07:37 am
امریکی ثالثی اور بھارتی آئینی جارحیت

امریکی ثالثی اور بھارتی آئینی جارحیت

07:37 am

 اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر میں رائے شماری کرانے کے مطالبات بھارت نے نظر انداز کر دیئے اور کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مار دیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیںمسترد کر دیا۔ امریکی ثالثی کی مسلسل کئی  پیشکشوں کے بعد بھارت نے بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی۔ مقبوضہ ریاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی بنیاد مٹا دی۔ مقبوضہ ریاست کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو اپنی مرکزی حکومت کے زیر انتظام علاقے بنا دیا۔یہ فارمولہ گو کہ بی جے پی کے الیکشن منشور میں درج تھا مگراس پر عمل در آمد وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے کامیاب قرار دی گئی  دوستانہ ملاقات کے بعد ہنگامی طور پر کیا گیا۔ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ان پر بھارتی قوانین نافذ کر دیئے۔ کشمیر کا پرچم اتار دیا۔ یہ سب  ڈرامہ پہلے گورنر اور اب صدارتی راج کے دوران رچایا گیا۔ 
 
بھارت کی اس وقت 29ریاستیں اور سات مرکز کے کنٹرول والے علاقے ہیں۔ 29ریاستوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر بھی شامل تھی۔ اب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دہلی اور پاندو چری جیسا مرکزی انتظام والا علاقہ بنا دیا جس کی قانو ساز اسمبلی ہو گی مگر اسے آئین سازی کا اختیار حاصل نہ ہو گا۔ سٹیٹ اور یونین علاقے میں کافی فرق ہے۔ سٹیٹ ایک آزاد یونٹ ہوتا ہے جس کی اپنی اسمبلی اور حکومت ہو جس کا وزیراعلیٰ ہو، سلامتی، صحت عامہ، گورننس ، ریونیو وغیرہ  کا وہ خود ذمہ دار ہو۔ یونین علاقہ پر بھارت کی سنٹرل حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے،جس کا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ گورنر ہوتا ہے  جو سنٹرل حکومت کا مقررکردہ  اورصدر ہند کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یونین علاقوں کی بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں کوئی نمائند گی نہیں ہوتی  تا ہم دہلی اور پانڈو چری کی نمائندگی ہے۔ تعلیم اور میونسپل معاملات چیف منسٹر دیکھتا ہے اور سلامتی سمیت دیگر امور لیفٹیننٹ گورنر کی سفارش پر مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ سٹیٹ کا اپنا ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہوتا ہے جس کی اپنی منتخب حکومت ہوتی ہے۔ یونین علاقہ کو سنٹرل حکومت کنٹرول کرتی ہے اور انتظام چلاتی ہے۔ سٹیٹ کا ایگزیکٹو سربراہ گورنر اور یونین کا صدر ہوتا ہے۔ سٹیٹ کو اٹانومی حاصل ہوتی ہے مگر یونین کو یہ خودمختاری حاصل نہیں۔ 
بھارت نے دہلی کی طرح اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے اختیارات چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان تقسیم کر دیئے۔  اب بھارتی آئین مقبوضہ جموں و کشمیر پر من و عن نافذ العمل ہو گا۔ مقبوضہ جمو ںو کشمیر میں صرف بھارت کا پرچم لہرائے گا۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے اپنے آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے پر بڑے زور و شور سے بحث و مباحثہ جاری  رہاہے۔بھارت کی ناگالینڈ، سکم، ارونا چل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش، گوا جیسی ریاستوں کو آئین کی دفعہ 371کی ذیلی سیکشن اے، سی، جی کی مختلف شقوں کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی اس خصوصی پوزیشن کی وجہ سے آج تک بھارت آبادی کے تناسب کو تبدیل نہ کر سکا اور جموں و کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت شناخت قائم رہی۔  بھارت عدلیہ کی مدد سے ایسا چاہتا تھا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں عدالت سے بھارتی آئین کی دفعہ 35اے ختم کراناتھی۔ اس کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ہڑتالیں اور مظاہرے ہو ئے۔ احتجاج میں جموں خطے کے عوام بھی شامل ہو گئے ۔
 جموں کی بار ایسو سی ایشنز بھی میدان میں آئیں۔ عوام کو خدشہ تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس بار بھی عوام کی تسکین کے لئے فیصلہ کشمیر کے بجائے بھارتی عوام کے مفاد میں کر ے گی۔ ایسا اس نے پہلے بھی کیا ہے کہ جب بھارتی عوام کی خواہش کے مطابق انصاف کے تقاضوں کے برعکس فیصلہ کیا گیا۔ کشمیری حریت پسند محمد افضل گورو کو اسی فیصلے کی روشنی میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی پوزیشن کو کھوکھلا کر نے کی بد نیتی سے بھارت نے اس میں اتنی ترامیم کی ہیںکہ آئین ہند کا آرٹیکل 370 ایک مذاق بن کر رہ گیاتھا۔ سب سے پہلے غلام محمد صادق حکومت میں مقبوضہ کشمیر سے وزیر اعظم اور صدر ریاست کے عہدے چھین لئے گئے۔اس سے پہلے مقبوضہ ریاست میں وزیراعلیٰ کے بجائے وزیراعظم اور گورنر کی جگہ صدر کے عہدے تھے۔
مقبوضہ جموں کشمیر کے آئین کو بے بال وپر بنانے کے لئے کم و پیش 350 بھارتی ایکٹ ریاست پر لاگو کئے گئے۔ اس آرٹیکل کو 14 مئی 1954ء کوبھارت کے  ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 370 کی بنیاد پر آئین ہند میں شامل کیا گیا۔ 35A کے تحت جموں کشمیر کی ریاست کے پشتینی باشندوں کو خصوصی مراعات اور حقوق فراہم کرنے کا آئینی و قانونی سہارا دیا۔ آئین ہند کے آرٹیکل   35A  کی وجہ سے کوئی بھی غیر ریاستی غیر کشمیری باشندہ ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد خرید نہیں سکتا تھا۔ ریاستی حکومت کے تحت چلنے والے پروفیشنل کا لجوں میں داخلہ نہیں حاصل کر سکتاتھا۔ غیر ریاستی فرد سکالر شپ حاصل کرنے کا حق دار نہیں تھا۔ سرکاری ملازمت نہیں کرسکتاتھا۔مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی اور پنچایتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتاتھا۔اگر کوئی ریاستی خاتون کسی غیر ریاستی سے شادی رچائے تو وہ پشتنی حقوق سے محروم ہو جاتی تھی،اسی بنا پر سپریم کورٹ میں ایک ایسی ہی کشمیری خاتون نے اس قانون کو چیلنج کیا جس کی شادی غیر ریاستی سے ہوئی۔  اب کشمیرمیں غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کی قانونی راہیں کھول دی گئی ہیں جس سے ریاستی عوام کے تمام قانونی حقوق پامال ہو کر رہ جائیں گے۔یہ مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑ نے کا اوچھاحربہ ہے جس کا مقصد جموں کشمیر کی انفرادیت ہمیشہ کیلئے ختم کر نا ہے۔ یہ سب مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل طرز پر ہندو آبادی کو بسانے اور کشمیری مسلم آبادی  کو اقلیت میں بدلنے کی مہم ہے۔ اس سنگین مسئلہ کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ توقع ہے کہ عمران خان اور ان کے رفقاء اس جانب بھی فوری توجہ دیں گے۔   پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مثبت نتائج بر آمد ہوں گے۔ بھارت نے وادی کشمیر کو غزہ کی پٹی بنا دیا ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی کالونی کا درجہ دے دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں