09:34 am
حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

09:34 am

حجاج و معتمرین ان میں سے موقع کی مناسبت سے وہ نیتیں کر لیں جن پر عمل کرنے کا واقعی ذہن ہو۔ 

1۔ صرف رِضائے الٰہی پانے کیلئے حج کروں گا۔ (قبولیت کیلئے اخلاص شرط ہے اور اخلاص حاصل کرنے میں یہ بات بہت معاون ہے کہ جب ریاکاری اور شہرت کے تمام اسباب ترک کر دیئے جائیں۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ’’لوگوں پر ایسا زمانہ آئیگا کہ میری اُمت کے اغنیاء (یعنی مالدار) سیر و تفریح کیلئے اور درمیانے دَرَجے کے لوگ تجارت کیلئے اور قراء ( یعنی قاری) دِکھانے اور سنانے کیلئے اور فقراء مانگنے کیلئے حج کرینگے۔ (تاریخ بغداد ج10، ص 295)
 
2۔ اِس آیت مبارکہ پر عمل کروں گا : ’’وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہ‘‘… (پ2، البقرۃ:196)۔ ترجمہ کنزالایمان : ’’حج اورعمرہ اللہ کیلئے پورا کرو‘‘۔
3۔  (یہ نیت صرف فرض حج کرنے والا کرے) اللہ عزوجل کی اطاعت کی نیت سے اِس حکم قرآنی:  ’’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً‘‘… (پ4، آل عمران:97) ۔ ترجمہ کنزالایمان: ’’اور اللہ کیلئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے‘‘ پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔
4۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں حج کروں گا۔
5۔ ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا۔ (بیوی شوہر کو رِضامندکرے، مقروض جو ابھی قرض ادانہیں کر سکتا تو اُس ( قرض خواہ) سے بھی اجازت لے، اگر حج فرض ہوچکا ہے تو اِجازت نہ بھی ہو تب بھی جانا ہوگا، (ملخص ازبہارِ شریعت ج1، ص1051)، ہاں عمرہ یا نفلی حج کیلئے والدین سے اِجازت لئے بغیر سفرنہ کریں۔ یہ بات غلط مشہورہے کہ جب تک والدین نے حج نہیں کیا اولاد بھی حج نہیں کرسکتی)۔
6۔ مالِ حلال سے حج کروں گا۔ ( ورنہ حج قبول ہونے کی اُمید نہیں اگرچِہ فرض اُتر جائیگا، اگر اپنے مال میں کچھ شبہ ہو تو قرض لیکر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے (اُسی مشکوک) مال سے ادا کر دے۔(ایضاً) حدیث شریف میں ہے: ’’جو مالِ حرام لیکر حج کو جاتا ہے جب لبیک کہتا ہے، ہاتف غیب سے جواب دیتا ہے: ’’نہ تیری لبیک قَبول، نہ خدمت پذیر (یعنی منظور) اور تیرا حج تیرے منہ پر مردود ہے، یہاں تک کہ تو یہ مالِ حرام کہ تیرے قبضے میں ہے اُس کے مستحقوں کو واپس دے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج23، ص 541) )
7۔ سفر حج کی خریداریوں میں بھائو کم کروانے سے بچوں گا۔ (میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رَحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’بھاؤ (میں کمی) کیلئے حجت ( یعنی بحث و تکرار) کرنا بہتر ہے بلکہ سنت، سوا اُس چیز کے جو سفر حج کیلئے خریدی جائے، اِس (یعنی سفر حج کی خریداریوں) میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دیدے۔ (فتاویٰ رضویہ ج17، ص128) 
8۔ چلتے وقت گھروالوں، رشتے داروں اور دوستوں سے قصور معاف کراؤں گا ، ان سے دُعا کروائوں گا۔ (دوسروں سے دُعا کروانے سے برکت حاصل ہوتی ہے، اپنے حق میں دوسرے کی دُعا قبول ہونے کی زیادہ اُمید ہوتی ہے۔ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو خطاب ہوا: اے موسیٰ! مجھ سے اُس منہ کیساتھ دُعا مانگ جس سے تو نے گناہ نہ کیا۔ عرض کی: الٰہی! وہ منہ کہاں سے لاؤں؟ (یہاں انبیاء علیہم السلام کی تواضع ہے ورنہ وہ یقینا ہر گناہ سے معصوم ہیں) فرمایا: اَوروں سے دُعا کرا کہ اُن کے منہ سے تو نے گناہ نہ کیا۔ (ملخص اَزمثنوی مولانا روم دفتر سوم ص31)
9۔ حاجت سے زائد توشہ (اَخراجات) رکھ کر رفقاء پر خرچ اور فقرا پر تصدق (یعنی خیرات) کر کے ثواب کماؤں گا۔ (ایسا کرنا حج مبرور کی نشانی ہے) مبرور اُس حج اور عمرہ کو کہتے ہیں جس میں خیر اور بھلائی ہو، کوئی گناہ نہ ہو، دِکھاواسنانا نہ ہو، لوگوں کیساتھ اِحسان کرنا، کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا، سلام پھیلانا، خوش خلقی سے پیش آنا، یہ سب چیزیں ہیں جو حج کو مبرور بناتی ہیں جبکہ کھاناکھلانا بھی حج مبرور میں داخل ہے تو حاجت سے زیادہ توشہ ساتھ لو تاکہ رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر تصدق بھی کرتے چلو۔ اصل میں مبرور ’’بر‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی اُس اطاعت اور اِحسان کے ہیں جس سے خدا کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ (کتاب الحج، ص98) 
10۔ زبان اور آنکھ وغیرہ کی حفاظت کروں گا۔ (نصیحتوں کے مدنی پھول صفحہ 29 اور 30پر ہے: (۱)حدیث پاک ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’اے ابن آدم! تیرا دِین اُس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک تیری زبان سیدھی نہ ہو اور تیری زبان تب تک سیدھی نہیں ہو سکتی جب تک تو اپنے رب عزوجل سے حیا نہ کرے۔ (۲) جس نے میری حرام کردہ چیزوں سے اپنی آنکھوں کو جھکا لیا (یعنی انہیں دیکھنے سے بچا) میں اسے جہنم سے امان (یعنی پناہ) عطاکر دوں گا۔
11۔ دَورانِ سفر ذِکر و درود سے دل بہلاؤں گا۔ (اس سے فرشتہ ساتھ رہے گا! گانے باجے اور لغویات کا سلسلہ رکھا تو شیطان ساتھ رہے گا)۔
12۔ اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کیلئے دُعا کرتا رہوں گا۔ (مسافر کی دُعا قبول ہوتی ہے، نیز ’’فضائلِ دُعا‘‘ صفحہ 220پر ہے: ’’مسلمان کہ مسلمان کیلئے اُسکی غیبت (یعنی غیرموجودگی) میں (جو) دُعا مانگے (وہ قبول ہوتی ہے)‘‘۔ حدیث شریف میں ہے: یہ (یعنی غیرموجودگی والی) دُعا نہایت جلد قبول ہوتی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: اُس کے حق میں تیری دُعا قبول اور تجھے بھی اِسی طرح کی نعمت حصول۔
12۔ سب کے ساتھ اچھی گفتگو کروں گا اور حسب حیثیت مسلمانوں کو کھانا کھلاؤں گا۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ’’مبرور حج کا بدلہ جنت ہے‘‘۔ عرض کی گئی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! حج کی مبروریت کس چیز کیساتھ ہے؟ فرمایا: ’’اچھی گفتگو اور کھانا کھلانا‘‘۔ (شعب الایمان ج3، ص479، حدیث4119)
14۔ پریشانیاں آئیں گی تو صبر کروں گا۔ (حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں: مال یا بدن میں کوئی نقصان یا مصیبت پہنچے تو اُسے خوشدلی سے قبول کرے کیونکہ یہ اِس کے حج مبرور کی علامت ہے۔ (اِحیاء العلوم، ج1، ص 354)۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں