07:27 am
 کشمیر ، بڑی جنگ کا آغاز

 کشمیر ، بڑی جنگ کا آغاز

07:27 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

لائن آف کنٹرول پر اضافی فوج تعینات کرکے 30اور 31جولائی کی رات ، وادی نیلم کی سول آبادی پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا ۔ جس سے ایک چار سالہ بچے سے سمیت چار شہری شہید اور گیا رہ زخمی ہوئے ۔ درجنوں گھر تباہ ہوئے ۔
 
کلبھوشن کیس میںویانا کنونشن کی دھائی دینے والے بھارت نے کلسٹر بموں کا استعمال کرکے جنیوا کنونشن کی دھجیاںاڑائی۔بھارت کا یہ قدم ،انسانی حقوق ، عالمی قوانین اور جنیوا کنوشن کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ اس بارود کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے ۔  بھارتی ائرفورس اوانتی پور ، لیہ ، سیاچن گلیشئر ، اودھم پور ،اور سرینگر کے ہوائی اڈوں پر جنگی مشقیں کررہی ہے اور کسی بھی لمحے آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملہ کیلئے موجود ہے جس کے جواب میں پاکستا ن کسی بھی جارحیت کاجواب دینے کیلئے وقت کا انتظار کر رہاہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی گورنر نے امرناتھ یاترا کرنے والوں کو فوراکشمیر چھوڑ دینے کا حکم جاری کیاہے ۔ عوام کو چالیس دن کا راشن اکٹھا کرنے کا کہا گیا ہے ۔ بھارت میں موجود کشمیری طالب علموںکو واپس جانے کا کہہ دیا گیاہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں ۔ 
 بھارتی میڈیااور بی جے پی  جنگ جیسے اقدامات کررہے ہیں۔اب کشمیر ی علم بغاوت (آزادی کا اعلان)کردینگے ۔اور بھارتی فوج 1947ء کی طرح لاکھوں کشمیریوں کو شہید کردے گی ۔ اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں سخت سنسر نافذکردیا گیا ہے ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون پر پابندی ہے ۔ بھارتی قومی اور بین الاقوامی مواصلاتی رابطے مکمل ختم کردے گا۔ تاکہ اس کے مظالم کی کوئی خبر کشمیر سے باہر نہ جاسکے ۔ بھارتی عدالتیںجوبھارتی دہشت گردی کا محافظ دستہ ہیں۔ جنہوں نے مقبول بٹ اور افضل گورو کو ثبوت نہ ہونے کے باوجودشہید کردیا، چند مہینوںکے اندر مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض فوج کی مدد سے ہندو آبادکاری سے آبادی کا تناسب تبدیل کردیا جائے گا۔ بھارتی جنگی جنوں کے مکروہ مقاصد یہ ہیں ۔ 27فروری کی شکست کی خفت مٹانے کیلئے پاکستان کا نقصان کرنا ۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوںکی اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنا ۔1947ء کی طرح کشمیریوں کا قتل عام کرنا ۔اور کشمیر کو تین حصوںجموں ،وادی کشمیر ، لداخ ،لیہ میں تقسیم کرنا ۔ 
بھارت کا ایک مقصد پاکستان میں اپنے ہمدردوں کی کرپشن اور جرائم کے عدالتی کیسوں پر دبائو کم کروانا بھی ہوسکتا ہے جنہوںنے کٹھ پتلی کشمیرکمیٹیوںاور، اوفا جیسے معاہدوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی بنیاد رکھی۔ اور عملی طور پر بھارت کو سپر پاور تسلیم کیا ۔ لائن آف کنٹرول پر حالات ایک چنگاری کے منتظر ہیں ۔ بھارتی اپنی قومی اور بین الاقوامی خفت مٹانے اور خود کو سپر پاور ثابت کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ ان کا میڈیا ان کا بھر پور ساتھ دے رہا ہیجبکہ پاکستانی میڈیا کا ایک بڑاحصہ جو ہمیشہ بھارتیوں کے گیت گاتا ہے وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ پاکستانی سیاستدانوں کی وہ اکثریت جو اقتدار سے محرومی کے غم میں نڈھال ہے۔انہیں نہ مسئلہ کشمیر سے دلچسپی ہے ۔ نہ پاکستانی سلامتی سے بلکہ وہ ان حالات میںبھارت کی زبان بولتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کررہے ہیں۔ کشمیر کمیٹی سوئی ہوئی ہے ۔ وزارت خارجہ جسے جنگی بنیادوں پر کلسٹر بموں اور ممکنہ اقدامات اور جارحیت سے آگاہ کرنا چاہیے ،وہ بیانات تک محدود ہے ۔ بی بی سی اور سی این این کے ساتھ ساتھ ، بین الاقوامی میڈیا بھارت کے کلسٹر بموں کے استعمال اورشہادتوں پر خاموش ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد میںموجود سفیروں کو بلا کر بھارتی جارحیت پر بریف کیا جائے اوربین الاقوامی میڈیا کوشہداء  تک رسائی اور متاثرہ علاقے تک لیجایا جائے اور انہیں بریف کیا جائے ۔سنگین صورت حال میںڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے کہ ،کشمیری ہمارے دل کے قریب ہیں ۔کشمیر کی آزادی ایک حقیقت ہے جو انہیں جلد نصیب ہوگی۔ہم ہر حال میںانکا ساتھ دیںگے ۔  
 پاکستانی قوم اور ذمہ داران کو سیاچن گلیشئرپر بھارتی قبضے اور سندھ کے ضلع ٹھٹھہ پر پرواز کرتے ہوئے اورین طیارے کی تباہی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ بھارت کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے لیکن افسوس پاکستانی سیاستدان اور حکمران ، خاموش ہیں ۔ ممکنہ بھارتی جارحیت کے خلاف جس تیزی سے اور ہنگامی  اقدامات کرنے چاہیںوہ نظر نہیںآرہے ۔ پاکستانی وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ یہ معاملہ فوری طورپر اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل میںاٹھائے تاکہ بروقت اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کسی بڑے سانحے سے بچایا جاسکے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے موجودہ اور سابقہ تجربہ کار اور ماہر سفارتکاروں سے مشورہ کرکے فوری طورپر سکیورٹی کونسل سے رجوع کرنا ہوگا ۔ حالات بہت ہی سنجیدہ ہیں۔ذرا سی سستی بہت بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے ۔ فیصلہ سازوں کیلئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ۔اسے ضائع نہ کریں ۔اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں اور پاکستان کی مدد فرمائے ۔آمین
 
 

تازہ ترین خبریں