07:33 am
جنوبی ایشیاء میںنیا  اسرائیل؟

جنوبی ایشیاء میںنیا  اسرائیل؟

07:33 am

کشمیر کے مقتل میں ہلچل مچی ہے۔ سکون تو وہاں کبھی تھا ہی نہیں لیکن دلی سرکار کے حالیہ اقدامات کسی بڑے سانحے کا اعلان کر رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے جرم میں بھارتی ریاست کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا ۔ ایسی ہی ایک رپورٹ گزشتہ برس بھی جاری ہوئی۔ برطانوی پارلیمانی کمیشن کے دریافت کردہ حقائق کا لب لباب بھی یہی ہے کہ بھارتی ریاستی اداروں نے مقبوضہ کشمیر کو ایسا مقتل بنا دیا ہے جہاں سیکورٹی کے خود تشکیل کردہ جعلی مفروضوں کی بنیاد پر مقامی باشندوں کی نسل کشی جاری ہے۔ کشمیر بھارت کے گلے میں ایسی ہڈی بن کے پھنسا ہے کہ جو نہ تو نگلی جا سکتی ہے اور نہ ہی اُگلی جا سکتی ہے۔ اگر آزاد کر دیا جائے تو پھر چھ مزید ریاستیں بھارت کے پھندے سے رہائی مانگنے کے لیے زیادہ شدت سے میدان میں اتریں گی۔ 
 
آسام میں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر نے اور انہیں واپس بنگلہ دیش دھکیلنے کا منصوبہ شدت پکڑ چکا ہے۔ امیت شا نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ہم آسام کو کسی قیمت پر بھی دوسرا کشمیر نہیں بننے دیں گے۔ کشمیر کو بھارتی ریاست میں جذب کرنا آسان نہیں تھا لہٰذا جعلی الحاق کی دستاویز کے ساتھ ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ذریعے آرٹیکل 370 کا آئینی ٹانکا لگا کر دفاع ، خارجہ امور اور مواصلات کا اختیار بھارت کو تفویض کر دیا گیا جبکہ دیگر امور میں ریاست کشمیر کی خود مختاری تسلیم کی گئی ۔ بھارتی آئین میں ریاست کشمیر کا یہ مخصوص تشخص ہمیشہ دلی سرکار کے لیے باعث تکلیف رہا ہے۔ اس آرٹیکل کو غیر موثر کرنے کے لیے عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا ۔ بھارتی سازشوں سے بتدریج کمزور ہونے کے باوجود بھی یہ آرٹیکل ریاست کشمیر کے جداگانہ تشخص کا اعلان کرتا ہے ۔ بی جے پی بطور جماعت اور ہندوتوا نظرئیے کے بانی ہمیشہ سے کشمیر کے جداگانہ تشخص ا ور خود مختاری کے منکر رہے ہیں ۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 1 کے تحت آرٹیکل 370 کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتے ہوئے درج بالا تین امور کے لیے بھارتی ریاست سے جوڑتا تھا ۔ اس آرٹیکل کو ختم کرنے کی خواہش بی جے پی کی قیادت کے دماغوں میں مچل رہی تھی جس نے بالآخر حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔ 
مسئلہ یہ ہے کہ آرٹیکل 370 ختم ہوتے ہی بھارتی ریاست سے کشمیر کا کمزور سا آئینی بندوبست یا دکھاوے کا تعلق بھی ختم ہوگیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیری بھارتی ریاست سے ہر لحاظ سے آزاد تصور کیے جائیں گے‘ چنانچہ اس آرٹیکل سے صرف نظر کرتے ہوئے بی جے پی کی متعصب قیادت نے اسرائیلی مشوروں سے یہ منصوبہ تیار کیا کہ جموں کے علاقے سے نقل مکانی کر جانے والے ہندو پنڈتوں کو واپس لانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے دیگر علاقوں سے غیر کشمیری ہندوئوں کو بڑی تعداد میں جموں میں آباد کر کےمسلم آبادی کے مقابل ہندوئوں کی جعلی عددی اکثریت قائم کی جائے جس کی راہ ہموار کرلی گئی ہے ۔ اس خطرناک منصوبے کی تکمیل میں کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کا ہی تشکیل کردہ آرٹیکل 35A چٹان کی طرح حائل تھا ۔
 اس آرٹیکل کے مطابق کوئی غیر کشمیر ی بھارتی شہری کشمیر میں نہ تو جائیداد کی ملکیت رکھ سکتا ہے اور نہ ہی مستقل طور پر یہاں آباد ہو سکتا ہے ۔اب ایسا نہیں ہے ۔ بی جے پی کی نظریاتی قیادت آرٹیکل 35A کو ختم کر کے جموں میں بڑے پیمانے پر ہندو آباد کاری کرنا چاہتی تھی ۔جموں میں ممکنہ ہندو آباد کاری کا انداز فلسطین میں یہودی آباد کاری سے مماثل ہو گا ۔ 
بھارت اسرائیل دفاعی اشتراک کی طویل تاریخ ہے ۔ ہنود و یہود کے اشتراک سے جنم لینے والے اس منصوبے کے تحت آرٹیکل 35A کو منسوخ کرنے کا فیصلہ ہوچکاہے۔ اس اقدام کے خلاف پیدا ہونے والی شدید مزاحمت کو بھانپتے ہوئے دلی سرکار نے مز ید ہزاروں ہزار فوجی کشمیر میں پہلے ہی تعینات کر دئیےتھے۔ بھارتی یاتریوں اور سیاحوں کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا ،کشمیری عوام کو راشن سمیت دیگر اشیاء ذخیرہ کرنے کی وارننگ جاری کیگئیں اب کرفیو کگایا گیا ہے دنیا سے کشمیریوں کے تمام رابطے ختم کیے گئے ہیں اور معروف رہنمائوں کو پس زنداں کردیا گیا ہے یہ ہے بھارت کا اصل چہرہ جوکہ اس نے نام نہاد جمہوریت کی آڑ میںچھپا رکھا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر شدید خوف و ہراس کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ مسلم دشمن سوچ کے حامل بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے ببانگ دہل کہا ہے کہ آرٹیکل تین سو ستر اور پینتیس اے عارضی بندوبست تھا اور اب ان کا خاتمہ لازم ہو چکا ہے ۔ امیت شا کے آدھے سچ کا جواب پاکستان کو پوری قوت سے سفارتی محاذ پر دینا چاہیے کہ یہ عارضی بندوبست اس لیے کیا گیا تھا کہ بھارتی ریاست پاک ہند تقسیم کے بعد فی الفور استصواب رائے کروا کے کشمیر کا بندوبست کشمیر یو ں کو سونپنے کی پابند تھی ۔ اس عارضی بندوبست کو ستر برس تک بندوقوں اور سنگینوں کی مدد سے کشمیر پر مسلط کر کے بھارت نے اخلاقیات اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر سری ناتھ راگھون نے حال ہی میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اس موضوع پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔کشمیر کی خود مختاری پر اس بھارتی حملے کے خلاف اب تصور سے زیادہ شدید مزاحمت متوقع ہے۔ بھارت اسرائیلی ماڈل کے تحت کشمیریوں کو طاقت اور تشدد سے کچلنے کے لیے تیار بیٹھا ہے ۔ اضافی فوج کی تعیناتی اور ایل او سی پر سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ 
ہماری حکومت اور حزب اختلاف سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کے کشمیریوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے پوری قوت سے آواز اٹھائے۔ پوری سوچ بچار کے بعد سلامتی کونسل میں کشمیر کی جداگانہ حیثیت پر بھارتی یلغار اور فوج کشی کا معاملہلے کر جائے ۔ امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش دہرائے جانے پر خوشی منانے کے بجائے مقبوضہ کشمیر سے اٹھنے والی آہ و فغاں پر کان دھرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کا فطری وکیل بھی ہے اور معاون بھی۔ فیصلہ ساز جان لیں کہ کشمیر کے لیے ہمیں اپنے زور بازو اور نصرت خداوندی پر ہی بھروسہ کرنا ہوگا ۔
 یروشلم پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تقویت دینے کے لیے امریکی سفارت خانہ کھلوا نے والے صدر امریکہ کی ثالثی کی پیشکش پر محتاط رویہ اختیار کیا جائے۔ اسرائیل کشمیر میں بھارت کا معاون بھی ہے اور اتالیق بھی! اسرائیل اب افغانستان میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ کی پالیسی سازی میں اثر و رسوخ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ریاست کے صدر ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ اعتماد و گرمجوشی کا گہرا رشتہ بھی قائم ہے۔ ہمیں آج ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو خاکم بدہن ! کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بھارت کے ہاتھوں جنوبی ایشیا کا اسرائیل قائم ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔ 

 

تازہ ترین خبریں