07:39 am
کشمیرپربھارت کا وار، خصوصی حیثیت ختم

کشمیرپربھارت کا وار، خصوصی حیثیت ختم

07:39 am

٭بھارت کی حکومت نے کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ راجیہ سبھا میں وزیرداخلہ امیت شاہ نے صدارتی آرڈی ننس پیش کر دیا شدید ہنگامہ آرائی…مقبوضہ کشمیر میں ’مارشل لا‘ اور پاکستان کا فوری ردعمل سخت انتباہO پوری وادی میں کرفیو، شہری گھروں میں بند، پوری ریاست میں ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، تعلیمی ادارے و امتحانات بند،جلسے جلوسوں پر پابندی، محبوبہ مفتی، سجاد لون اور عمر عبداللہ نظر بند…کنٹرول اور ورکنگ لائن پر طیارے، ٹینک، بھاری توپ خانہ Oبھارت سے الحاق ختم ہو گیا، محبوبہ مفتی O پاکستان کی قومی سلامتی کا ہنگامی اجلاس، بھارت کو سخت انتباہ، تمام سیاسی پارٹیو ںکا یک جہتی کا اعلان۔
 
٭بھارتی حکومت نے راجیہ سبھا میں باقاعدہ صدارتی آرڈی ننس پیش کر دیا ہے کہ آئین میں دی گئی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے اور آئین کی شق 35-A اور 370 کو کالعدم قرار دے دیا گیاہے۔ بھارتی وزیر داخلہ و حکمران پارٹی بی جے پی کے صدر امیت شا(ہندو) نے کابینہ کے اجلاس کے بعد راجیہ سبھا (سینٹ) میں خود یہ بل پیش کیا۔ اس پر شدید ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے اس اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا۔ کانگریس کے ایک مسلمان رکن اسمبلی عثمان مجید اور متعدد دوسرے کشمیری رہنما گرفتار کر لئے گئے۔ راجیہ سبھا کے ارکان اے ایم عارف، انند کمار شرما، امبیکاسونی بھوینشیور کالیتا نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مودی سرکار نے بیٹھے بٹھائے اچانک ملک بھر میں سخت خطرناک بحران پیدا کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کونصف رات کے وقت گھروں میں نظر بند کر دیا گیا جب کہ بہت سے حریت پسند کشمیری رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھارتی وزیرداخلہ نے بتایا ہے کہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ایک حصہ جموں اور وادی کشمیر دوسرا لداخ پر مشتمل ہو گا۔ کشمیر کی اپنی اسمبلی ہو گی مگر آئندہ اس کی ریاستی حیثیت ختم ہو جائے گی اور یہ بھارت کا ایک صوبہ بن جائے گا۔ لداخ مرکز کے تحت ہو گا۔ اس اقدام کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ آئندہ کشمیر میں غیر کشمیری خاص طور پر ہندو لوگ بھی املاک خرید کر اس کے شہری بن سکیں گے اور آزادانہ کاروبار کر سکیں گے۔ اس طرح کشمیر میں ہندو اکثریت میں آ سکیں گے۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت نے بہت خطرناک اقدام کیا ہے اس سے کشمیر کے علاوہ بھارت میں بھی شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
٭مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پاکستان کی حکومت نے جس فوری ردعمل کا اظہار کیا۔ میں اس پر حکومت کو مبارکباد دے رہا ہوں۔ ماضی میں کبھی اتنی تیز کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ فوری طور پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس جس میں تینوں فوجوں کے سربراہان اور آزاد کشمیر وگلگت کے وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے نمائندے اور وفاقی وزرا بھی شامل تھے۔ وزیراعظم عمران خا ن نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی سخت مذمت کی گئی اوار اسے انتباہ کیا گیا کہ اس نے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات کا سخت نوٹس لیا گیا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیر میں کنٹرول لائن پر بلکہ پاکستان کی سرحد پر بھی جدید ٹینک اور بھاری توپ خانہ بھیج دیا ہے اور فوج کی تعداد میں بھاری اضافہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خا ن نے دو ٹوک الفاظ میں کشمیری عوام کو اپنی حمائت کا یقین دلایا ہے اوربھارت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ ہوش میں رہے۔ خوش آئند بات کہ اپوزیشن رہنمائوں شہباز شریف، سراج الحق، بلاول زرداری اور ن لیگ کی خود بخود صدر مریم نواز نے بھارت کی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے اور پاکستان کی افواج کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ (مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی خاموش ہیں) یہ بات بھی خوش آئندہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر نے موجودہ صورتِ حال میں حکومت پاکستان پر مکمل اعتماد اور حمائت کا اعلان کیا ہے اور یہ کہ ایک خبر کے مطابق، کل 7 اگست کو وزیراعظم عمران خا ن مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یک جہتی کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں 14 اگست تک چھٹیاں ہیں، تاہم سیاسی پارٹیوں کی ریلیاں شروع ہو گئی ہیں۔
٭کچھ مزید باتیں مقبوضہ کشمیر کے بعض واقعات کی۔ جنوبی کشمیر میں ڈیڑھ ماہ سے جاری ’امرناتھ یاترا‘ اور جموں میں ہندوئوں کے سالانہ ’مایا‘ میلے کو اچانک بندکر کے باہر سے آنے والے تمام سیاحوں اور دوسرے افراد کو فوراً کشمیر سے چلے جانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ امرناتھ یاترا میں قافلوں کی شکل میں تین لاکھ 25 ہزار یاتری حصہ لے چکے تھے ابھی اور آ رہے تھے۔ اندازہ تھا کہ کم از کم ایک لاکھ افراد اور آئیں گے۔ کشمیرسے اچانک نکل جانے کے حکم پر بے حد افراتفری پھیل گئی۔ ہزاروں افراد سری نگر کے ہوائی اڈے پر اور جموں کے ریلوے سٹیشن پر جمع ہو گئے۔ ہوائی اڈے پر طیارے بہت کم تھے۔ وہاں سخت بحران پیدا ہو گیا۔ جموں کے ریلوے سٹیشن پر ٹرینیں بھی کھچا کھچ بھر گئیں۔ ان سارے اقدامات سے پوری ریاست میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ عوام کو کئی دن پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ وہ طویل عرصے کے لئے گھروں میں آٹا، دالیں، چینی، گھی کا ذخیرہ جمع کر لیں۔
٭اب کچھ گھر کی باتیں: سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن کی آپس میں تلخی شروع ہو گئی ہے۔ ن لیگ کے اہم رہنما خواجہ آصف نے کھلے الفاظ میں پیپلزپارٹی کی قیادت کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ کبھی ن لیگ کے ساتھ مخلص نہیں ہوئے، صرف اپنا ذاتی فائدہ سوچتے ہیں۔ خواجہ آصف کے جواب میں پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی سخت جواب آیا ہے۔ یوں دونوں پارٹیو ںکے ظاہری اتحاد میں آگے بڑھنے کی بجائے آپس میں ہی تو تو میں میں شرو ع ہو گئی ہے۔ دونوں پارٹیوںنے سینٹ کے واقعہ کے بارے میں الگ الگ اجلاس بلا لئے ہیں۔
٭معذرت کہ اچانک ادبی موڈ بن گیا ہے۔ سینٹ کے حالیہ واقعہ سے محترم حاصل بزنجو کے ساتھ بیٹھے بٹھائے جو گزر گئی اس میں مجھے حضرت عثمان ہارونی کی ایک خوصبورت فارسی غزل یاد آ گئی ہے۔ حضرت عثمان ہارونی حضرت معین الدین چشتی کے مُرشد تھے۔ اس غزل کے دو تین اشعار پھر ان کا ترجمہ پڑھئے اور دیکھئے کہ سینٹ کا چیئرمین کا عہدہ اور اس کے حصول کے لئے حاصل بزنجو کی کوشش اور پھر اس کاوش کے انجام کی طرف کیا اشارے ملتے ہیں! حضرت عثمان ہارونی فرماتے ہیں
نمی دانم کہ آخر چُوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازاں بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم
بتو آں قاتل کہ از تماشا خون می ریزی
من آں بِسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم
ترجمہ: (1)مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تیرے دیدار پر کیوں ناچنے لگتا ہوں مگر مجھے اس بات پر ناز ہے کہ میں یار کے سامنے ناچتا ہوں۔(2) تو ایسا قاتل ہے کہ بہرِ تماشا میرا خون بہاتا ہے اور میں ایسا بِسمل ہوں کہ خونخوار خنجر تلے ناچتا ہوں۔
قارئین کرام! رقص بِسمل دیکھنا ہو تو سرخ گرم توے پر سرد پانی کی ایک بُوند ڈالئے اور دیکھئے کہ وہ کس طرح توے پرناچتی ہے…! چلتے چلتے خواجہ ہارونیؒ کا اسی غزل کا ایک اور شعر بھی پڑھ لیجئے۔ بہت آسان ہے۔ ترجمہ کی ضرورت نہیں۔ فرماتے ہیں کہ
بیا جاناں تماشا کُن کہ در انبوہِ جانبازاں
بصدِ سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم!


 

تازہ ترین خبریں