09:30 am
سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

09:30 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
یاد رہے اس پہلے بھی 1948 ء میں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ اٹیلی(26جولائی 1945ء تا 26 اکتوبر1951ء )نے جواہر لال نہرو کی دولت مشترکہ سے نکلنے اور روسی کیمپ میں جانے کی دھمکی پرفوری طورپرلارڈمانٹ بیٹن کویہ ذمہ داری سونپی کہ ہرحال میں پاکستان کے کشمیرپر ممکنہ حملے کے یقینی قبضے کوختم کرانے کیلئے فوری اقدام کئے جائیں جس کے نتیجے میں انہوں نے اس وقت کے پاکستانی وزیرِخارجہ سرظفراللہ کوٹیلیفون پربرطانوی وزیراعظم کا کشمیرپر حملے کی منسوخی کاذاتی پیغام پہنچایااورساتھ ہی اس بات کایقین بھی دلایا کہ نہرونے کشمیری عوام کوحقِ رائے دہی کایقین بھی دلایاہے۔اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی سوئے ہوئے تھے،ان کوجگاکرچوہدری ظفراللہ نے برطانوی وزیراعظم کی اس خواہش سے نہ صرف مطلع کیا بلکہ اس کوقبول کرنے پراصرار بھی کیا۔اس واقعے کی گواہی امت مسلمہ کی ایک مشہورجانی پہچانی شخصیت محمد اسدجن کی علمی اورفکری میدان میں گراں قدر خدمات اورپاکستان کے قیام اور تعمیر میں نمایاں خدمات سے ساری دنیاواقف ہے،اپنی کتاب میں ’’ہم نے کشمیرکیسے کھویا‘‘کے باب میں لکھاہے: ’’ہندوستان کے برطانوی حکمران،تحریک احمدیت کوبڑی پسندیدگی کی نظرسے دیکھتے تھے کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے پیرکاروں کو ہمیشہ برسرِ اقتداراسلامی یاغیراسلامی حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری کی سخت تاکیدکررکھی تھی،یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت کے مقتدر اصحاب، جماعتِ احمدیہ کے اراکین کی ہرطرح سے حمائت کرتے تھے۔ سر ظفراللہ بھی ایک بااثر قادیانی تھا،وہ تمام عمرانگریزوں سے زیادہ برطانیہ کے خدمت گزاررہا‘‘ آگے چل کرفرماتے ہیں ’’یہی سوچ کروہ پاکستانی افواج کو پونچھ سے ہٹا کر بین الاقوامی سرحد پر بھجوانے میں کامیاب ہوگیا۔یہ خطرہ ٹلتے ہی نہرو فوری استصواب رائے کرانے کے وعدے سے منحرف ہوگیا۔یہ اتنابڑاقومی المیہ تھاکہ جس کی تلافی نہیں ہوسکتی تھی۔پونچھ میں ہندوستانی افواج نے خود کومحفوظ کرلیاجبکہ پاکستان نے ایک نادرموقع کھودیا جو قوموں کی زندگی میں کبھی کبھارآتاہے۔‘‘
’’لیاقت علی خان کاحکم نامہ پونچھ کے گردونواح محاذِجنگ پرتعینات پاکستانی فوجیوں پربم بن کرگرا۔جب انہیں علم ہواکہ حملہ منسوخ کردیا گیا ہے،تو وہاں موجودبہت سے افسراور جوان پھوٹ پھوٹ  کررونے لگے۔کشمیر کو ہندوں کے تسلط سے آزاد کرانے اوراسے پاکستان کاحصہ بنانے کاانہوں نے جوخواب دیکھاتھا،وہ چکناچورہوگیا‘اس صدمے کے بعد میجرجنرل حمید نے خودکوہیڈکوارٹرمیں بندکرلیا‘اس کے بعدوہ فوج سے مستعفی ہو گئے‘‘۔ 
’’پھر 1962ء میں جب بھارتی فوج چین کی سرحدوں پرالجھی ہوئی تھی اورچینی لیڈروں نے جنرل ایوب خان کومشورہ دیاتھا کہ وہ فوجی کارروائی کرکے کشمیرکوبھارت کے قبضے سے چھڑا لیں تواس وقت بھی امریکی وبرطانوی حکام کاپاکستان میں تانتابندھ گیاتھا، انہوں نے جنرل ایوب خان کوٹریپ کرلیااوروہ کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے سے گریزاں رہے۔ مشہورِ زمانہ بھٹوسورن سنگھ مذاکرات اسی زمانے میں ہوئے۔جونہی بھارت کے تعلقات میں بہتری پیداہوئی، نہرونے مذاکرات ختم کرنے کااشارہ دے دیا۔‘‘(ماخوذ:محمد اسد، بندہ صحرائی خودنوشت سوانح عمر ۔ مرتب:پولا اسد، محمداکرام چغتائی‘علامہ محمداسد کی خودنوشت پڑھ کر محسوس ہوتاہے کہ ہمارے قومی مجرم کون ہیں۔
 یادرکھیں جوقومیں اپنی تاریخ سے اغماض برتتی ہیں ان کاجغرافیہ تبدیل ہونے میں کوئی دیرنہیں لگتی۔ سیدعلی گیلانی جیسا مردِ مجاہد شروع دن سے ہندو استعمارکی تمام چالوں کو ناکام بنایاچکاہے اوروہ برطانیہ اورامریکہ کی کشمیردوستی کوبھی خوب سمجھتے ہیں۔پچھلے کئی برسوں سے پاکستانی موقع پرست قیادت بھی ان کے مئوقف میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکی۔یادرہے جب اس ملک کے ناجائزحکمران کمانڈوفاسق جنرل پرویز مشرف نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے مسئلہ کشمیرپریوٹرن لیاتھاتوسب سے پہلے اس اولوالعزم بوڑھے قائدنے سینہ تان کرمشرف کونہ صرف کھری کھری سنائیں تھیں بلکہ اس کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی انکارکردیاتھاحالانکہ پاکستان سے ان کی محبت کامیں خود گواہ ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی سرزمین کوحرمین کے بعدجانا اور ماناہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے پاکستانی عوام کوکشمیریوں سے یکجہتی کااظہارکرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں اورپاکستانی پریس کواس طرف متوجہ کرناہوگاکہ کشمیری لاوارث نہیں ہیں اورہم ہرحال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں پھراس کے بعدہی عالمی طاقتوں کواس طرف راغب کرناہوگا کہ اس خطے سے دنیاکاامن منسلک ہے اورہمیں اپنی اس ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے کشمیریوںسےیکجہتی کااظہارفوری کرناہوگا۔کیا وزیراعظم  عمران خان نے اپنے امریکی دورے کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیراور کشمیریوں پربھارتی ظلم وستم کی سفاکی کواپنے ایجنڈے میں سرفہرست شامل کیاہے؟ مجھے یقین ہے وزیراعظم عمران خان بھی تاریخ کے ان قومی مجروں کے جرائم سے واقف ہوں گے اوروہ یقینا ً تاریخ میں اپنانام ان قومی مجرموں کے ساتھ لکھاپسندنہیں کریں گے۔

تازہ ترین خبریں