07:36 am
کشمیر میں ہائی الرٹ

کشمیر میں ہائی الرٹ

07:36 am

فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیںخفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے بتایا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوئوں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے ۔ گذشتہ ہفتے ریاست میں نیم فوجی دستوں کی 100کمپنیاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
 
(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت اضافی فوج کی تعیناتی کو داخلی سلامتی کی صورتحال کے جائزے، تربیت کی ضروریات، جوانوں کا تبادلہ اور دیگر وجوہات بیان کرتا ہے۔ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے گزشتہ رات دیر گئے بھارت نواز  سیاسی لیڈروں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی جس میں محبوبہ مفتی،ڈاکٹر شاہ فیصل،سجاد لون اور عمران انصاری شامل تھے۔ وفد نے سرکار کی اس ایڈ وائیزری سے پیدا شدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جس میں یاتریوں اور سیاحوں سے کہا گیا کہ وہ فوری طور وادی سے نکل جائیں۔مگر یہ معاملہ صرف یاتریوں اور سیاحوں تک  ہی محدود نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں زیر تعلیم غیر ریاستی طلباء و طالبات کو بھی وادی سے فوری نکل جانے کا کہا گیا ہے۔ سرینگر کی زرعی یونیورسٹی شالیمار باغ کے طلباء کا ایک وفد کرگل کے دورہ پر تھا۔ ان طلباء سے کرگل پولیس نے فوری طور پر واپس جانے کی وارننگ دی۔ جبکہ بھارتی فوج چھائونیوں سے نکل کر وادی چناب کے بڑے شہروں ڈوڈہ، بھدرواہ، کشتواڑ، رام بن، بانہال کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔مزید فوج کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ کی طرف بھی پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھی گئی ہے۔ فوجی نقل و حرکت میں یہ اچانک اضافہ عوام کی تشویش میں اضافے کی وجہ بنا ہے۔ یہ اندازہ لگائے گئے کہ بھارت کشمیر میں کوئی  خطرناک کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ یہ جنگی ماحول ہے۔ زمینی اور فضائی فوج کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بی جے پی ہمیشہ سے دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آکر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دے گی جو کہ اس نے کر دیاہے۔ بی جے پی کا یہ بھی ایجنڈا ہے کہ جموں اور لداخ کو وادی کشمیر سے کاٹ دیا جائے۔ جموں کو الگ ریاست بنانا اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دینا بھی بھاجپا کا مشن ہے۔ آج جو خوف  و دہشت کا ماحو ل پیدا کیا گیا ، اس کا مقصد یہ بتا یا گیا کہ یاتریوں پر حملہ ہونے والا ہے‘ مگر دیگر کو وادی سے چلے جانے کا کیوں کہا گیا۔ بھارت پر وادی کشمیر میں نفسیاتی جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ اگر مرکز نے ریاست کو حاصل خصوصی اختیارات کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئینگے۔ 
گزشتہ ستر برسوں میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا جب یاتریوں اور سیاحوں کو گاڑیوں میں بھر کر واپس اپنے اپنے گھروں کی اور روانہ کیا گیا، سیاحوں اور یاتریوں کو فوری طورپر کشمیر خالی کرنے کے احکامات صادر کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ بھارتی حکومت کچھ کرنے والی ہے۔ جو لوگ کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت کی باتیں کر رہے ہیںوہ  وادی کشمیر میں خوف اور ڈر کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ بھارت کو  وادی میں مقیم سیاحوں اور یاتریوںکی فکر ہے مگر کشمیریوں کی کوئی فکر نہیں۔ لاکھوں کی تعداد میںپہلے سے ہی فوج تعینات ہے، مزید اہلکاروں کی تعیناتی کا کیا مقصد ہے۔ بھارت نے کشمیر کے تشخص اور خصوصی اختیارات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دیا ہے۔ لوگ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اچانک بھارت کو کیوں کشمیر میں مزید ہزاروں  فوجی دستے تعینات کرنے کی ضرورت پڑگئی جبکہ اس وقت حالات نہ تو اس قدر تباہ کن  ہیں، نہ ہی کسی جگہ پتھرائو کی وار داتیں رونما ہورہی ہیں اور نہ ہی لوگ جلسے جلوسوں کی صورت میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ پھر کیوں یہاں اضافی دستوں کی تعیناتی کا اعلا ن کردیا گیا؟ ۔ اگر مقصد کسی بڑے آپریشن کی تیاری ہے یا بھارت کسی سرجیکل سٹرائیک کے لئے مہم جوئی کرنا چاہتا ہے۔  
مقبوضہ ریاست کے اعلیٰ پولیس حکام اور سیاسی رہنمائوں کے بیانات میں بھی تضاد نظر آتا ہے۔ لوگوں میں تشویش کا پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جب پولیس سربراہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ شمالی کشمیر میں بھر پور تعداد میں فورسز دستے تعینات نہیں ہیں، اسلئے بقول ان کے بھارت نے یہاں اضافی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد جب اے ڈی جی پی سے استفسار کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے یہاں تعینات بعض فورسز اہلکار ٹریننگ پر جارہے ہیں، اسلئے ان کی جگہیں پر کرنے کیلئے نئے فورسز دستے تعینات کئے جارہے ہیں۔ جب آئی جی سی آر پی ایف سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اضافی فورسز دستوں کی تعیناتی معمول کی بات ہے۔ ریاست میں بی جے پی کے سربراہ سے جب میڈیانے  استفسار کیاتو ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافی دستے الیکشن کیلئے لائے جارہے ہیں۔ریاست میں دور دور تک اسمبلی انتخابی عمل کی شروعات کا پتہ نہیں چل رہا ہے کیوںکہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے اس بارے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ۔ مقبوضہ وادی اور خاص طور پر شہروں میں جگہ جگہ فورسز کے نئے بنکرز تعمیر کئے جا رہے ہیں اور فورسز کی نقل وحرکت بڑھادی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اضافی دستوں کی تعیناتی نے عوام میں شک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔یہی نہیں بلکہ کشمیر کے حالات پر نظر گزر رکھنے اور جدو جہد آزادی کو کچلنے کے لئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی نارتھ بلاک میں 16سینئر آئی پی ایس اور آئی اے ایس آفیسران کی ٹیم مقرر کر دی ہے جو چوبیس گھنٹے کشمیر کے حالات پر نظر گزر رکھ رہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق تحریک آزادی کو کچلنے کی خاطر ان آفیسران کو خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اور مذکورہ سولہ آفیسران کے درمیان روزانہ کی بنیادوں پر میٹنگز منعقد ہو رہی ہیں۔ مذکورہ آفیسران مقبوضہ ریاست میں تعینات سیکورٹی فورسز کے آفیسران کے ساتھ بھی قریبی رابطے قائم کئے  ہیں۔ بھارتی  وزارت داخلہ میں قائم کشمیر سیل کو بھی پھر سے فعال کر دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم اور بھاجپا نے پورے ملک میں خوف و دہشت پھیلا دی ہے۔ وہ کشمیریوں کو بھی بندوق کی نوک پر خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر کشمیری پر عزم  اور کمر بستہ ہیں۔ دہلی کے آگے جھکنے کو مسترد کر رہے ہیں۔ دیگر حکمرانوں کی طرح نریندر مودی اینڈ کمپنی بھی صرف پاکستان پر الزامات لگا کر اپنے عوام کو گمراہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ دنیا کو بھی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا دھوکا دیا جا رہا ہے۔ جب کہ دو طرفہ مذاکرات بالکل ناکام ہو چکے ہیں۔ بھارتی پالیسی ساز اپنے عوام اور دنیا کو گمراہ نہ کریں،کشمیر میں مزید فوج داخل کرنے سے کشمیریوں کو ڈرایا نہیں جا سکتا۔ طاقت سے تحریک آزادی کو کچلنے میں بھارت کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ 


 

تازہ ترین خبریں