09:35 am
سینیٹ میں عدم اعتماد

سینیٹ میں عدم اعتماد

09:35 am

پاکستان کی ’’جمی جمائی‘‘ سیاسی جماعتوں کی قیادت موروثی ہے۔ پیپلز پارٹی پر ذوالفقار بھٹو کے ورثاء کا حکم چلتا ہے(اور آصف زرداری جیسے سمجھ دار قیادت کے لیے برخورداری کا راستہ اختیار کرتے ہیں)۔ یہی حال مولانا مفتی محمود اور باچا خان کی پارٹیوں کا ہے اور اب نواز شریف کی جماعت بھی خاندانی جاگیر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم اس سے مستثنیٰ ہیں، تاہم ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخ کے مکروہ ترین قاتلوں میں شامل ایک شخص کے ہاتھوں یرغمال رہی۔ جب تک برطانیہ کے مفاد میں ہے وہ اس عفریت کو پناہ میں رکھے گا۔ امید ہے بریگزیٹ کے بعد اسے بھی پاکستان کا راستہ دکھا دیا جائے گا ،  یہاں کئی لوگ بے چینی سے اس کی آمد کے منتظر ہیں۔ 
 
انتخابات میں عمران خان کی کامیابی نے گزشتہ پچاس برسوں سے جاری سیاسی نظام کو چیلنج کیا۔ سیاست کو اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کے لیے استعمال کرنے والے خوش نما نعروں اور شعلہ بیانی کی آڑ میں قوم کو گمراہ کرتے رہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت ’’پارلیمانی جمہوریت‘‘ کے برطانوی تصور کو پوری طرح سمجھتے ہی نہیں کہ یہ نظام دولت کی ہوس میں مبتلا خاندانوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذریعہ ہے، جہاں یہ بظاہر تو ایک دوسرے کے خلاف انتخابات کے میدان میں اترتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ایک دوسرے کے شراکت دار بن جاتے ہیں۔ ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ اقتدار کے حصول کے لیے بنائے گئے ایک شاطرانہ منصوبے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل جاری تھا اور اسی لیے اس نظام میں تبدیلی کے اٹھنے  والی کسی بھی آواز کے خلاف ایک دہائی سے متحد ہیں۔ مشترکہ مفادات کا تحفظ اس گٹھ جوڑ کی بنیاد تھا۔  
2008 سے 2018 کی دہائی میں معیشت زوال پذیر رہی لیکن قومی دولت سے جیبیں بھرنے والے  دو خاندان امیر سے امیر تر ہوتے رہے۔ یہ خاندانی سیاسی جماعتیں اپنے ساتھ کھلی اقربا پروری، سیاسی وفاداریوں اور رشوت کی بنیاد پر ملازمتوں کی فروخت، دھوکا دہی، جھوٹ اور فریب کاری، جائیداد کی غیر قانونی منتقلی وغیرہ کے کلچر کو فروغ دیتی رہیں۔ سیاسی و ذاتی انتقام کے لیے من چاہا ’’احتساب‘‘ کرکے انہوں نے اس تصور ہی کو بدنام کردیا۔ 
ہمارے فوجی حکمران پاکستانی جمہوریت کا درست تجزیہ کرنے  میں کام یاب رہے لیکن اپنے اقتدار کو طول دینے کی خواہش میں ان سے غلطیاں ہوئیں۔ ایوب خان کا خیال تھا پاکستان میں برطانوی طرز کی جمہوریت نہیں چل سکتی اس لیے انہوں نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا نظام وضع کیا۔ اس کے باوجود ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان کے اقتدار میں پاکستان تاریخی رفتار سے ترقی منازل طے کیں اور اسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ماڈل قرار دیا جانے لگا۔ ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہورت کے نام پر کی گئی فریب کاری کو بے نقاب کیا، یاد رہے کہ 1973کا آئین اپنے نفاذ کے چند گھنٹوں کے اندر ہی غیر مؤثر بنا دیا گیا تھا لیکن ضیاء الحق نے اسلام کے بارے میں اپنا نقطہ نگاہ  ملک پر تھوپنے کے لیے بے پناہ خرابی پیدا کی۔ قانون کو اسلامیانے اور جہادی نظریات کی ترویج میں ان کی غلطیوں کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ 
جنرل مشرف سیاسی اصلاحات اور احتساب کے واضح ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں آئے لیکن انہوں نے اپنی انا اور مقاصد پر سب کچھ قربان کردیا۔ مشرف دور اتنا تباہ کُن ثابت ہوا کہ بالآخر فوج کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ریاست چلانا ان کے بس کا کام نہیں، بلکہ کارِ حکومت ہاتھ میں لینے سے ادارے کے نظم و ضبط اور اثر پذیری متاثر ہونے  کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر دیانت و امانت کے حوالے سے ادارے کی شناخت بھی مجروح ہوتی ہے۔ مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاست دانوں کی لوٹ مار سے چشم پوشی کرتے ہوئے  این آر او جیسا کالا قانون گوارہ کیا۔ اسی قانون کی بدولت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پرانے کرتب باز ایک دہائی تک برسر اقتدار رہے۔ 
 حکومت چلانے کا سیاسی تجربہ نہ ہونے کے باوجود عمران خان کی صورت میں ہمیں ایسا متبادل میسر آیا جو جاگیردارانہ خاندانی پس منظر نہیں رکھتا۔ ان کی حکومت کو مشکوک کردار کے حامل کئی ’’الیکٹیبلز‘‘ ، برادری اور خاندانوں کی حمایت حاصل ہے مگر پھر بھی  گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں عمران کی حکومت زیادہ معتبر  اور قابل اعتماد ہے۔ سیاسی اصلاحات کے بارے میں عمران خان کے ظاہر کردہ عزائم نے سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کو اس قدر خوف زدہ کردیا کہ وہ ’’جمہوری کھیل‘‘ کے تحفظ کے لیے ایک صف میں آکھڑے ہوئے۔ انھیں جب اندازہ ہوا کہ 2018کے انتخابی نتائج کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوششیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں تو انہوں نے حکومت کو نامعتبر کرنے کے لیے جان مارنے کی ٹھانی۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں