09:31 am
 کشمیرکی صورت حال اور پاکستان

 کشمیرکی صورت حال اور پاکستان

09:31 am

مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کا فیصلہ کن موڑ آچکا ہے ۔ستر سال سے جاری جدوجہد کے  خلاف بھارتی بربریت نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی  لیکن بھارت کواخلاقی ،سیاسی اور سفارتی محاذپر شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔ بھارت نے اپنی توسیع پسندی جاری رکھنے ہوئے جونا گڑھ ، مناوادر اور حیدرآبادپر قبضے کی طرح اپنے زیر قبضہ واحد مسلم ریاست کو بھی آئینی اور قانونی حقوق سے محروم کردیا ۔
 
5اگست  2019تاریخ میں سیاہ ترین دن شمار کیا جائے گا۔ جب بھارت نے اپنے ہی آئین کی نفی کرتے ہوئے یہ کہہ کر ’’ کہ ہم نے تاریخی غلطی درست کردی ‘‘ ایک تاریخی غلطی کردی۔ 
بھارت نے اپنے قیام کو غلط اور دوقومی نظریہ کو درست ثابت کیا ۔ قائد اعظم کی سکھ رہنمائوں کو یہ نصیحت کہ ’’ ہندو غلامی میں انتہائی عاجز اور حکومت میں بدترین ظالم ہوتاہے ۔‘‘ نریندرا مودی کے گجرات میں  مسلمانوں کے قاتل نے پانچ ہزار مسلمانوں کو زندہ جلاکر شہید کرکے کیا ،موجودہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا ہ وہ شخص ہے ۔جس نے تحریک آزادی کشمیر اورپاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پلوامہ میں کار بم دھماکے سے 350 سے زائد CRPFکے دلت اور سکھ اہلکاروں کو قتل کروایاجس کی وڈیو دنیا دیکھ  چکی ہے۔گجرات میں مسلمانوں اور پلوامہ جیسے سانحات کے خالق مودی او رامیت شاہ کا گٹھ جوڑ کشمیر میںمسلمانوں کے ہولوکاسٹ کا پروگرام تیز کرچکے ہیں ۔نام نہاد سیکولرزم ،ہندوکی نرم دلی جعلی عاجزی کے دلدادہ ، مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت کی گود میں ڈالنے والے کشمیری سیاستدان آج پشیمان ہیں کہ ان کے بڑوں نے قائد اعظم کا ساتھ نہ دیکر سنگین غلطی کی ۔سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو بی جے پی کی اتحادی بھی تھی، نے اپنے بیان میں دو قومی نظریہ کو درست قراردیا ۔
بھارت کی کل 14لاکھ لڑاکا فوج میںسے آٹھ لاکھ پچھہتر ہزار فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں موجودہے جس میں گذشتہ ہفتے میں بھیجے ہوئے 38ہزار فوجی شامل ہیں اور پانچ اگست کی شام مزید آٹھ ہزار سپیشل کمانڈوز بھیجنے کا اعلان کیا گیا۔ اب ہر 10نہتے اور معصوم کشمیری بزرگوں ،عورتوں اور بچوں کے خلاف  ایک بھارتی فوجی موجود ہے ۔خفیہ ایجنسیوں ،آرایس ایس ،بجرنگ دل ،کے انتہا پسند ان کے علاوہ ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف کشمیریوں کی نسل کشی اور ہندو آبادی میں اضافہ ہے ۔ 
بھارت بنیادی طور پرا یک بزدل ملک ہے  جو صرف مکاری اور سازشوں سے دھوکہ دیتا ہے ۔ اس نے مجبوری میں شیخ عبداللہ کو دھوکہ دے کر ریاست کو خود مختار درجہ دیا ۔ کچھ وقت گذرنے پرصدرا ور وزیر اعظم کی بجائے بھارتی گورنر اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بنائے گئے ۔آٹھ دفعہ گورنر راج نافذکیاگیا اور اب براہ راست دلی کے ایک معمولی افسر کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کا عہدہ بناکر ریاست کو مکمل غلام بناکر ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کا پروگرام شروع کردیا گیا ۔ 
پاکستان میں بھارت نواز لابی کی اقتدار سے محرومی نے بھارت کیلئے مسائل پیدا کردیئے کیونکہ موجودہ حکومت کے آغاز سے ہی مسئلہ کشمیر بین الاقوامی فورم پر دوبارہ اجاگر ہونا شروع ہوگیا ۔اس حکومت  نے افغان مسئلے کیلئے حل کیلئے کھل کر عملی اقدامات کئے ۔سفارتکاری میں زیادہ متحرک ہوکر چین اور روس  سے تعلقات کو بہتر سے دوستانہ بنانے کی کوشش کی جو کہ بھارت کیلئے پریشان کن ہے ۔ 
پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ میں مسئلہ کشمیر کو پچاس کی دھائی جیسی پذیرائی ملی ۔ امریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم کی ثالثی کی درخواست کا بیان دیا جس پر انتہاپسند بھارتی نہ صرف آگ بگولہ بلکہ مکمل  بدحواس ہوگئے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل نظر اندازکرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد پاکستان بجائے سنجیدگی سے ممکنہ بھارتی اقدامات کے بارے میںعملی قدم اُٹھاتا ۔اس کے کرتا دھرتائوں نے کامیاب دورے کے راگ الاپنا شروع کردیئے ۔ 
افغانستان میںامریکہ سے تعاون کا مطلب  وہاںسے بھارتی کردار کاخاتمہ اور اس کی چھٹی ہے  جبکہ بھارت نے وہاں پراربوںڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔ وہاں پر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے اڈے بنائے ہوئے ہیں ۔ طالبان کی پہلی حکومت کے دور میں بھارتیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا تھا  جبکہ موجود افغانی حکومت اس کی پٹھو تصور کی جاتی ہے ۔ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کے تعاون سے امریکہ انخلا اورنئی افغانی حکومت بھارت مخالف ہوگی اور وہاں سے فارغ ہونے والے حریت پسند 1947-48کی طرح اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے پہنچ جائیں گے جوبھارت کی بدترین شکست کا باعث ہوگا ۔یہ تصور ہی بھارت کے خوفناک اور ناقابل یقین ہے ۔ ان امور پرسوچنے اور عملی اقدامات کی بجائے حکومتی نمائندے کامیاب دورے کے ڈھول پیٹتے رہے ۔ جس کا نتیجہ سامنے ہے ۔مقبوضہ جموں وکشمیر اور ایل او سی پر نہائت سنجیدہ صورتحال فوری طورپر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ  (1) فوری طورپر انتہائی ماہر سابقہ اور موجود ہ سفارت کاروں کا اجلاس بلایا جائے اور ان سے تمام ممکنہ اقدامات کے بارے میں مشورہ کیاجائے ۔ (2 )اقوام متحدہ ،سکیورٹی کونسل کے تمام ممبر ممالک سے مسلسل رابطے کیلئے ہنگا می اقدامات کئے جائیں اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔(3) ان ممالک میںبھیجے جانے والے وفود میں وزیروں اورمشیروں کی فوج کی بجائے جس طرح زرداری دور میں بھیجے گئے ،کی بجائے وزارت خارجہ کے سابقہ اور موجودہ ماہرترین سفارتکار شامل کئے جائیں جو مسئلہ کشمیر کی نزاکت اور اہم ترین امور پر مکمل عبور رکھتے ہوں اور سفارتکاری کے پروٹوکول کا بہترین تجربہ رکھتے ہوں ۔(4)چین اور روس میںخصوصی وفود بھیجے جائیں اور ان سے بہترین دوستانہ انداز میںمدد طلب کی جائے ۔یہ دو ممالک پاکستان کیلئے وہ کرسکتے ہیں جوکوئی دوسرا نہیں کرسکتا ۔ ان سے تعاون اور ان کے خلوص کا اندازہ کرنے کا اس سے بہترین موقع پاکستان کی تاریخ میں ناممکن ہے ۔ (5)پاکستان کی پارلیمنٹ کی طرف کشمیری بھائیوں سے یکجہتی اور ان کیلئے کچھ بھی کر گذرنے کا پیغام پوری دنیا کیلئے ہے ۔ کہ کشمیری پاکستان کے دلوں میںہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں علیحدہ نہیںکرسکتی (لیکن زیادہ سے زیادہ ضرورت بیانا ت کی نہیں عملی اقدامات کی ہے )
اس دوران اداروں اور ذمہ داروں کو  اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ ہماری صفوں میں وہ کون ہیںجو پاکستان اورکشمیریوں کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں اور اس عظیم مقصد کو اپنی غیر سنجیدہ حرکتوںاور اقدامات کے ذریعے ثبوتاژ کرنے کاسبب بن رہے ہیں ۔حج افضل عبادت ہے لیکن انسانیت کی خدمت اور قومی مقصد جبکہ لاکھوں مسلمانوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوں اسے عمرے میں تبدیل کیاجاسکتا ہے ۔حکومتی  اہلکاروں کی بین الاقوامی امور پر دسترس اور اقابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ بھارتی اسمبلی اور میڈیا میں عالمی عدالت میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کیے جارہے ہیں ۔بھارتی  وزیر داخلہ اور خارجہ دونوں ممالک کے دوران معاہدہ شملہ اور اعلان لاہور کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ان کے مطابق باہمی بات چیت سے حل ہوگا۔ تیسرے فریق کی ضرورت نہیں۔

تازہ ترین خبریں