09:36 am
پورا نام اور ہندوستان پر حملہ؟

پورا نام اور ہندوستان پر حملہ؟

09:36 am

وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کو بتایا کہ ان کا پورا نام ’’عمران احمد خان نیازی‘‘ ہے، جناب عمران احمد خان نیازی نے سپیکر اسد قیصر سے مخاطب ہوکر یہ بھی کہا کہ ’’یہ (اپوزیشن) مجھے بتادے کہ میں اور کیا کروں؟ کیا میں ہندوستان پر حملہ کردوں‘‘ یاد رہے کہ منگل کو ہونے والا پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس کشمیر کے معاملے پر تھا۔ اس اجلاس سے ’’کشمیر‘‘ کے لئے ’’مشترکہ‘‘ کیا برآمد ہوا؟ اگر کوئی حکومتی ’’ارسطو‘‘ قوم کو بتاسکے تو ضرور بتائے، کیا کبھی کسی نے ایسا ’’طاقتور، دانا، معاملہ فہم‘‘ اور عالمی حالات پر کڑی نظر رکھنے والا وزیراعظم ستر سالوں میں پہلے بھی کبھی  دیکھا ہے کہ جو کشمیر میں جاری موت کے رقص اور سرحدوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات کے دوران اپوزیشن سے پوچھتا ہے کہ وہ اسے بتائے کہ ان حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے، کیا وہ ہندوستان پر حملہ کر دے ؟
 
بالکل بھی نہیں جناب عمران احمد خان نیازی ہم نے آپ کا پورا نام اس لئے لکھا تاکہ آپ ناراض نہ ہوں۔  بالکل بھی نہیں، توبہ، توبہ، ہندوستان پر حملہ اور وہ بھی آپ کریں گے؟ کیسے ممکن ہے لیکن جان کی امان ملے تو عرض کروں کہ جناب وزیراعظم! آخر آپ ہی اس قوم کو بتائیں کہ کشمیر کی موجودہ خوفناک صورتحال میں ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ مظلوم کشمیریوں کی جان ومال اور عزت و آبرو کو بچانے کے لئے آپ نے اب تک کیا کیا ہے یا مزید کیا کرسکتے ہیں؟
ہمیں معلوم ہے کہ ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے محمود غزنویؒ کا دل چاہیے، محمد بن قاسمؒ کا وژن چاہیے، جس سے آپ مکمل طور پر کورے ہیں ، آپ کشمیر کے جہادیوں پر پابندیاں تو لگاسکتے ہیں۔ دہلی کے مطالبے پر کشمیر کے جہاد کو حرز جاں بنانے والے پاکستانیوں کو جیلوں اور ٹارچر سیلوں کا رزق تو بناسکتے ہیں، یہ آپ ہی عالمی میڈیا کو کہتے پھرتے ہیں کہ جہادی تنظیمیں بناکر پاکستان نے غلطی کی تھی۔ پاک فوج کی موجودگی میں پرائیویٹ جہاد  کا تصور غلط ہے۔ اب  مقبوضہ کشمیر کو بدمعاش نریندر مودی انسانوں کے مذبح خانے میں تدبدیل کرچکا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے جس کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اس کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کے لئے آپ ’’ریاستی‘‘ جہاد کے آغا کا اعلان کب کریں گے؟ میرا مشورہ ہے کہ بلاول زرداری سمیت جس جس ’’ارسطو‘‘ کو پرائیویٹ جہاد اور جہادی تنظیموں پر اعتراض تھا  ان سب کو ریاست کی طرف سے مقبوضہ کشمیر جہاد کے لئے بھیجا جانا چاہیے۔  اگر وہ مرزا قادیانی ملعون کی تعلیمات سے متاثر ہوکر لفظ ’’جہاد و قتال‘‘ پر ہی معترض ہیں … چلو ’’جہاد‘‘ نہ سہی ، پاکستان کی شہ رگ کو بچانے کے لئے بھارت سے جنگ ہی کریں؟ اور خدا کے بندو! کشمیری بچے ، جوان ،بوڑھے ، ، عورتیں اور مرد بے گناہ ہونے کے باوجودبھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ کیا کشمیریوں کی دامے، درمے، سخنے مدد کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں بنتی؟ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تو حکومت اور اپوزیشن کی طاقت آزمائی کا ایک بہانہ تھا لیکن اس اجلا س کے قوم کو دو فائدے ضرور ہوئے ۔ پہلا یہ کہ چلو دیر سے سہی مگر وزیراعظم کا پورا نام قوم نے جان تو لیا، یعنی عمران احمد خان نیازی  اور دوسرا یہ کہ دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بحال کروانے کا ڈھول پیٹنے والا وزیراعظم اس حد تک بے بس، بے کس، لاچار اور بے چارہ ثابت ہوا کہ جو بے چارگی کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر سوال کررہا ہے کہ ہندوستان کی تمام تر بدمعاشیوں، غنڈہ گردی کے باوجود کیا اسے ہندوستان پر حملہ کر دینا چاہیے؟
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ’’ٹائیں، ٹائیں فش‘‘ تھا  اور وزیراعظم کا اسمبلی میں خطاب ایسا ’’بہادرانہ‘‘ تھا کہ جس کو سن کر پوری قوم ’’خوفزدہ‘‘ ہوگئی۔ پاکستان کے عوام وزیراعظم سے پوچھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیا دنیا کو دکھانے کے لئے بلایا گیا تھا یا پھر کشمیر پر قیامت خیز مظالم ڈھانے والے دہشت گرد بھارت کو پیغام دینے کے لئے؟
بھارتی وزیراعظم کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرچکاہے، بھارتی فوج کے مزید دستے کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں۔ کشمیر کی ساری قیادت کو جیلوں اور گھروں میں نظربند کر دیا گیا ہے اور پاکستانی وزیراعظم ’’دنیا‘‘ کو مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ بھارتی فوج ہر روز دس پندرہ کشمیری مسلمانوں کو قتل کررہی ہے اور پاکستانی وزیراعظم دنیا کو بھارتی نظریہ سمجھانا چاہتا ہے ، وہ کشمیریوں کو خاک و خون میں تڑپا رہا ہے اور یہ ’’امن‘‘ تباہ ہو جانے کی رٹ لگارہا ہے۔
نریندر مودی کی دہشت گردی عروج پر ہے اور عمران احمد خان نیازی کی بے بسی اور بے چارگی دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ حکومت اس ’’ٹرمپ‘‘ سے مدد کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے جس نے بیت المقدس اسرائیل کو تحفے میں دیا۔ وزیراعظم عمران خان اس عالمی برادری کو پکار رہا ہے جس نے افغانستان سے لے کر عراق تک لاکھوں انسانوں کا خون پانی سے سستا سمجھ کر بہایا۔کوئی ایٹمی ملک پاکستان کے وزیراعظم کو بتائے کہ عالمی برادری اگر70 سالوں میں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت نہیں دلواسکتی تو آج وہ بھارت  کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ اپنی مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے خود سروں پر کفن باندھنا پڑتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی موجود صورتحال اسی کی متقاضی ہے۔

تازہ ترین خبریں