسر کے خلاف توہین عدالت کا کیس فائل کرنے لگا ہوں۔ مجھے بہت تعجب ہوا اِسی تعجب کی بنا پر مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت پیش آئی اور میں اپنی انہی سطور میں  ایس ایم عمران اور  ڈی جی ایل ڈی اے سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ایل ڈی اے کے مغرور افسران کو یہ ہدایت جاری کریں کہ وہ آدمیت کا احترام تو نہیں کر سکتے کیونکہ اُن کی تربیت ہی ایسی نہیں ہوئی کم از کم عدالتوںکا احترام تو کرنا سیکھ لیں۔ جن لوگوں کے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جب تک عدالتیں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتیں تب تک وہ بھی اِن فیصلوں کا احترام کریں اور اُن لوگوں کو تختہ مشق ستم نہ بنائیں جو لوگ ایل ڈی اے کے خلاف عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں۔ 
اگر ایل ڈی اے کے بعض ناعاقبت اندیش افسران اِسی روش پر قائم رہے تو ایک دِن اُنہیں اپنے کئے کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اوربدنام ایل ڈی اے کا ادارہ ہو گا۔ جب ادارے بدنام ہوتے ہیں تو عوام کا اعتبار ریاست پر سے اُٹھ جاتا ہے۔ اور جب عوام کا اعتبار ریاست پر سے اُٹھ جائے تو پھر اُن کی تقدیر مرگِ مفاجات کا تقاضا کرتی ہے۔ ایل ڈی اے تو پہلے دِن سے ہی بدنام ترین ادارہ رہ چُکا ہے۔ اب جب کہ نئی حکومت نے نیک نام لوگوں کو اِس ادارے کی سربراہی سونپی ہے تو ایسے میں یہ اُن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایل ڈی اے افسران کی تربیت کرنا بھی اپنا فرض سمجھیں۔ ادارے ریاست اور رعایا کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اب بصیرت اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ وائس چیئرمین اور ڈی جی ایل ڈی اے  افسران کے لئے یہ پالیسی جاری کریں کہ جو متاثرین عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں اُن سائلوں کی دادرسی اِس انداز میں کی جائے کہ وہ خود جا کر عدالتوں میں یہ بیان دیں کہ اب اُنہیں ایل ڈی اے سے کوئی شکائت نہیں ہے۔ نہ کہ یہ ہو کہ افسران کے ستائے ہوئے لوگ جب توہین عدالت کا کیس کریں تو اعلیٰ افسران کو اُن کی جگہ قربانی دینا پڑے۔
 

تازہ ترین خبریں