07:33 am
کشمیر اور عالمی امن

کشمیر اور عالمی امن

07:33 am

         امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش مظلوم ،مقہور،مجبورستم زدہ کشمیریوں پر قیامت بن کرٹوٹی ہے،بھارتی فوج جو پہلے ہی نہتے کشمیریوں خواتین بچوں کو مشق ستم بنائے ہوئے تھی نے اپنے تمام ڈنگ باہر نکال لئے اورسب وشتم کا ایک نہ ختم ہونے والا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ستم یہ کہ اس درندگی میں بھارتی فوج کو بنیاد پرست مودی حکومت اور دہشت پسند،انتہا پرست جنونی ہندئوں کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ٹرمپ خود ایک انتہا   پسند ہیں ان کے شائد وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ افغانستان سے بحفاظت1 انخلاء اور جنوب ایشیاء کو جوہری جنگ سے بچانے کیلئے ان کی پیشکش پر بھارتی رد عمل اس انداز سے آئے گا۔امریکی صدر کی پیشکش کے بعد بھارتی حکومت اور فوج کی تلملاہٹ  اور  گھبراہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی،بھارت کو  کشمیر  بزور بندوق فتح کرنے کی اپنی  70سالہ کوششیں مٹی میں ملتی دکھائی دینے لگیں،اسی خدشے کے تحت بھارت نے جبر و ستم کے نئے نئے باب رقم کرنا شروع کر دئے،شہری آبادی پر کلسٹر بموں کی برسات کر دی جن کا آبادی پر استعمال جنیوا کنونشن کی قرارداد کے مطابق ممنوع ہے،لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بار بار اعادہ کیا جانے لگا،نیلم وادی میں بھی کلسٹر بم پھینکے  گئے۔دوسری طرف کشمیریوں کی شہادتوں میں اضافہ کے باوجود ان کے عزم ، جذبے اور حوصلہ میں کمی نہیں آئی،مگر بھارتی جارحیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔
 
            اچانک تمام سیاحوں اور امر ناتھ یاترا کیلئے آئے ہندو یاتریوں  کو مقبوضہ کشمیر سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا جس کے باعث مقبوضہ وادی میں خو ف و ہراس کی لہر دوڑ گئی،واضح رہے کہ ابھی یاترا میں دس روز باقی تھے،مودی حکومت کے اس اقدام اور کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش پر بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس کے نتائج کو بھارت کیلئےخطرناک قرار دیا۔کشمیریوں کیخلاف بھارت حکومت کے ہنگامی اقدامات کے بعد پر امن عالمی برادری بھی تشویش میں مبتلاء ہے،ان کے خیال میں بھارت  کوئی ایڈونچر کرنے والا ہےجس کی وجہ سے اس نے سیاحوں اور یاتریوں کو وادی سےنکلنے کا حکم جاری کیا ہے،لیکن عالمی رہنمائوں کا خیال ہے کہ اگر بھارت نے ایسا کوئی اقدام کیا تو یہ عالمی امن کیلئے شدید دھچکا ہوگا،اس آگ سےنہ صرف جنوب ایشیائی ممالک متاثر ہونگے بلکہ پوری دنیا اس کی حدت اور شدت کومحسوس کرے گی۔
      بھارت پہلے اقدام کےطور پر حریت قیادت پر عرصہ حیات تنگ کررہاہے خاص طور پر بزرگ رہنماء سید علی گیلانی جنہوں نے اپنی زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ بھارتی جیلوں میں مصائب و آلام سہتے ہوئے گزارا اور  باقی قیادت کو بھی گرفتار کر کے بھارت کی سخت جیلوں میں بند کر کے ان کو اذیت کا نشانہ بنایا جائے گا،ان کی غیر موجودگی میں اسرائیلی ماہرین کی مدد سے  وادی میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے شدت پسند ہندوئوں کو وادی میں آباد کرایا جائے گا ان کو گھر بنانے کیلئے مفت اراضی دیکر مکان بنانے کیلئے قرض اور امداد بھی دی جائے گی اور ان کو کشمیریوں پر ظلم و ستم کی مکمل آزادی ہو گی،اس مقصد کیلئے بھارتی حکومت نے پہلے سے پانچ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں 38ہزار مزید فوجی تعینات کر دئیے ہیں،فوج کو جدید ترین گاڑیاں دی گئی ہیں جن کی مدد سے ہجوم میں بحفاظت داخل ہو کر ان پر فائرنگ،شیلنگ کی جا سکتی ہیں،مہلک ہتھیار بھی فراہم کئے گئے جن سے بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے،مقبوضہ کشمیر سے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ وادی کی تین حصوں میں تقسیم کا بھی منصوبہ ہے،جس کے تحت لداخ،جموں اور وادی کو تین ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔لداخ میں بدھ مت کی اکثریت ہے لہذٰا وہاں بدھ بھکشوئوں کو حکومت سازی کا موقع دیا جائے گا مگر کنٹرول بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس رہے گا کہ لداخ کی سرحد چین سے ملتی ہے اور بھارت چین سے خوفزدہ ہے،کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت پاکستان اور چین کی سرحد کو مزید طوالت دینے کے حق میں نہیں،جموں میں ہندو پنڈتوں کی بڑی تعداد موجود ہے اگر چہ ایک عرصہ سے ان کو اکثریت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر مسلمان اب بھی معمولی مگر اکثریت میں ہیں،وادی سرینگر،شوپیاں ،بارہ مولا اور گردو نواح میں مسلمان بھاری اکثریت میں آباد ہیں اس لئے مجبوری کے تحت یہ علاقہ مسلمانوں کے سپرد کر دیا جائے گا تاکہ اگر ٹرمپ بزور مسئلہ کشمیر حل کراتے ہیں تو پاکستان کے حصے میں اس کا وہ معمولی حصہ آئے جو ازاد کشمیر اور پاکستان کی سرحد سے ملتا ہے،اسی پالیسی کے تحت مقبوضہ وادی کی تقسیم کے منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے،اس طرح بھارت پاک چین راہداری پر بھی نگاہ رکھ سکے گا۔ اصل (باقی صفحہ 6بقیہ نمبر1)
مسئلہ کشمیریوں کی خواہش اور عالمی برادری کےاطمینان کاہے،کیا عالمی برادری 70سال سے سلگتے ایک مسئلہ کا ایسا حل قبول کر سکتی ہے جس کے بعد یہ سلگتی چنگاریاں شعلے بن کر سامنے آجائیں ،بظاہر ایسا ممکن نہیں لیکن اگر ایسا ہو گیا تو یہ خطے کے امن پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہو گا،کشمیری اپنی دھرتی کی تقسیم پر ہر گز آمادہ ہونگے نہ اس کا ایک انچ کسی دوسرے کو دینے پر راضی ہونگے،عالمی طاقتیں اس صورتحال کا ادراک کریں اور بھارتی سازشی چالوں کو مد نظر رکھ کر مسئلہ کا حل تلاش کریں ورنہ آج جو چنگاریاں ہیں وہ مستقبل میں شعلے بن کرتباہ کن الائو میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
        پاکستان حکومت اور پاک فوج کی اس حوالے سے   برداشت کو بھی خراج تحسین پیش کرنا ہو گا کہ بھارت نے  رواں سال 1800سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی،مگر حکومت اور عسکری قیادت نے صرف جواب وہاں دیا جہاں ناگزیر تھا،پاکستان بھی اگر اسی طرح جواب دیتا جیسا بھارت کا رویہ ہے تو خطے میں بہت پہلے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو چکی ہوتی جس کے نقصان کا اندازہ الفاظ میں نہیں لگایا جا سکتا،یہ وقت ہے کہ  پاکستان کی  تمام جماعتیں اس مسئلے پر ایک ہوں اس دیرینہ مسئلہ کا پر امن حل مذاکرات کے ذریعے تمام فریقین کیلئے قابل قبول حل تلاش کیا جائے ورنہ بنیا ذہنیت اس مسئلہ کو اتنا خراب کر دے گی کہ کوئی سرا ہاتھ نہیں آئیگا۔
 

تازہ ترین خبریں