09:36 am
ہم نے تتلیوں اور جگنوئوں کے دیس جانا ہے!

ہم نے تتلیوں اور جگنوئوں کے دیس جانا ہے!

09:36 am

٭چین کا بھارت کو سخت انتباہ، لداخ کے بارے میں فیصلہ واپس لے، کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اس بارے میں پاکستان سے مذاکرات کرےO چین کے صدر کا اکتوبر میں بھارت کا دورہO چین کے ساتھ تجارت میں بھارت کو 53ارب ڈالر کا خسارہ O پاکستان کے شہروں میں بھارت کے خلاف پرجوش مظاہرے O آزاد کشمیر اسمبلی کا ہنگامی اجلاسO پاکستان کی پارلیمنٹ کا دوسرے دن کا مشترکہ اجلاسO وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی حج کے بغیر واپسO مقبوضہ کشمیر، کرفیو جاری O بھارت سے ایک معروف ادیب کا فون۔
 
٭محترم قارئین! بہت سی خبریں، بہت سے واقعات! یہ سارا کچھ اخبارات میں موجود ہے۔ میں کچھ دوسری باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ رات مجھے بھارت کے شہر لدھیانہ سے معروف ادیب و صحافی کیول دھیر کا فون آیا۔ کیول دھیر 100 سے زیادہ اُردو ہندی و انگریزی کی علمی و ادبی کتابوں کے مصنف ہیں۔اندرون وبیرون ملک بہت سے اہم ایوارڈ حاصل کئے ہیں۔ ہر سال باقاعدگی سے پاکستان کی ادبی محفلوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کی میرے ساتھ بات چیت پڑھئے۔ پوچھا کہ کشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے اقدام پر پاکستان میں کیا صورت حال ہے؟۔ میں نے کہا کہ پہلے یہ بتایئے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے؟ کہنے لگے کہ عام طور پر جشن جیسی کیفیت ہے۔ لوگ بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں البتہ کانگریس احتجاج کر رہی ہے۔ پنجاب (بھارتی) کے کانگریسی وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے سخت احتجاجی بیان دیا ہے۔ ادھر پاکستان میںکیا ردعمل ہے؟ میں نے کہا کہ سخت اشتعال پھیلا ہوا ہے۔ شہروں میں بھارت کے خلاف پرجوش جلوس نکل رہے ہیں، بھارتی وزیراعظم کے پُتلے اور بھارتی جھنڈے جلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، قومی سلامتی کی کونسل، فوج کے کور کمانڈرز اور آزاد کشمیر کی اسمبلی کے اجلاس ہو رہے ہیں۔ حج کسی بھی مسلمان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی زندگی میں پہلی بار حج کے لئے گئے تھے مگر حالات کی سنگینی کے باعث حج سے پانچ روز پہلے واپس آ گئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس اور دنیا بھر کے سربراہوں کو مراسلے بھیجے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ چین کی طرف سے بھی بھارت کو سخت پیغام بھیجا گیا ہے۔ کیول دھیربولے کہ چین کا صدر تو اکتوبر میں بھارت کے دورے پر آ رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بنارس کے انتخابی حلقے میں چین کے صدر کے ساتھ مذاکرات رکھے گئے ہیں۔ چین کا بھارت سے احتجاج اپنی جگہ مگر دنیا بھر میں چین کی سب سے زیادہ تجارت بھارت سے ہو رہی ہے۔ بھارت کی ہزاروں منڈیاں چینی مال اور مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں، پچھلے مالی سال میں چین کو اس تجارت میں 53 ارب ڈالر کا منافع ہوا ہے وہ اس علاقے کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ اچھا یہ بتائیں کہ آپ ایک سینئر صحافی و سینئر ادیب کے طور پر آئندہ کی صورت حال کا کیا اندازہ لگا رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ کشمیر کب تک کرفیو کی زد میں رہے گا؟ جواب دیا کہ اطلاعات کے مطابق دس روز تک اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ سرکاری ذرائع کے مطابق اس کے بعد صورت حال معمول پر آجائے گی۔ میں نے کہا کہ کیول صاحب! آپ کو شائد اندازہ نہیں کہ اس پکے بعد کیا ہونے والا ہے! بھارت کی سات لاکھ سے زیادہ فوج پچھلے 30 برسوں میں ایک لاکھ کشمیری باشندوں کو قتل اور اس سے زیادہ کو زخمی اورلاپتہ کرچکی ہے مگر سید علی گیلانی نام کے ایک 91 سالہ بوڑھے شخص کو کئی بار جیلوں میں بند کرنے کے باوجود اس کی زبان بند نہیں کر سکی۔ 30 برسوں میںہر قسم کی کارروائی کے باوجود صورتِ حال پر قابو نہیں ہو سکی۔ اب جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور خود مختاری کو ختم کر کے ایسے ایک زیر قبضہ کالونی بنا دیا گیا ہے جس پر گورنر کی بجائے نائب گورنر حکمران ہو گا، لداخ کو کشمیر سے الگ کر دیا ہے۔ اب بھارت کی سینٹ میں کشمیر کا کوئی نمائندہ نہیں جا سکے گا۔ اس کا پرچم ختم کر دیا گیا ہے۔ کیا کرفیو ختم ہونے پر یہ کشمیر کے لوگ خاموش رہیں گے؟ میں صورت حال کو کئی گنا خراب دیکھ رہا ہوں۔ کئی گنا شدید ہنگامے، دھماکے، خونریزی، سڑکوں پر لڑائی! کیا ایسی صورت میں القاعدہ اور داعش جیسی خونخوار تنظیمیں خاموش رہیں گی؟ اور ہاں، کیول صاحب! آپ ہر سال پاکستان آتے ہیں تو آپ کے خیر مقدم کی بہت سی تقریبات ہوتی ہیں۔ آپ ہمارے مخلص دوست ہیں مگر میں ہمدردانہ مشورہ دے رہاہوں کہ آپ نے اکتوبر میں پاکستان آنا تھا مگر اس بار پاکستان نہ آئیں، یہاں لوگوں کے مزاج بہت گرم ہیں، اب شائد پہلے جیسا خیر مقدم نہ ہو سکے!
٭محترم قارئین! آج ذہن بہت دور جا رہا ہے۔ میں نے کشمیر کے بارے میں بہت جذباتی نظمیں کہی ہیں، آزاد کشمیر میںکنٹرول لائن (تیتری نوٹ) پر کھڑے ہو کر انڈیا کو سنائی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی میز پر کچھ دیر بیٹھنے کا اتفاق ہوا تو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ جاری کیا۔ (یہ داستان چھپ چکی ہے) میں نے اپنی تحریروں، تقریروں میں مسلسل کشمیرکی آزادی کی باتیں کی ہیں یوں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ مگر…مگر، اپنی پوری صلاحیتوں، اپنی علمی استعداد کے باوجود کشمیر کے عظیم نوحہ خواں احمد شمیم مرحوم کے دلگداز پرسوز کلام کے قریب پہنچنے کا دعویٰ نہیں کر سکا! آپ سب نے اس کی مشہور نظم ’’کبھی ہم خوبصورت تھے‘‘ ضرور پڑھی ہو گی۔ شیخ سعدی نے بغداد کی تباہی پر نوحہ لکھا۔ دلّی اُجڑی تو داغ اس کے اُجڑنے پر رویا…اور احمد شمیم! اس کی اس نظم کو بار بار پڑھا ہے، اور بار بار اشکوں کے ساتھ ہم نوا ہوا ہوں۔ یہ نظم ذرا طویل ہے۔ اس کی چند لائنیں پڑھئے: احمد شمیم نے کہا۔ ’’…کبھی ہم خوبصورت تھے… نئے دن کی مُسافت… جب کرن کے ساتھ… آنگن میں اترتی تھی…تو ہم کہتے تھے… اَمّی! ہمیں ماتھے پر بوسہ دو…کہ ہم کو تتلیوں کے…جگنوئوں کے دیس جانا ہے… ہمیںرنگوں کے جگنو…روشنی کی تتلیاں …آواز دیتی ہیں…ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو!‘‘ 1929ء میں سری نگر میں پیدائش اور 1982ء میں راولپنڈی میں وصال تک کے سفر میں احمد شمیم نے بہت کچھ کہا۔ کشمیر کے بارے میں اس کے مزید شعر پڑھ لیجئے:کیا بات کہہ گیا کہ ’’…جب ست رنگی آوازوںکی برکھا برسے دھرتی پر… سارے زخم ہرے ہو جائیں، یاد آئے کشمیر بہت!‘‘ اور یہ کہ ’’خاک میں ملتے دیکھے ہم نے کیا کیا راج دُلارے،…کیسی کیسی سُندر کلیاں! کیسے پیارے پیارے لوگ!…‘‘
 قارئین محترم! چین نے بھارت کو تازہ دھمکی دی ہے۔ اس پر مجھے 1962ء کی چین بھارت جنگ میں چین کے ہاتھوں بھارت کی وہ ’بھرپور‘ شکست یاد آ گئی ہے جب بھارت کے 14 ہزار فٹ بلند برفانی شمال مشرقی علاقے میں ضلع تیز پورکاڈپٹی کمشنر چینی فوج کو آتے دیکھ کر دفتر کو کھلا چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ اس پر چین نے خود ہی جنگ بند کر دی تھی۔ اس لڑائی میں چین کے ایک لاکھ اور بھارت کے ایک لاکھ 20 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا۔ بھارت کے 1383 فوجی ہلاک ،1047 زخمی 1696 لاپتہ ہوئے۔ چین کے 722 فوجی ہلاک 1697 زخمی ہوئے۔ 14 ہزار فٹ برف پوش انتہائی بلند اور سنگلاخ پہاڑیوں میں دونوں طرف سے فضائی اور بحری افواج حصہ نہ لے سکیں۔ اس جنگ کا اختتام بڑے دلچسپ طریقہ سے ہوا۔ بین الاقوامی مداخلت پر چین نے الزام لگایا کہ بھارتی فوج سرحد پر 32 چینی بھیڑیں ہانک کر لے گئی ہے، واپس نہیں کی جا رہی تھیں، اس لئے سرحد پار کرنی پڑی۔ ہماری بھیڑیں واپس آ جائیں تو جنگ روک دیں گے۔ بھارت نے ایسے واقعہ سے تو انکار کیا مگر فوری طور پر 32 اعلیٰ بھیڑیں چینی کمانڈر کو پیش کر دیں۔ کمانڈر نے کہا کہ یہ تو وہ بھیڑیں ہی نہیں ہیں۔ چلو ٹھیک ہے، جنگ بند کر دیتے ہیں!

تازہ ترین خبریں