07:35 am
امارات و سعودیہ کا مطلوب نیا کشمیری کردار‘ عرب خواتین کا نیا سعودیہ

امارات و سعودیہ کا مطلوب نیا کشمیری کردار‘ عرب خواتین کا نیا سعودیہ

07:35 am

سفاک‘ مسلمان‘ دلت‘ سکھ‘ مسیحی دشمن بلکہ انسانیت دشمن بھی اور دو ٹوک ہندتوا کے شدت پسند مذہبی انسانی سماجی تقسیم کے احیاء کی داعی مودی حکومت نے مزید 38ہزار بھارتی فوج کشمیر میں داخل کر دی ہے پہلے ہی تقریباً 7لاکھ فوج اہل کشمیر مسلمانوں کو یرغمال‘ مقید‘ محبوس اور مقتول بنائے ہوئے ہے۔
 
وزیراعظم عمران خان کا دورئہ امریکہ جس کے بارے میں خبر تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ممکن بنایا تھا‘ اہل کشمیر کی خوش قسمتی اور ساتھ ہی بدقسمتی کا ساتھ ساتھ ہونا ہے‘ صدر ٹرمپ چونکہ افغانستان میں طالبان سے مفاہمت کرکے چند ہزار فوجی واپس لے جا کر اپنے نئے صدارتی انتخاب کی جیت کو ممکن بنانا چاہتے ہیں لہٰذا انہوں نے اہل پاکستان کو خوش کرنے کے لئے کشمیر پر ثالثی کا موقف پیش کیا تھا بلکہ دوبار کیا ہے مگر یہ صدق دل سے نہیں محض وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کو افغانستان سے امریکی باعزت واپسی اور کچھ باعزت بقاء میں استعمال کرنے کے لئے ہے جبکہ سی آئی اے اور پینٹاگان کے منصوبوں میں تو چین کا محاصرہ‘ بھارت سے ہی ہر قسم کے تعلقات میں اتحادی  ترجیحی آج بھی شامل ہے جس میں گریٹر بھارت کے قیام کو کمزور پاکستان کے ساتھ وابستہ کیا جاتا رہا ہے مگر امریکی ڈیپ اسٹیٹ کے دائمی اور طویل مدتی منصوبے اور صدر ٹرمپ کی فوری سیاسی ضرورت آج تو متضاد ہیں۔ کشمیری بزرگ سید گیلانی‘ عمر فاروق اور کشمیری قائدین دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ بھارتی فوج  مسلمان کشمیریوں کا مزید قتل عام کرنے جارہی ہے۔ دنیا  انہیں بھارتی ظلم و جبر سے بچائے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسلمان کشمیریوں پر بھارتی فوج کی طرف سے کلسٹر بموں کے استعمال کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر مکہ مکرمہ میں رابطہ‘ موقف‘ استدعا پیش کی ہے‘ رابطہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثیمین نے آو آئی سی کی طرف سے فوراً مذمت اور پریشانی کا اظہار کیا ہے جدہ میں پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز نے او آئی سی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ موسیٰ سے ملاقات کی ہے  مگر کیا یہ معاملات صرف مذمت اور اظہار افسوس کے ساتھ طے ہوسکتے ہیں؟
او آئی سی  کی ابوظبی کانفرنس اور پھر مکہ میں منعقدہ او آئی سی کانفرنس میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنے اپنے مناسب سفارتی انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تھا۔ اگرچہ ابوظبی میں منعقدہ ہوتی کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی کے طور پر بلانے پر ہماری پارلیمنٹ‘ حکومتی وزراء‘ اپوزیشن شدید ناراض ہوگئی تھی اور وزیر خارجہ نے ابوظبی کانفرنس کا خود بائیکاٹ کیا تھا۔
میری نظر میں وزیر خارجہ کا ذاتی بائیکاٹ بالکل غلط ‘ عدم تدبر و فراست تھا اور امارات کی حکومت جو کشمیری مسلمانوں کی تکلیف کے ازالے کے لئے کر رہی تھی  ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ آج بھی تو او آئی سی ہمارے مطالبے اور خود پاکستان اپنے سارے مطالبے ظالم بھارتی حکومت اور فوج ہی سے کر رہا ہے‘ اگر ابوظبی کانفرنس میں امارات نے ذرا منفردمگر اپنی نظر میں مناسب انداز اپنایا تو ہم  بچوں کی طرح فوراً ناراض ہوگئے تھے۔ ہمیں مستقبل میں بھی امارات و سعودیہ کو ہی زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہیے جبکہ امریکی سی آئی اے‘ ڈیپ اسٹیٹ بھارتی عظمت‘ پاکستانی کمزوری کی اتنی ہی خواہش  مند ہے جتنی سعودی اقتدار میں محمد بن سلمان کے اخراج یا بہت کمزور ہو جانے کے لئے دن رات بے تاب رہتی ہے۔ محمد بن سلمان اور امریکی ڈیپ اسٹیٹ ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم رویوں پر مبنی کشمکش کا نام ہے۔ بات شروع کشمیر‘ او آئی سی کانفرنسوں سے ہوئی تھی اورصدر ٹرمپ‘ سی آئی‘ اے محمد بن سلمان کے مابین جاری طویل مدتی کشمکش ‘ تضاد ‘تصادم کی طرف چلی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے شاہ سلمان کی طرف سے سعودی خواتین کو مکمل طور پر سفر کی آزادی مل گئی ہے۔ اس آزادی کے سبب سعودی خاتون اپنا پاسپورٹ بنوا کرسکتی ہے ۔اکیلیاندرون ملک وبیرون ملک سفر کر سکتی ہے۔ ڈرائیونگ کی پہلے ہی اجازت ہے‘ ملک ایک جغرافیے کے نام پر بنتے ہیں مگر جغرافیے کی تخلیق میں عقیدہ اور نظریہ بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ شجاعت و تدبر و فراست پر مبنی قیادت کا کردار زیادہ بنیادی اور اہم ہوتا ہے جیسے شاہ عبدالعزیز کا تیسرے عہد کے سعودی عرب کی تشکیل  میں کردار تھا۔ دوسرا عہد اصلاحات کا ہوتا ہے جیسے شاہ فیصل کا تیل کی دولت کو فضول خرچی اور ذاتی عیاشی پر خرچ کرنے کی بجائے سعودی قومی اور اسلامی مفادات کے لئے استعمال کرنا‘ حج پر قربانی کے گوشت کو ترک قصائیوں کے ذریعے منظم کرکے دنیا بھر کے مسلمان مساکین تک پہنچانا یا شاہ عبداللہ کا کردار دہشت گردی‘ جہاد اور شریعت کے غلط استعمال سے اسلام اور مسلمانوں کو مل چکی ذلت و بدنامی سے نجات‘اسلام اور مسلمانوں کا انسانیت نواز کردار‘ زلزلوں مین کمزوروں کی مدد جبکہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد کا کردار‘ بدعہد منافق امریکہ کو دوبارہ صدر ٹرمپ کے ذریعے سعودی دوست بنانا‘ انسانی حقوق کی مکمل بحالی‘ عورتوں کو سخت گیر قبائلی روایات پر کار بند رکھ کر ایک صدی پر مبنی جبر و ظلم سے نجات دلانا‘ یوں شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کا سعودی عرب کے نئے انداز میں تشکیل دیتا عمل سیاسی‘ سماجی اور تہذیبی تاسیس جدید سعودی عرب کہلائے گا۔  آج کا سعودی عرب اور امارات  دنیا بھر کے امن‘ تحمل‘ رواداری‘ استحکام اور سعودی خواتین کی مکمل آزادی اور نوجوانوں کے لئے اقتصادی فضا کی تخلیق کا نام ہے۔ کاش پاکستان کے پاس بھی ایسے ہی مخلص حکمران‘ قائدین‘ فیصلہ ساز میسرہوں سخت مطلوب ہیں فیصلے پاکستان کو آج مطلوب جیسے سخت اور مشکل فیصلے شاہ سلمان اور ولی عہد  محمد کر چکے ہیں۔
پس تحریر: عید کے اردگرد پاک بھارت بڑی جنگی چھڑب ہوسکتی ہے‘ اماراتی ولی عہد اور سعودی  ولی عہد8اگست کے بعد طلوع شدہ عہدمظلومیت کشمیریوں کے حق کے لئے بھارت کے سامنے مدبرانہ انداز میں اٹھ کر کھڑے ہوں۔

تازہ ترین خبریں