07:34 am
سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

07:34 am

 وادی کشمیر میں جاری ظلم وستم نے شکارے توپہلے ہی ویران کردیئے ہیں  اوراب نئی ممکنہ افتاد سے ریڑھی ٹھیلے والے بھی پیٹ پرپتھرباندھ کرمیدان کارزارمیں کودنے کیلئے کمربستہ ہوگئے ہیں کہ اب فیصلے کی گھڑی ہے اوروہ جان گئے ہیں گھرمیں چپکے سے دبک کربیٹھ جانے سے کیاموت ٹل جائے گی؟گزشتہ سات دہائیوں میں ان کی تیسری نسل جوان ہوگئی ہے لیکن ان کے عزم و استقلال میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے۔ برہانی شہیدکے بعدہرنوجوان اللہ کی برہان بن گیاہے۔ پاکستان اب بھی ان کی آنکھوں اوردل میں بسا ہوا ہے۔ کوہساروں،جنگلوں،شہروں اورگلی کوچوں میں پاکستان کی بقا ء کی جنگ لڑرہے ہیں ۔سیدعلی گیلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام ایک ’’ایس اوایس‘‘جاری کرکے متنبہ کردیاہے کہ انہیں خبرہوکہ ان کے پہلومیں کیا قیامت ڈھائی جارہی ہے اورمقبوضہ کشمیر کے مجبورومقہورباسیوں کے دلوں میں ایسے آتش فشاں پھوٹ پڑے ہیں جوسب کچھ جلاکرخاکسترکردیں گے۔امت مسلمہ کی کشمیرکی موجودہ تحریک آزادی  سے لاتعلقی اورغفلت کی مہر نے ان کے دلوں کی حرارت سلب کررکھی ہے۔ 
ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ حکمران ٹولے کوتویہ فکرکھائے جارہی ہے کہ کس طرح اپنے حریفوں کو ٹھکانے لگایاجائے۔انہیں اس بات کی کوئی فکرنہیں کہ کشمیرجل رہاہے اوراس کے چنار اپنی سلامتی کی دہائی دے رہے ہیں،خوبصورت کوہساروں نے آگ اگلناشروع کردی ہے اوراس سے اٹھنے والے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔مکارہندونے جس ڈرامائی اندازمیں اپنی تازہ دم افواج کوکشمیرمیں اتارناشروع کردیاہے اورتمام غیرملکی سیاحوں اورامرناتھ یاترکے لاکھوں ہندویاتریوں کوفوری کشمیرسے نکل جانے کاکہاہے،وہ کسی نئی قیامت کی خبردے رہے ہیں۔ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پرہی اپنی فتح کے شادیانے بجائے جارہے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہوناچاہئے کہ وائٹ ہائوس افغانستان میں اپنی ہزیمت ورسوائی سے بچنے کیلئے کشمیرکے نام پرایک نئی لالی پاپ کی پیشکش سے اپناکام چلارہاہے۔ہم نے تابعداری کااظہارکرتے ہوئے پھرآٹھویں مرتبہ افغان طالبان کومذاکرات کی میزپربٹھادیاہے ۔ ادھرمکاربرہمن نے اب سرحدوں پرکلسٹربموں کی بارش شروع کررکھی ہے جس کواقوام عالم نے ایک بہیمانہ جرم قراردے رکھاہے۔ عالمی پریس بھلا کیونکران مظلوم کشمیریوں پرہونے والے مظالم سے دنیاکوآگاہ کرے گا؟وہ توامن کاڈھول پیٹ رہے ہیں اورمقبوضہ کشمیرکی انتہائی کشیدہ اوردھماکہ خیز صورتحال میں بھی ان کی امن کی سواری بگٹٹ بھاگی جارہی ہے!
غیرملکی میڈیا نے بھارتی وزیر خارجہ سے جب کشمیر کی اس سلگتی صورتحال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے انتہائی ناپسندیدگی سے اس کواپنا داخلی معاملہ قراردیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اب فریز ہوچکاتاہم مناسب وقت پرباہمی تجارت کے حوالے سے بات ہوسکتی ہے۔قابض بھارتی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے والے مجاہدین کودہشت گردقراردیتے ہوئے پاکستان کی دہشت گردی کاروناشروع کردیاجبکہ چند ہفتے قبل پاکستان نے توانہیں اقوام عالم کے ادارے میں ممبر بننے میں ووٹ دیکراپنی غیرمشروط حمایت کا ا ظہا ر بھی کردیاہے جبکہ کوہساروں کی اگلتی آگ اورجلتے چنا ر و ں نے اب ایک مرتبہ پھرساری دنیاکومتوجہ کیاہے کہ کشمیر کاآتش فشاں دنیاکے امن کوراکھ کاڈھیر بناسکتاہے۔ 
پہلی دفعہ نہتے کشمیری بغیرکسی قائد کے اپنی اس عوامی تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ان کاقائدنہ کبھی جھکاہے اورنہ ہی کوئی اسے خرید سکاہے۔ وہ ہرحال میں اپنے قائدکے فرمان کی تعمیل میں کشمیر کی آزادی کیلئے میدانِ کارزارمیں اپنی جانوں کانذرانہ لئے حاضرہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نہ تو کرفیوان کاکچھ بگاڑسکاہے اورنہ ہی گولیوں کی بوچھاڑان کوخوفزدہ کرسکی ہے۔اس صورتحال نے بھارتی سورماں کوخوفزدہ کردیاہے اوربھارتی ایوانوں میں ایک دفعہ پھرایک زلزلہ طاری ہے۔اپنے مادرِوطن کی آزادی کیلئے مسلح مزاحمت کرنے والوں نے اس سیاسی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے خودکو عارضی طور پر غیرفعال کردیاتھا۔مجاہدین نے ہتھیارتونہیں رکھے اورنہ ہی مسلح مزاحمت ترک کرنے کااعلان کیاتھالیکن سیدعلی گیلانی کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سیاسی تحریک کواپنی جانب سے مکمل اخلاقی تائیدفراہم کی تھی لیکن بدلتے حالات ان کوفیصلہ تبدیل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
مجاہدین آزادی کا یہ بہت ہی دانشمندانہ اوربروقت فیصلہ تھاکیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مجاہدین کی مسلح جدوجہدکی بجائے اب پورے مقبوضہ کشمیر میں عوام کی اس سیاسی تحریک کوغلبہ حاصل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی استعمارنے یادرہے کہ آج سے چندبرس قبل گھبرا کربرطانیہ اورامریکہ کو اپنی مدد کیلئے بلایا تھاکہ وہ کسی طرح اس تحریک کوسرد کرنے میں ان کا ہاتھ بٹائیں جس کے بعدان دونوں ملکوں کے سفیر حریت کانفرنس کے قائدین سے ملاقات کرکے ان کو بھارتی حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ان کی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے حریت کانفرنس کے قائدین کوبھارت کے ساتھ مذاکرات کی میزپربٹھا کر بات چیت میں الجھا دیاجائے اوراسی دوران کشمیری عوامی تحریک کا’’ٹمپو‘‘ختم کرکے اس تحریک کوناکام بنا دیاجائے تاکہ بھارت کو ایک دفعہ پھر تازہ دم ہو کر کشمیر پر اپنا جبری قبضہ مزید مضبوط کرنے کاموقع مل جائے اورکشمیریوں کوایک دفعہ پھرآزادی سے کوسوں دورکردیا جائے!
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں