07:36 am
پاکستان اور کشمیر ،یک جان دو قالب

پاکستان اور کشمیر ،یک جان دو قالب

07:36 am

مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کاکہنا ہے کہ ’’آ ج مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا، محبوبہ مفتی مزید کہتی ہیں کہ’’ بھارتی حکومت کا آئین سے آرٹیکل370 کو ختم کرنا یکطرفہ، جانبدارانہ اور خود ساختہ فیصلہ ہے۔‘‘
جس دو قومی نظریئے کو ٹھکرا کر آج محبوبہ مفتی کو شرمندگی اور افسوس ہو رہا ہے۔ اسی دو قومی نظریئے کو پاکستان کے بعض سیاست دان اور بھارتی پٹاری کے دانش فروش بھی پوری شدت سے جھٹلاتے اور ٹھکراتے چلے آرہے ہیں، ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر دو قومی نظریہ کا مذاق اڑانے والوں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عبرت حاصل کرکے بھارت کی راتب خوری سے باز آنا چاہیے۔
سوال یہی ہے کہ کیا نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کو مظلوم فلسطینیوں والی حیثیت پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟1948 ء میں اسرائیل نے جو فلسطینیوں کے ساتھ کیا تھا ،2019 ء میں وہی کچھ نر یندر مودی سرکار کشمیریوں کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے سوا کرو ڑ سے زائد مسلمان پاکستان سے محبت کے جرم میں بے پناہ مصائب و آلام کو برداشت کرتے چلے آرہے ہیں۔کشمیر کے مظلوم مسلمان کسی بھی پاکستانی سے بڑھ کر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ان کی محبت کی ابتداء بھی پاکستان، محبت کا عروج حتیٰ کہ محبت کی انتہا بھی پاکستان ہے۔  انہوں نے اپنے ’’خون‘‘ سے پاکستان سے محبت اور وفا کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جس پر دنیا کا ہر آزادی پسند انسان فخر کرنے میں حق بجانب ہے۔ مظلوم کشمیریوں کو دہلی اور اسلام آباد، چکی کے دو پاٹوں میں پیسنے کی کوشش کرنے والوں کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی کہ جب دنیا نے پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے کشمیر کے نوجوانوں کو بھارتی گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا۔
جس طرح کشمیریوں کو پاکستان سے محبت ہے۔  بلامبالغہ پاکستانی قوم کو بھی کشمیر کے مسلمانوں سے بے حد پیار ہے، دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا پر وہ فتنہ پرور چھائے ہوئے ہیں کہ بھارتی دستر خوان کی راتب خوری نے جن کی سوچ اور فکر کو دہلی سرکار کا غلام بنا رکھا ہے، وگرنہ اگر میڈیا ، پاکستانی قوم کی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے محبت کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا تو یقینا ًآج حالات مختلف ہوتے۔
مجھے تہدیث بانعمت کے طور پر فخر ہے کہ میرا ان سیاست دانوں، میڈیا کے پنڈتوں سے کوئی تعلق نہیں جو آلو، پیاز کی تجارت کو کشمیریوں کے خون پر ترجیح دیتے رہے۔ میں انہیں روز اول سے ہی اپنے کالموں میں دانش فروش لکھتا چلا آرہا ہوں کہ جنہیں پٹھانکوٹ اور پلوامہ میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں سے تو ہمدردی محسوس ہوئی مگر سرینگر کے چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بننے والے مظلوم مسلمان دہشت گرد نظر آئے ، بلکہ میرا پاکستان کی اس عظیم سے قوم سے تعلق ہے کہ جس قوم کی مائوں نے اپنے جگر گوشے کشمیر کے جہاد کے لئے وقف کیے۔  آج میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا کی تمام تر بے وفائیوں کے باوجود پاکستان کی عظیم قوم نے کشمیریوں سے محبت کا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کی۔ آج مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں جاکر کوئی دیکھے تو وہاں انہیں کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی مجاہدین کی بھی بے  شمار قبریں ملیں گی، یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کشمیر کو اپنے دلوں کی دھڑکن سمجھتی ہے۔
عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران جب صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا اعلان کیا تھا  تو یہ اعلان میرے جیسے طالبعلموں کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔  امریکی ثالثی کی کوکھ سے مقبوضہ کشمیر میں جس نئی اور دھماکہ خیز صورت حال نے جنم لیا ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اور پاکستانی قوم پوری جرات کے ساتھ کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہو جائے۔
اگر بدنام زمانہ مودی ، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں کامیاب ہوگیا تو کوئی بھی پاکستانی دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ امریکہ ایک طرف افغانستان سے اپنے فوجیوں کو زندہ سلامت نکالنے کیلئے طالبان سے مذاکرات کررہا ہے اور دوسری طرف ثالثی کے اعلان کے باوجود کشمیر کی موجودہ دھماکہ خیز صورت حال سے اغماز برت رہا ہے۔
ان خطرات حالات میں جہاد ہی وہ واحد راستہ ہے کہ جس پر چل کر بھارت کو سبق سکھایا جاسکتا ہے، جہادی تنظیموں کو بند اور جہادیوں پر پابندیاں لگانے سے اگر بھارت نے سدھرنا ہوتا تو اب تک سدھر چکا ہوتا لیکن عملی طور پر ہو تو یہ رہا ہے کہ بھارت اور عالمی دبائو پر پاکستان نے کشمیری جہادیوں پر تو سخت ترین پابندیاں عائد کرکے جہادی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا لیکن کشمیری مجاہدین کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔  بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مزید ظلم و ستم پر تل گیا، اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں