07:36 am
جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

07:36 am

سیاسی قیادت کاآمرانہ رویہ ہمارے سیاسی نظام کی سب سے بڑی برائی اور جمہوریت کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس سوچ کا شاخسانہ ہے کہ اپنے سینیٹرز کو دغا باز کہا جا رہا ہے حالانکہ انہوں نے اپنا ووٹ آزادانہ کاسٹ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری کام کیا ہے۔ حیرت ہے ان دانشوروں پر بھی جو سیاسی قیادت کے خیالات کے اسیر بن کر ان کی رو میں بہے جا رہے ہیں اور جمہوریت کاخاتمہ بالخیر جیسے مضامین لکھ کر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو جمہوریت کی بربادی سے تعبیر کر رہے ہیں۔آئین پاکستان کی دفعہ 63Aکے تحت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات اور اعتماد اور عدم اعتماد کی تحاریک پرووٹنگ اور فنانس بل یاآئینی ترمیم پر ووٹنگ میں اگر کوئی رکن غیر حاضر رہتا ہے یااپنی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے برخلاف ووٹ کاسٹ کرتا ہے تو اس پراپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کا الزام لگتا ہے اور اس کو نااہل قرار دیاجا سکتا ہے۔ یہ پارلیمان کی اجتماعی دانش ایک اظہار ہے ورنہ یہ ممکن تھا کہ سیاسی قیادت اپنے ممبران کے مرضی سے کھانسنے اور ہنسنے پر بھی پابندی عائد کر دیتی۔
 
 جب آئین پاکستان ممبران پارلیمنٹ کو اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے تو ان کے اس حق کو دغا بازی اور ضمیرفروشی سے کیسے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ یہ تو ہے بنیادی، بات اب دوسری بات پرآجائیے جو سیاسی اخلاقیات کے ضمن میں کہی جارہی ہے۔ حیرت کاایک جہاں میرے سامنے ہے اور میں انگشت بدنداں ہوں کہ کیسی ڈھٹائی سے یہ لوگ اخلاقیات کی بات کررہے ہیں۔ سیاسی اخلاقیات کا تقاضہ تو یہ تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے سے قبل یہ لوگ چیئرمین سینیٹ کے خلاف چارج شیٹ پیش کرتے اور مدعا بیان کرتے کہ انہیں ان کے عہدے سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے۔ عام سی کمپنی میں بھی کسی عہدیدار یا ملازم کو ہٹانے سے قبل اسے چارج شیٹ کیا جاتا ہے اور اس کاقصور بتا کر اسے وضاحت کا موقع دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ان سیاسی رہنمائوں کی اخلاقیات ملاحظہ ہوں کہ پروٹوکول کے اعتبار سے تیسرے نمبر کی اہم شخصیت جو فیڈریشن کی نمائندگی کرنے والے اعلیٰ ترین ایوان کا سربراہ ہے ظکو عہدے سے فارغ کرنے کا پروگرام بنایا گیا اور بنا کسی الزام کے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔ 
جب یہ سوال اٹھایا گیا تو جواب دیا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانا ہمارا آئینی حق ہے ۔چلیں مان لیا کہ آئین آپ کو یہ حق دیتا ہے اور آپ نے جو کیا وہ آئین کے تابع رہ کر کیا مگر پھر آپ کی اپنی دلیل تو کوڑے کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے چونکہ یہاں آپ کی سیاسی اخلاقیات کہاں گئیں۔ چیئرمین سینیٹ نہایت خوش اسلوبی سے ایوان چلا رہے ہیں اور اپنے پرائے اراکین سینیٹ سب ہی ان سے بہت خوش تھے اور ان پرحکومتی اراکین کو ناجائز فیور دینے اور اپوزیشن کو لتاڑنے وغیرہ کا کوئی الزام بھی نہ تھا پھر ان کی ذات کو تختہ مشق کیوں بنایا گیا اور خواہ مخواہ ملک میں سیاسی انتشار پھیلانے کی کوشش کیوں کی گئی۔ برطانیہ جیسے ممالک میں جن کی جمہوری روایات کابطور مثال حوالہ دیا جاتا ہے جب کوئی رکن دارالعوام کاسپیکر منتخب ہو جاتا ہے تو اسے تاحیات اسپیکر سمجھا جاتا ہے ۔ وہ خود اسپیکر شپ چھوڑ دے تو الگ بات ہے وگرنہ اسے اسپیکر کی کرسی سے اتارنے کی اپوزیشن کبھی کوشش نہیں کرتی حتی کہ عام انتخابات میں اس کے خلاف مخالف جماعت اپنا امیدوار بھی کھڑانہیں کرتی تاکہ وہ منتخب ہو اور دوبارہ اسپیکر کا منصب سنبھالے۔یہ ہوتی ہیں اخلاقیات کہ جن سے آپ کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹا کر حکومت کو نیچا دکھانا چاہتے تھے۔ پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن) ،اے این پی' جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدوار حاصل بزنجو حکومت کے حمایت یافتہ امیدوار صادق سنجرانی سے اس لیے شکست کھا گئے ہیں کیونکہ ان کی صفوں میں سے چودہ سینیٹرز نے اپنی ترجیح کے مطابق آزادانہ ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ کنٹرولڈڈیموکریسی ہمیشہ سے ان کی تمنا رہی ہے ورنہ کیا کوئی نیک نام اور جینوئین جمہوریت پسند کبھی سوچ سکتا ہے کہ آئین پاکستان سے ایک ایسی شق نکال دی جائے جو سیاسی جماعتوں کو انٹراپارٹی الیکشن کے انعقاد کا پابند بنانے کے لیے تھی۔ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے ہنگام میں چپکے سے آئین سے آرٹیکل 17(4)کو نکال دیا گیا۔یہ ہے ان کی جمہوریت پسندی اور سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کو پروان چڑھانے سے روکنے کے لیے ان کی پست سوچ کا ایک مظہر۔ 
یہ سیاسی جماعتیں نہیں قبضہ مافیا ہیں جہاں ایک پارٹی کا سربراہ بن جانے کا مطلب ہے ہمیشہ کے لیے پارٹی کی سربراہی آپ کی ہوئی۔ یہ تو کسی دوسرے کو اپنے مقابلے میں کاغذات حاصل کرنے کا حق دینے پر بھی تیارنہیں ہیں کجا کہ باضابطہ جمہوری اصولوں اور روایات کے مطابق پارٹی الیکشن کا بندوبست کریں۔مسلم لیگ ن فیڈرل کیپٹل کے سابق جنرل سیکرٹری ملک شجاع جو بلحاظ عہدہ صوبائی جنرل سیکرٹری کے برابر ہیں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ ایک پٹیشن دائر کررکھی ہے کیونکہ گذشتہ نام نہاد پارٹی انتخابات میں پارٹی صدارت کے لیے ان کے کاغذات وصول ہی نہیں کیے گئے اوریہ اس لیے کیا گیا تاکہ میاں صاحب بلا مقابلہ پارٹی صدر منتخب ہو سکیں۔ الیکشن کمیشن آ ف پاکستان نے 8 اگست کو ملک شجاع بنام مسلم لیگ ن مقدمے کا فیصلہ سنانا ہے۔ دیکھئے الیکشن کمیشن کہاں تک اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامیاب ہوتا ہے۔ سیاسی نظام کی شکست و ریخت کا سب سے زیادہ ذمہ دار الیکشن کمیشن ہی ہے کیونکہ اس نے آج تک اپنے فرائض کو صحیح معنوں میں ادا کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ یہ انتخابی اخراجات کے حلف نامے وصول کرتا ہے اور کوئی تحقیق نہیں کرتا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کی آمدن اور اخرجات کی جانچ پڑتال نہیں کرتا اور گوشواروں و حسابات کو من و عن تسلیم کرکے داخل دفتر کر دیتاہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کے آئین کو کھنگالتا نہیں اور سوال نہیں اٹھاتا کہ کون سی شقیں جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں ہیں اور آئین اور قانون کے تقاضے پورے نہیں کرتیں۔ یہ جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی نہیں کرتا اور جیسے تیسے ہونے والے جماعتی انتخابات کو قبول کرکے عہدیداران کی فہرست وصول کرلیتا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں