07:38 am
اے وادی کشمیر!

اے وادی کشمیر!

07:38 am

٭کشمیر کے معاملہ پر پارلیمنٹ کا اجلاس دو دن جاری رہے گا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی پوزیشن بدلنے کی شدید مذمت! سیاسی رہنمائوں میں شہباز شریف کا پریس کانفرنس اور پارلیمنٹ میں سب سے زوردار اور زبردست بیان (نوازشریف، محمود اچکزئی، اسفند یار کا کوئی ردعمل نہیں) ملک بھر میں بھارت کی مذمت کے لئے بڑی بڑی ریلیاں، تعلیمی اداروں میں جلسے، جلوس، ٹیلی ویژنوں اور اخبارات میں تفصیلات آرہی ہیں۔ مودی بھی آج ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کر رہا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے تمام شہروں، قصبوں اور دیہات میں مسلسل دن رات کا کرفیو نافذ ہے اور لاکھوں خاندان تین دنوں سے نظر بندی کے عالم میں گھروں میں بند ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی بھی اجازت نہیں۔ بھارتی فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ کوئی شخص بھی باہر نکلے تو اسے فوراً گولی مار دی جائے۔
 
٭کشمیر کی موجودہ صورت حال پر غیر ملکی تبصرے اہم ہیں۔ ترکی کے صدر اردوان نے پاکستان کے موقف کی مکمل حمائت کی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت بھارتی اقدامات کا غور سے جائزہ لے رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے غلط اقدام کیا ہے اس سے پورا خطہ خطرناک صورت حال کا شکار ہو گیا ہے۔ برطانوی اخبارات نے ان خبروں کو نمایاں شائع کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے ان اقدامات کا پس منظر بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر و موجودہ وزیرداخلہ نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ اتنا خفیہ رکھا کہ سینئر وزراء کو بھی علم نہ ہو سکا۔ صرف صدر، بری فوج کے سربراہ جنرل بپن روات اور وزارت قانون کے ایک آدھ شخص کے علم میں صرف چند روز پہلے یہ بات علم میں لائی گئی۔ تین روزپہلے اچانک مقبوضہ کشمیر میں 38 ہزار فوج بھیج دی گئی جو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں پھیل گئی۔ اس نے دو روز پہلے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا اور ٹیلی ویژنوں، انٹرنیٹ وغیرہ پر پابندی لگا دی۔ ان اچانک اقدامات سے مقبوضہ کشمیر میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا، پورے بھارت میں بھی سنسنی پھیل گئی کہ کوئی بڑا اقدام ہونے والا ہے۔ اخبار کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے کی بات تو بی جے پی کے 2013ء کے انتخابی منشور میں بھی شامل تھی مگر پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد (545 میں 282) کم تھی۔ اس بار یہ تعداد 303 ہو گئی۔ اس طرح مودی کو بھاری اکثریت حاصل ہو گئی۔ آئین میں ترمیم کے لئے کل 545 میں سے کم از کم 363 ووٹ ضروری ہیں۔ بی جے پی کو دوسری ہم خیال پارٹیو ںکے مطلوبہ ووٹ حاصل ہیں اس طرح وہ آئین میں باآسانی مطلوبہ ترمیم کرا سکتی ہے، مگر یہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔
اخبارات میں تفصیل چھپ چکی۔ خود بھارتی قانون بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارتی حکومت یا پارلیمنٹ کو کشمیر کی آئینی پوزیشن تبدیل کرنے کا کوئی مینڈیٹ ہی حاصل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئین کی دفعہ -35 اے، اور 370 میں صاف کہا گیا  ہے کہ جموں و کشمیر کی پوزیشن کے بارے میں طے شدہ معاہدہ کے لئے بھارتی حکومت کو کشمیر کی اُس وقت کی آئین ساز اسمبلی کی اجازت لینا پڑے گی۔ بھارتی حکومت نے معاہدہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ریاست کا آئین بنانے کے بعد ختم ہو گئی۔ اس طرح یہ معاہدہ مستقل طور پر مستحکم ہو گیا۔ اب اسے نہیں چھیڑا جا سکتا۔ یہی بات بھارت پنجاب کا وزیراعلیٰ امریندر سنگھ، سابق وزیرخارجہ یشونت سنگھ سنہا اور بھارتی قانون دان کہہ رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر مودی حکومت کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھارتی حکومت کا دائر کردہ یہ کیس دوبار خارج ہو چکا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے عوام پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم اور اب حالیہ اقدام پر سعودی عرب، عرب امارات سمیت تمام عرب ممالک بالکل خاموش ہیں۔ ان ممالک کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری ہے۔ وہ اسے خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ سعودی عرب نے نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا، عرب امارات نے ابوظہبی میں ہندوئوں کے دو بڑے مندر تعمیر کرائے اور کروڑوں کے اخراجات سے ہندو دیوتا اور دیویوں کی مورتیاں فراہم کیں۔
٭کچھ دوسری خبریں: لاہور: احتساب عدالت نے آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے جرم میں شہباز شریف کے دوسرے بیٹے سلمان شہباز کو گرفتار کر کے 10 اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ مریم نواز کو آٹھ اگست کو طلب کیا گیا ہے۔ ان دونوں کی مبینہ طور پر کروڑوں کی خفیہ جائیداد کا انکشاف ہوا ہے۔ حمزہ شہباز پہلے ہی زیر حراست ہے۔
٭پاکستان کی ہندو کونسل کا قابل تحسین اقدام! پاکستان کے یوم آزادی پر پارلیمنٹ کے اندر 60 فٹ لمبا، 40 فٹ چوڑا خوبصورت پاکستانی پرچم لگا دیا ہے۔ پورا جھنڈا سبز اور سفید غباروں سے مزین ہے۔ اس پرچم میں 60 ہزار غبارے لگائے گئے ہیں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے تین درجن سے زیادہ عملے نے حصہ لیا۔ تحریک انصاف کے ایم این اے ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اپنی نگرانی میں اسے تیار کرایا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا بھر میں لہرانے والا سب سے بڑا پرچم ہے۔ اس سے قبل لاہور کے ہاکی سٹیڈیم میں پوری ہاکی گرائونڈ پر دنیا کا سب سے بڑا پرچم بنایا گیا تھا مگر وہ لہرایا نہیں سکتا تھا۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے کہ اس پرچم سے پاکستان کے ساتھ ہندو برادری کی محبت کا واضح اظہار ہوتاہے۔ڈاکٹر رمیش کمار اور ہندو برادری کے لئے بھرپور اظہار تحسین۔
٭ایک ایک کمرے میں رہنے، کچھ بیوائوںاور معذور افراد کے خاندانوں میں رمضان المبارک کا پورا راشن اور عیدالفطر پر بچوں کے لئے کپڑے اور جوتے تقسیم کئے گئے تھے۔ اب عیدالاضحی کے موقع پر بھی ان خاندانوں کی طرف سے بچوں کے کپڑوں وغیرہ اور عید کے لوازمات کے لئے امداد کی اپیل آئی ہے ان سے میرے نمبر 03334148962کے ذریعے رابطہ قائم ہو سکتا ہے۔
٭مقبوضہ کشمیر کے تین وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کو ترجیح دے کر سنگین غلطی کی! یہ غلطی ان لوگوں کو مسلسل مار کھانے کے بعد یاد آئی ہے۔ ان لوگوں کے اقتدار کے دور میں مقبوضہ کشمیر کے بے بس عوام پر جو بیتی، اس کا کون اور کیا ازالہ کرے گا۔ ایک لاکھ کشمیری شہید، ایک لاکھ جیلوں میں اورلاپتہ، اتنے ہی زخمی!! ان لوگوں کو اب یاد آ رہا ہے کہ پاکستان کا ساتھ نہ دے کر کیا غلطی کی تھی۔٭میکسیکو کے شہر پورٹوریکو کے میئر جابر جیمز نے شہر میں صاف پانی کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ گزشتہ روز شہریوں نے اس کے دفتر پر ہلّہ بول کر اسے پکڑ لیا اور زنانہ لباس پہنا کر شہر کا چکر لگوایا۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سواری کیا تھی اور یہ کہ شہر میں گھمانے کا کیا اثر ہوا!؟ ادھر پنجاب میں 56 کمپنیاں اربوں کھا گئیں، صاف پانی کی ایک بوند بھی فراہم نہ ہوئی مگر یہ اسی طرح آرام سے زندگی گزار رہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں